உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اقلیتوں کی زبوں حالی، مسلمانوں کی معاشی بدحالی کا ذمہ دار کون؟

    اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ فی الوقت ملک میں سب سے بڑی اقلیت سب سے زیادہ مسائل سے دوچار ہے، ہر محاذ پر ناکامی اور افسردگی سبب لوگوں عدم تحفظ کا احساس پنپ رہا ہے ۔

    اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ فی الوقت ملک میں سب سے بڑی اقلیت سب سے زیادہ مسائل سے دوچار ہے، ہر محاذ پر ناکامی اور افسردگی سبب لوگوں عدم تحفظ کا احساس پنپ رہا ہے ۔

    اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ فی الوقت ملک میں سب سے بڑی اقلیت سب سے زیادہ مسائل سے دوچار ہے، ہر محاذ پر ناکامی اور افسردگی سبب لوگوں عدم تحفظ کا احساس پنپ رہا ہے ۔

    • Share this:
    یہ سوال بہت اہم ہے کہ مسلمانوں کی معاشی بدحالی کا ذمہ دار کون؟ سنجیدہ سیاسی قیادت کا فقدان، تعلیم کی کمی ، مذہبی بنیادوں پر استوار ہوتی سیاست یا مسلمانوں کی عدم بیداری ؟ اس باب میں مختلف سیاسی، ملی سماجی ، مذہبی اور تعلیمی میدانوں سے جڑے دانشور مختلف آراء کا اظہار کرتے ہیں سماج وادی پارٹی کے معروف دانشور بلال نورانی کے مطابق مسلمانوںں کی زبوں حالی کے لئے کسی بھی ایک سبب یا جماعت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اس صورتحال کے لئے دوسرے لوگ کم خود مسلمان زیادہ ذمہ دار ہیں جو ابھی بھی صدیوں پرانے ماضی کے روشن کارناموں سے اپنے حال اور مستقبل کو تاریک بنا رہے ہیں۔ معروف دانشور اور میدان تعلیم میں نمایاں خدمات انجام دینے والے سماجی و سیاسی کارکنکلیم الحفیظ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی اپنی سیاسی قیادت نہ ہونے کے سبب ان کی آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہےکسی فرد کی خوش حالی اور ترقی اس کی معاشی حالت پر منحصر ہوتی ہے۔ امیر آدمی کو سب کچھ مل جاتا ہے۔غریب صرف آرزو کرکے رہ جاتا ہے۔معاشی حالات بہتر ہوں تو بچے بھی اچھے اسکول میں تعلیم پاتے ہیں۔ بڑے کاروبار بھی کیے جاسکتے ہیں۔ سیاست میں بھی مقام بنایا جاسکتا ہے۔ پیسہ نہیں ہے تو اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔منفی سیاسی نظریات کے لوگ کہتے ہیں کہ کسی کو تباہ کرنا ہو تو پہلے ہو تو اس کے معاش کو تباہ کرو ، آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔مسلمانوں کے معاشی ذرائع اور کاروباری سرگرمیاں ایک ایک کرکے ختم کی جاتی رہیں اور مسلمان کارخانے دار سے مزدور ہوگئے۔

    اتر پردیش جہاں کے ہر بڑے شہر میں ایک بڑی صنعت تھی اور اس صنعت میں مسلمان غالب تھے۔آج وہ تمام صنعتیں یا تو دم توڑ رہی ہیں یا پھر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی ہیں۔ کانپور میں چمڑے، فیروزآباد میں چوڑیاں، مرادآباد میں پیتل کے برتن،لکھنو میں چکن کڑھائی،،رام پور کے چاقو،بریلی کا سرما، قنوج کا عطر، بنارس کی ساڑھی، سہارنپور میں ہینڈی کرافٹ،علی گڑھ کے تالے اور میرٹھ کی قینچیاں زمانے بھر میں مشہور ہوا کرتی تھیں اور ان میں سے ہر ایک صنعت میں مسلمان آگے تھے۔ وہیں اس کے بہترین کاریگر تھے،لیکن رفتہ رفتہ حکومت نے سازش کرکے منصوبہ بند طریقے پر ان صنعتوں کو مسلمانوں سے چھین لیا۔ کپڑا بنائی اور رنگائی تک کے کام جو خالص مسلمانوں سے وابستہ تھے آج غیرمسلموں کیبدسترس میں ہیں۔ یہاں تک گوشت کے بڑے تاجر اور ایکسپورٹرس غیر مسلم ہیں۔ اس وقت میرے سامنے ایک رپورٹ ہے جسے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے لکھنو میں جاری کیا ہے۔اس میں اتر پردیش کے مسلمانوں کے تعلق سے چشم کشا اعداد و شمار دیے گیے ہیں۔ ان اعداو شمار کا مطالعہ خون کے آنسو رلاتا ہے۔کوئی بھی تو ایسا باعزت شعبہ نہیں جہاں ہم کسی ہم وطن قوم سے آگے ہوں،تعلیم، صحت، کاروبار، زراعت، سرکاری ملازمتیں ہر جگہ ہم دلتوں سے بھی بہت پیچھے ہیں۔

    البتہ جیلوں میں اپنی آبادی سے زیادہ ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ مسلمانوں کا ذی شعور طبقہ یہاں نہ ہو،یہاں مسلمانوں کے بڑے بڑے دارالعلوم ہیں۔ زیادہ ترملی جماعتوں کے سربراہ اسی ریاست سے ہیں،مسلم سیاست میں بھی بڑے بڑے رہنما یہاں پیدا ہوئے،اس کے باوجود مسلمان ہر دن ڈوبتے سورج کے ساتھ پسماندگی کی مزید گہرائیوں میں جارہے ہیں۔کلیم الحفیظ یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی بھی قوم کی خوش حالی اس کی آمدنی کے بجائے اس کے خرچ سے ناپی جاتی ہے،اس لیے کہ کوئی شخص اسی وقت خرچ کرسکتا ہے جب اس کی آمدنی ہو۔ملک میں ایک فیملی ماہانہ 988روپے خرچ کرتی ہے،اتر پردیش کا مسلمان صرف 752روپے ماہانہ خرچ کرتا ہے۔یعنی ایک پورا گھر 25روپے یومیہ خرچ کرتا ہے۔باقاعدہ ماہانہ اجرت پانے والے مزدوروں کا اوسط ملک میں 31.6ہے اور یوپی کے مسلمانوں کا یہ اوسط 25.6ہے۔ یہی حال سروس سیکٹر میں مزدوری کا ہے۔
    یوپی کے مسلمانوں کا اوسط 27.3فیصد ہے۔جب کہ پورے ملک میں یہ شرح 32.2فیصد ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اتر پردیش کا مسلمان کم آمدنی والے زمرے میں سب سے نیچے ہے۔سن 1993-94کی ایک رپورٹ کے مطابق زراعت کے شعبے میں مسلمان 44.7فیصد تھے جو 2009-10میں گھٹ کر 36.5فیصد رہ گئے۔جب کے اسی شعبے میں اتر پردیش کے دلتوں کی شرح 51.4اور او بی سی غیرمسلموں کی شرح 65.5ہے۔انتہا تو یہ ہے کہ 48.5فیصد مسلمانوں کے پاس اپنا گھر تک نہیں ہے۔سرکاری خدمات میں نمائندگی کمیونٹی کی حیثیت کا تعین کرنے کا ایک اہم اشارہ ہے۔ یہ لوگوں کو خوش حال بھی بناتا ہے اوراستحکام بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی اور ملازمت کے سلسلے میں ان کے ساتھ غیر اعلانیہ امتیازی سلوک کی پالیسی کی وجہ سے سرکاری ملازمتوں میں ان کی نمائندگی کم ہے۔ UP کے ایک سروے سے واضح ہوتا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں او بی سی مسلمانوں کا حصہ آبادی میں ان کے حصے سے بہت کم ہے۔ دوسری طرف غیر مسلم او بی سی ذاتوں کوسرکاری خدمات میں زیادہ نمائندگی دی گئی ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ ریزرویشن کا فائدہ زیادہ تر غیر مسلم او بی سی جیسے یادو، کرمی اور جاٹ حاصل کرلیتے ہیں۔اسی طرح اقلیتوں کے نام پر جو سرکاری مراعات ہیں انھیں جین،بدھ،اور سکھ سماج لیجاتا ہے۔دانشوروں اور سیاسی مبصرین کے تبصرے اور دعوے اپنی جگہ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اگر ابھی بھی اقلیت خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوئی تو مستقبل میں زمینیں مزید تنگ ہو جائیں گی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: