ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لاک ڈاؤن میں مزدوروں کے سامنے روزی روٹی کامسئلہ , پست ہو رہا ہے حوصلہ ٹوٹ رہا ہے صبر 

روز کام کرکے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے والا سماج کا غریب اور مزدور طبقہ لاک ڈاؤن کے دوران سب سے زیادہ پریشان ہے۔ کام اور روزگار کے بغیر گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ کا وقت گزرنے کے بعد اب ان مزدوروں کا حوالہ اور صبر ٹوٹ رہا ہے اور یہ غریب اب لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

  • Share this:
لاک ڈاؤن میں مزدوروں کے سامنے روزی روٹی کامسئلہ , پست ہو رہا ہے حوصلہ ٹوٹ رہا ہے صبر 
روز کام کرکے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے والا سماج کا غریب اور مزدور طبقہ لاک ڈاؤن کے دوران سب سے زیادہ پریشان ہے۔ کام اور روزگار کے بغیر گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ کا وقت گزرنے کے بعد اب ان مزدوروں کا حوالہ اور صبر ٹوٹ رہا ہے اور یہ غریب اب لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

روز کام کرکے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے والا سماج کا غریب اور مزدور طبقہ لاک ڈاؤن کے دوران سب سے زیادہ پریشان ہے۔ کام اور روزگار کے بغیر گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ کا وقت گزرنے کے بعد اب ان مزدوروں کا حوالہ اور صبر ٹوٹ رہا ہے اور یہ غریب اب لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔


آج ایک مئی یوم مزدور کے موقع پر ایسے ہی دیہاڑی مزدوروں کے حالات کا جب ہمنے جائزہ لیا تو حالات کہ اندازہ ہو یا بغر کام اور مزدوری کے پانچ ہفتے کا وقت کسی طرح گزارنے کے بعد اب ان مزدوروں کا حوصلھ جواب سے رہا ہے صبر ٹوٹتا جا رہا ہے۔ دیہاڑی مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والا یہ مزدور طبقہ اب دانے دانے کو محتاج ہو رہا ہے۔ روڑی مجری توڑ کر ، رکشا چلا کر  مزدوری کرکے روزی روٹی کا انتظام کرنے والا یہ طبقہ اب زندہ رہنے کے لیے دوسروں کے رحم وکرم پر ایک ایک دن کاٹ رہا ہے۔


رکشہ چلانے والے عبدل اور روڑھی بجری توڑ کر گزارا کرنے والے ناصر کا کہنا ہے کہ اب حالات یہ ہو گئے ہیں کہ وہ ایک وقت کھانا کھاتے ہیں اور دوسرے وقت بھوکے رہنے کو مجبور ہیں۔ لاک ڈاؤن کے شروعاتی مرحلے میں تو کچھ دنوں تک لوگوں نے راشن دیگر انکی مدد کر دی تھی لیکن اب حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اور آگے آنے والے دنوں میں روٹی کا انتظام کیسے ہوگا انہیں معلوم نہیں ، دیہاڑی مزدوری کرنے والے اشفاق روز چوراہے پر اس جگہ پر آکر اس اُمید میں بیٹھ جاتے ہیں کہ شاید آج کوئی کام مل جائے لیکن بعد میں مایوس ہوکر گھر لوٹ جاتے ہیں ، مزدور طبقہ کے حالات دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان افراد کی پریشانی اور ضرورتوں کے تعلق سے  اگر جلد ہی حکومتیں کوئی فیصلہ نہیں کرتی ہیں تو حالات  تشویش ناک ہو جائین گے

First published: May 02, 2020 06:36 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading