உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تاریخی آصفی امام باڑے میں ڈانس کے ویڈیو نے عبادت گاہوں کے تحفظ پر کھڑا کیا سوال، علماء کرام میں غم و غصہ

     لکھنئو کے تاریخی آصفی امام باڑے میں رقص کا جو ویڈیو وائرل ہوا ہے اس نے ایک بار پھر حساس لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ مذہبی مقامات کے تقدس کے تحفظ کے لئے لوگ سنجیدہ نہیں ہیں

    لکھنئو کے تاریخی آصفی امام باڑے میں رقص کا جو ویڈیو وائرل ہوا ہے اس نے ایک بار پھر حساس لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ مذہبی مقامات کے تقدس کے تحفظ کے لئے لوگ سنجیدہ نہیں ہیں

    لکھنئو کے تاریخی آصفی امام باڑے میں رقص کا جو ویڈیو وائرل ہوا ہے اس نے ایک بار پھر حساس لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ مذہبی مقامات کے تقدس کے تحفظ کے لئے لوگ سنجیدہ نہیں ہیں

    • Share this:
    لکھنئو: یوں تو امام بارگاہوں کے تقدس و تحفظ کے تعلق سے دعوے اور اعلان بھی کئے جاتے ہیں اور ممبروں سے دیے جانے والے خطبوں میں بھی تاکید و تلقین کی جاتی ہے لیکن رہ رہ کر ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جو حساس لوگوں بالخصوص مذہبی دائروں میں زندگی گزارنے والے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کردیتے ہیں۔ لکھنئو کے تاریخی آصفی امام باڑے میں رقص کا جو ویڈیو وائرل ہوا ہے اس نے ایک بار پھر حساس لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ مذہبی مقامات کے تقدس کے تحفظ کے لئے لوگ سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہیں علم نہیں یا دانستہ ایسے قدم اٹھائے جاتے ہیں ،ظاہر ہے امام بارگاہیں سیاحتی مقامات نہیں بلکہ عبادت گاہیں ہیں اور سبھی مذاہب ،مسالک اور طبقات و نظریات کے لوگ ان کا احترام کرتے ہیں۔ وائرل ہوئے ویڈیو کے تعلق سے علماء کرام کا غم و غصہ جائز ہے اور اس عمل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ مولانا سیف عباس کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی امام بارگاہوں کی بے حُرمتی کے واقعے سامنے آتے رہے ہیں لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مسلسل شکایات کے باوجود بھی حسین آباد ٹرسٹ اور انتظامیہ کے لوگ سنجیدہ نہیں ۔

    مولانا یعسوب عباس کہتے ہیں کہ آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ اس ضمن میں خصوصی تحریک چلائے گا ، مولانا علی حسین قمی کہتے ہیں کہ حکومت اور انتظامیہ تو ذمہدار ہے ہی لیکن وہ لوگ بھی ذمہدار ہیں جو صرف بیان دے کر سرخیوں میں آنا چاہتے ہیں ، عملی اقدامات نہ پہلے کئے گئے نہ اب کیے جائیں گے علی حسین قمی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں دو سال سے امام بارگاہوں میں مذہبی تقریبات کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ امام باڑوں کی تعمیر ہی اہل تشیع حضرات کے مذہبی پروگراموں کے انعقاد کے مقصد سے کی گئی تھی ، اس کے برعکس حکومت سیاحوں سے لاکھوں روپئے روز کما کر ہمارے اسلاف کی تعمیرات سے منفعت بھی حاصل کر رہی ہے اور ان کے تقدس کو بھی پامال کیا جارہاہے ۔



    اہم بات یہ ہے کہ حسین آباد ٹرسٹ کے چئر مین لکھنئو کے ڈی ایم ابھیشیک پرکاش ہیں ،اور ضلع انتظامیہ کے سپرد ہی چھوٹے اور بڑے دونوں امام باڑوں کی نگرانی کی ذمہداری ہے ۔بات اگر عوامی رد عمل کے تناظر میں کی جائے تو بیشتر لوگ یہی کہتے ہیں کہ ہماری قوم کے علماء امام بارگاہوں کے تحفظ و تقدس کے لئے سنجیدہ نہیں ہیں یہ لوگ ڈی ایم اور سی ایم سب سے ملتے ہیں لیکن صرف ذاتی مفاد پر مبنی کاموں کے لئے انہیں قوم و ملت اور اپنے تاریخی ورثے سے نہ کوئی ہمدردی ہے نہ دلچسپی۔۔علامہ ضمیر نقوی تو یہاں تک کہتے ہیں جو لوگ شیعہ وقف کو برباد کرنے والے بدعنوان وسیم رضوی کو سبق نہ سکھا سکے وہ ان بارگاہوں اور عبادت گاہوں کا تحفظ کیا کر پائیں گے۔۔بیشتر علماء صرف بیان بازی کرکے اپنے مفاد کے لیے لئے جد و جہد کررہے ہیں ۔

    معاملہ نہایت حساس اور لوگوں کے مذہبی جذبات سے جڑا ہے لیکن ابھی تک حکومت یا انتظامیہ کی جانب سے اس ضمن میں کسی بھی طرح کے رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے اور وہ وزیر بھی خاموش ہیں جو صبح شام یوگی جی اور مودی جی کے قصیدے پڑھتے ہیں ۔۔حالانکہ حکومت اتر پردیش کے وزیر برائے اقلیتی امور محسن رضا نے اس سلسلے میں ڈی ایم لکھنئو کو تحریری طور آگاہ کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا ہے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ امام بارگاہوں اور عبادت گاہوں کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے بہتر اقدامات کیے جائیں جس سے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں ۔آوازیں اٹھ رہی ہیں اور علماء کرام کے ساتھ ساتھ کئی تنظیمیں بھی صدائے احتجاج بلند کررہی ہیں اب دیکھنا یہی ہے کہ انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے کیا نوٹس لیا جاتا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: