உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نفرتوں کی بنیاد پر پروان چڑھتی سیاست امن پسند و اتحاد اور جمہوریت میں یقین رکھنے والوں کیلئے عبرت آمیز

    نفرتوں کی بنیاد پر پروان چڑھتی سیاست

    نفرتوں کی بنیاد پر پروان چڑھتی سیاست

    افسوسناک پہلو یہ ہے کہ شدت پسند سیاسی لوگوں کے اشارے پر انتظامی نظام کٹھ پتلی کی طرح ناچ کر سماج کے تانے بانے کو بکھیر نے میں معاونت کر رہاہے اور کچھ صحافی بھی دنیاوی خوشنودی اور مال و منال کی ہوس میں مثبت کام کرنے کے بجائے منفی رپورٹنگ کرکے ملک اور صحافت دونوں کو داغدار کررہے ہیں۔

    • Share this:
    لکھنئو۔ اتر پردیش میں سیاسی و سماجی حالات جس تیزی اور جس سمت میں تبدیل ہو رہے ہیں وہ امن پسند اور اتحاد و جمہوریت میں یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے عبرت آمیز ہیں۔ جیسے جیسے سیاست کی دستکیں اور آہٹیں تیز ہو رہی ہیں، ویسے ویسے ہی منفی سیاست میں یقین رکھنے والے لوگ مزید فعال ہورہے ہیں اور مذہبی بنیادوں پر ایک بار پھر ریاست اتر پردیش کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کہیں مذہبی جنون میں گرفتار لوگ انسانیت کی حدوں کو پھلانگ رہے ہیں تو کہیں انتظامیہ کے لوگ بالخصوص پولس افسران اپنی تمام دستوری و جمہوری ذمہ داریوں اور فرائض کو بھول کر صرف سیاسی اشاروں پر وہ سب کچھ کررہے ہیں جس سے ایک مخصوص سیاسی جماعت کے حق میں آئندہ الیکشن کی فضا ہموار کی جاسکے۔ معروف عالم دین امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے بانی مولانا علی حسین قمی کہتے ہیں کہ اتر پردیش میں بر سر اقتدار حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے اور اقلیتوں کو تحفظ دینے سمیت سبھی محاذوں پر بری طرح ناکام ہوئی ہے اسی لئے وہ مذہب کی بنیاد پر نفرت کی فضا بنا کر لوگوں کا سیاسی استحصال کرنا چاہتی ہے۔

    افسوسناک پہلو یہ ہے کہ شدت پسند سیاسی لوگوں کے اشارے پر انتظامی نظام کٹھ پتلی کی طرح ناچ کر سماج کے تانے بانے کو بکھیر نے میں معاونت کر رہاہے اور کچھ صحافی بھی دنیاوی خوشنودی اور مال و منال کی ہوس میں مثبت کام کرنے کے بجائے منفی رپورٹنگ کرکے ملک اور صحافت دونوں کو داغدار کررہے ہیں۔ معروف سماجی کارکن اور سیاسی رہنما سید بلال نورانی کہتے ہیں کہ بی جے پی کی سمجھ میں آ چکا ہے کہ لوگوں کو مذہبی افیم دینا زیادہ آسان ہے اور جذباتی لوگ مذہبی نشے اور جنون میں وہ سب کچھ کرتے ہیں جس سے بی جے پی کی اغراض و مقاصد کی تکمیل ہوسکے اسی لئے اس نے اپنی انہی بنیادوں اور نظریے پر کام کرنا شروع کردیا ہے جس سے ہندو مسلم کے درمیان نفرت بھی پھیلائی جاسکے اور پھر ووٹ بھی حاصل کیا جاسکے۔

    پولس کسٹڈی میں الطاف کی موت پر حکومت کی خاموشی یہ بتانے کےلئے کافی ہے کہ ایک مخصوص مذہب کے لوگوں کو جان بوجھ کر ٹار کیٹ کیا جارہاہے۔ مسلم لیگ کے ریاستی صدر ڈاکٹر متین کے مطاطق رام مندر کی تعمیر سے لے کر دوسری تدبیروں کے پس منظر وں کا جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ اقتدار میں آئین و قانون اور جمہور چود ستور کی کوئی قدر و اہمیت نہیں اب یہ ملک دستور سے نہیں بلکہ ان چند لوگوں کو احکامات پر چلتا ہے جو اس جمہوری ملک کو ہندو راشٹر بنا کر دوسرے مذاہب کے لوگوں کے وجود کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی متین یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک بڑا طبقہ اس سازش کو سمجھ بھی رہاہے لیکن مجبور و بے بس نظر آتا ہے مسئلہ یہی ہے کہ جب ووٹ دینے کا وقت آتا ہے تو ایسا ماحول بنادیا جاتا ہے جس سے لوگ اپنے مسائل مستقبل اور سب کچھ بھول کر صرف مذہب کا راگ الاپنے لگتے ہیں۔۔بقول معراج فیض آبادیہماری نفرتوں کی آگ میں سب کچھ نہ جل جائے کہ ہم دونوں کو اس بستی میں آئندہ بھی رہنا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: