ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ایکسکلوزیو: دارالعلوم دیوبند میں بھی پڑھائے جاتے ہیں گیتا اور رامائن کے شلوک

دارالعلوم دیوبند میں دیگر مذاہب کی تعلیمات کی فراہمی کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ تقریباً گزشتہ چوبیس سال سے جاری ہے۔

  • Share this:
ایکسکلوزیو: دارالعلوم دیوبند میں بھی پڑھائے جاتے ہیں گیتا اور رامائن کے شلوک
دارالعلوم دیوبند میں دیگر مذاہب کی تعلیمات کی فراہمی کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ تقریباً گزشتہ چوبیس سال سے جاری ہے۔

لکھنئو/ دیوبند ۔ یہ خبر کچھ لوگوں کے لئے باعثِ حیرت ہو سکتی ہے کہ پوری دنیا میں ممتاز شناخت رکھنے والی اہم اسلامی درسگاہ دار العلوم دیوبند میں طلبا، کو قرآن کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کی تعلیمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ انہیں جہاں قرآنی آیات پڑھائی جاتی ہیں وہیں مخصوص کورسز کے زمرے میں گیتا اور رامائن کے شلوک بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ معروف اسلامی اسکالر اور دار العلوم دیوبند کے ترجمان اشرف عثمانی کے مطابق، خصوصی اور تقابلی مطالعے کے تحت یہاں مولویت کی سند حاصل کر چکے طلباء کو دوسرے مذاہب کی تعلیم اس لئے فراہم کی جاتی ہے کہ وہ اسلام کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کی اچھی تعلیمات سے بھی روشناس ہو سکیں۔ اس تقابلی اور مخصوص مطالعے کا مقصد مذاہب کی ضد، فوقیت اور ترجیحاتی نظریہ قطعی نہیں بلکہ روشنی سے کشید کرنے کا ایک ایسا عمل ہے جس سے مختلف مذاہب کو ماننے والے لوگ ایک دوسرے کے مذہبی جذبات سے واقف ہو کر مزید قریب آسکیں اور علم و عمل کی روشنی کے ذریعے سماجی فاصلے کم کر سکیں۔


دار العلوم دیوبند کے ترجمان اشرف عثمانی کے مطابق، خصوصی اور تقابلی مطالعے کے تحت یہاں مولویت کی سند حاصل کر چکے طلباء کو دوسرے مذاہب کی تعلیم اس لئے فراہم کی جاتی ہے کہ وہ اسلام کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کی اچھی تعلیمات سے بھی روشناس ہو سکیں۔


دارالعلوم دیوبند میں دیگر مذاہب کی تعلیمات کی فراہمی کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ تقریباً گزشتہ چوبیس سال سے جاری ہے۔ اشرف عثمانی کہتے ہیں کہ طلباء کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ ، تفسیر، فلسفہ، افتاء، حدیث، عالمی مذاہب اور اخلاق وعقیدے پر مبنی تعلیمات سے روشناس کرایا جانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ایک مکمل عالم کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل کے لئے کسی ایک مخصوص مذہب کا جان لینا ہی کافی نہیں بلکہ دوسرے مذاہب سے واقفیت بھی ضروری ہے۔


دار العلوم دیو بند میں طلبا کو دوسرے مذاہب سے روشناس کرانے کے لئے جو کاوشیں کی گئی ہیں ان میں بزرگ اکابرین کے ساتھ ساتھ مولانا عبدالحامد نے بھی بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ جنہوں نے اہم کتابوں کی تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ  اس مخصوص مطالعے کا مقصد واضح کرتے ہوئے بارہا تحریر کیا ہے کہ تضاد و تقابل پر مبنی مطالعے کا مقصد اپنی اصلاح  اور خوشگوار رابطوں کے انسلاک کی فضا ہموار کرنا ہے۔ کسی خاص مذہب کی خامیوں، کمزوریوں اور توہم پر مبنی عقائد کی تحقیق یا تنقید نہیں۔
First published: Jun 19, 2020 02:31 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading