اپنا ضلع منتخب کریں۔

    طلاق ثلاثہ کے بعد اب بندپابندی لگائیں حلالہ اورتعدد ازدواج پر،خواتین نے سپریم کورٹ میں داخل کی عرضی

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    تین بچوں کی ایک ماں نےتعدد ازدواج اور حلالہ کو غیر آئینی قرار دئے جانے کو لیکر سپریم کورٹ کا رخ کیاہے۔یہ خاتون دو مرتبہ انسٹینٹ طلاق ثلاثہ کا درد جھیل چکی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔تین بچوں کی ایک ماں نےتعدد ازدواج اور حلالہ کو غیر آئینی قرار دئے جانے کو لیکر سپریم کورٹ کا رخ کیاہے۔یہ خاتون دو مرتبہ انسٹینٹ طلاق ثلاثہ کا درد جھیل چکی ہے۔

      اس سے پہلے بی جے پی لیڈر نے اشونی اپادھیائے نے بھی کثرت ازدواج اور نکاح حلالہ پر پوری طرح سے روک لگانے کیلئے عرضی دائر کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے خواتین کے مولک حقوق میں دھوکہ ہوتا ہے۔

      اس کے علاوسائرہ بانو کا معاملہ بھی اسی طرح کا تھا ۔جس میں انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ تین طلاق کو جینڈر جسٹس کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دیا جائے۔5 ججوں کی بنچ کے ایک بنچ نے تین طلاق کو غیر اسلامک قرار دیکر اسے رد کر دیا تھا۔

      ثمینہ بیگم نے تین طلاق اور نکاح حلالہ کو غیر قانونی قرار دینے کو لیکر عرضی دائر کی ہے۔ثمینہ بیگم کی پہلی مرتبی شادی ہوئی تھی جس سے ان کے دو بیٹے ہوئے۔لیکن ان کے ساتھ کئے جانے والی مسلسل مار پیٹ اور ہراساںی سے پریشان ہوکر جب انہوں نے پولیس میں شکایت کی تو شوہر نے انہیں طلاق دے دیا۔بعد میں پہلے سے شادی شدہ ایک آدمی سے انہیں دوبارہ شادی کرنے کیلئے مجبور کیا گیا۔شادی کے بعد وہ پھر سے حاملہ ہو گئیں۔اس کے بعد میں دوسر شوہر نے بھی معمولی سی کہا سنی کے چلتے ثمینہ کو فون پر ہی طلاق دے دیا۔

      اب ثمینہ اپنے تین بچوں کے ساتھ اکیلے رہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے نہ صرف خود کیلئے عوا می عرضی دائر کی ہے بلکہ ان لوگوں کیلئے بھی انہوں نے عدالت سے دوسری خواتین نے بھی اس طرح کی دقتوں کا سامنا کیا ہے ۔انہوں نے عدالت سے گزارش کی ہیکہ مسلم پرسنل لا ء( شریعت) ایپلیکیشن ایکٹ،1937 کی دفعہ 2کو آئین کے  آرٹیکل 14،15،21 اور25کی خلاف ورزی کرنے والے اعلان کیا جئے کیونکہ یہ تعدد ازدواج اور نکاح حلالہ کو تسلیم کرتا ہے۔
      First published: