ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ کے اقلیتی کردار کو کوئی خطرہ نہیں : وائس چانسلر طلعت احمد

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد کا شمار ملک کے معروف سائنسدانوں میں کیا جاتا ہے۔ سائنس کے میدان میں اپنے تحقیقی کاموں کے لئے انہیں متعدد ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے۔ جامعہ میں وائس چانسلر کی حیثیت سے اپنی تقریباً دو سالہ مدت کار میں انہوں نے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی سمیت تحقیقی کاموں پر خصوصی توجہ دی ہے اور کئی نئے کورسیز متعارف کرائے ہیں۔ پروفیسر طلعت جامعہ کو خصوصی طور پر تحقیق کے شعبوں میں نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم رکھتے ہیں۔ پردیش ۱۸ اردو کو دئیے گئے اپنے ایک تفصیلی انٹرویو میں انہوں نے جامعہ میں اپنی کارگزاریوں، مستقبل کے منصوبوں اور جامعہ کے اقلیتی کردار جیسے موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی۔ پیش ہیں اس بات چیت کے چند اہم اقتباسات:

  • Pradesh18
  • Last Updated: Mar 21, 2016 12:29 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جامعہ کے اقلیتی کردار کو کوئی خطرہ نہیں : وائس چانسلر طلعت احمد
جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد: فائل فوٹو

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد کا شمار ملک کے معروف سائنسدانوں میں کیا جاتا ہے۔ سائنس کے میدان میں اپنے تحقیقی کاموں کے لئے انہیں متعدد ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے۔ جامعہ میں وائس چانسلر کی حیثیت سے اپنی تقریباً دو سالہ مدت کار میں انہوں نے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی سمیت تحقیقی کاموں پر خصوصی توجہ دی ہے اور کئی نئے کورسیز متعارف کرائے ہیں۔


پروفیسر طلعت جامعہ کو خصوصی طور پر تحقیق کے شعبوں میں نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم رکھتے ہیں۔ پردیش 18 اردو کو دئیے گئے اپنے ایک تفصیلی انٹرویو میں انہوں نے جامعہ میں اپنی کارگزاریوں، مستقبل کے منصوبوں اور جامعہ کے اقلیتی کردار جیسے موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی۔ پیش ہیں اس بات چیت کے چند اہم اقتباسات:

سوال: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں وائس چانسلر کی حیثیت سے آپ کے تقریباً دو سال پورے ہو رہے ہیں۔ اس دوران آپ کی کیا حصولیابیاں رہی ہیں؟

جواب: دیکھئے، دلی میں حصول تعلیم کے لئے زیادہ ترطلبہ دہلی یونیورسٹی یا جے این یو کا رخ کیا کرتے تھے۔ میں اکثر وبیشر سوچا کرتا تھا کہ جامعہ ایک قدیم ترین یونیورسٹی ہے تو پھر طلبہ کی اکثریت یہاں کا رخ کیوں نہیں کرتی۔ لہذا میری کوشش ہے اور آئندہ بھی یہی رہے گی کہ میں جامعہ کو اس مقام پر لاوں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ جامعہ میں کافی کچھ کیا جا رہا ہے، بلکہ جامعہ میں تو کئی نئی چیزیں ایسی ہوئیں جو کہ دہلی یونیورسٹی اور جے این یو میں نہیں ہوئیں۔ مثال کے طور پر، پنڈت مدن موہن مالویہ، کوشل کیندرا، کمیونٹی کالج اور بی واک ڈپلوما جیسے پروگرام صرف اسی یونیورسٹی میں شروع ہوئے۔ اسی طرح سے گیان( گلوبل انیشیٹیو آن اکیڈمک نیٹ ورک) پروگرام کی بات کریں، تو سب سے زیادہ پروگرام یہیں پر آیا ہے۔ میری اس مدت میں یوجی سی کے چئیرمین کے ہاتھوں سول سروسیز امتحانات کے آرزومند طلبہ ( اقلیتیں، درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور خواتین) کے لئے ہاسٹل کی توسیع کا افتتاح عمل میں آیا۔ تعلیمی سال 2015۔ 2016سے چار سو بستر والا ہاسٹل لڑکیوں کے لئے تیار ہے۔ درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور اقلیتی لڑکیوں کے لئے ایک ہاسٹل اور اسی طرح لڑکوں کے لئے ایک ہاسٹل کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ خواتین کی خودمختاری اور صنفی مساوات کے پیش نظر کیمپس میں ایک کینٹین شروع کیا ہے جس کا نظم ونسق خواتین ہی دیکھتی ہیں۔ حاشیہ پر پڑی اور غیر مراعات یافتہ خواتین کے اندر ہنرمندی کے فروغ سے متعلق ایک پروگرام چلایا جا رہا ہے۔ داخلہ جاتی عمل میں اصلاحات کی گئی ہیں۔ تمام کورسوں کے لئے آن لائن درخواست فارم کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ داخلہ جاتی عمل کے لئے ملک بھر میں دس نئے سینٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ نئے کورسیز میں صنفی مطالعات میں ایم اے، بایوفزکس میں ایم ایس سی، پبلک ہیلتھ میں پی جی ڈپلوما، ڈزاسٹر مینجمنٹ میں ڈپلوما اور آرٹ ہسٹری میں پی ایچ ڈی شامل ہیں۔


Jamia university


سوال: آپ خود ایک بڑے ریسرچ اسکالر ہیں۔ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم میں کوئی ایسا پروگرام شروع کیا ہے جس سے ریسرچ کے طلبہ کو فائدہ ہو؟
جواب: یہ آپ نے ایک اچھا سوال کیا۔ چونکہ میرا تعلق تحقیقی کاموں سے رہا ہے، لوگ مجھے میرے ریسرچ کے کاموں سے زیادہ جانتے ہیں۔ اس لئے اس پر ہم نے خصوصی توجہ دی ہے۔ در اصل فیلوشپ کے لئے طلبہ یہاں درخواست نہیں دیتے تھے۔ ہم نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ آپ لوگ پروجیکٹ لائیں۔ اس کے لئے درخواست دیں۔ اس سلسلہ میں ہم نے ایک نیا پوسٹ بنایا ڈین ریسرچ کااور ایک نیا پوسٹ ڈین اکیڈمکس کا۔ ان کے ذریعہ طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اپنی یونیورسٹی کے لئے فنڈڈ پروجیکٹ لائیں۔ ساتھ میں بچوں کے لئے فیلوشپ لائیں۔ کیونکہ میرے خیال میں صرف تدریس سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کو مشہور کرنے کے لئے تدریس کے ساتھ ساتھ تحقیق بھی لازمی ہے۔ جب آپ تدریس کے ساتھ ریسرچ کریں گے اور اچھی سے اچھی جگہ اپنے پیپر کو شائع کریں گے تو جب لوگ آپ کے ریسرچ پیپر کو پڑھیں گے تو وہ سمجھیں گے کہ جامعہ میں اس طرح کا بھی کام ہو رہا ہے۔ پھر وہ آپ کے پیپر کا حوالہ دیں گے۔ اس سے جامعہ کا نام روشن ہو گا۔
دوسری بات یہ کہ ہم نے یہاں پروموشن کے لئے ایک اسکیم شروع کی ہے۔ یعنی ریسرچ پیپر اگر آپ نے اچھا لکھا ہے تبھی آپ کو پروموشن ملے گا۔ مزید برآں، ہم نے دوسری یونیورسٹیوں کے ساتھ رابطہ بڑھانا شروع کیا ہے۔ سب سے پہلے جامعہ ملیہ اور جامعہ ہمدرد کے مابین رابطہ بڑھایا۔ کیونکہ کچھ کورسیز ان کے یہاں ہیں جو ہمارے یہاں نہیں اور کچھ کورسیز ہمارے یہاں ہیں، ان کے یہاں نہیں۔ مثلاً ہمارے یہاں ڈینٹسٹری ہے جب کہ ان کے یہاں میڈیکل ہے۔ ان کے یہاں یونانی میڈیسین کا پورا سسٹم ہے جو آیوش کے تحت آتا ہے۔ آیوش کے لوگوں کو ہم نے مدعو کیا ہے کہ ان کے حکیم ہمارے یہاں میڈیشنل پلانٹ لگائیں۔ ہماری بایو کیمسٹری اور بایو ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر نئے ریسرچ کریں۔ ہم نے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کھولنے کے لئے انہیں یہاں جگہ دی ہے۔ عربی اور فارسی زبانوں میں یونانی طریقہ علاج کے جو قدیم نسخے ہیں ، ہم نے ان سے کہا ہے کہ ہمارے یہاں عربی شعبہ اور فارسی شعبہ والوں سے ان کے ترجمے کرائیں۔ اس سے یونانی میڈیسین میں نئی چیزیں دریافت ہوں گی۔ اسی کے ساتھ ڈزاسٹر مینجمنٹ میں ہم ایک نیا شعبہ شروع کرنے جا رہے ہیں۔ ہم نے ڈپلوما کا کورس پہلے ہی شروع کردیا ہے۔ کیونکہ سیلاب، زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات یا پھر موسم کے بدلنے سے جو مشکلات آتی ہیں، ان کے بارے میں جانکاری ہونی چاہئے۔ دوسرے یہ کہ خارجی ملکوں کی یونیورسٹیوں سے بھی رابطہ میں ہیں۔ ارجنٹائنا، یوروپ اور سوئٹزرلینڈ کے اپنے اپنے فن کے ماہرین یہاں آ چکے ہیں اور یہ سلسلہ برقرار رہے گا۔ اس سے یہاں کے طلبہ کو ان کے ساتھ کام کرنے اور پھر کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ تو یہ سب نئی پہل ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔

سوال: آپ نے جامعہ میں یونانی میڈیسین لانے کی بات کہی، جبکہ وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد آپ نے جامعہ میں میڈیکل کالج کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔ میرا مطلب ایم بی بی ایس وغیرہ سے ہے؟
جواب: دیکھئے، ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ہم میڈیکل کالج نہیں کھولیں گے۔ اس کے لئے ہمیں سب سے پہلے زمین کا مسئلہ طے کرنا ہو گا۔ ہم زمین کے لئے دہلی اور یوپی حکومت سے رابطہ میں ہیں اور سپریم کورٹ نے بھی دونوں حکومتوں سے اس مسئلہ کو حل کرنے کو کہا ہے۔ اس سمت میں ہماری کوشش جاری ہے، ایک مرتبہ جب زمین مل جائے گی تو میڈیکل کالج کھولنے کا راستہ ازخود ہموار ہو جائے گا۔ ہمیں پوری امید ہے کہ اس میں ہمیں کامیابی ملے گی۔
سوال: اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے ابھی حال ہی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار پر سوال کھڑے کئے ہیں۔ کیا آپ کی نظر میں جامعہ کا اقلیتی کردار خطرہ میں ہے؟
جواب: میری نظر میں جامعہ کے اقلیتی کردار کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔ کمیشن کے ذریعہ جامعہ کو اقلیتی کردار کا درجہ دیا گیا ہے اور حکومت نے پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت کمیشن قائم کیا تھا۔ کمیشن کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ اداروں کا جائزہ لے کر انہیں اقلیتی کردار کا درجہ دے ۔ ان اداروں میں جین، سکھ اور عیسائیوں کے بھی کئی کئی ادارے ہیں جنہیں اقلیتی کردار کا درجہ دیا گیا۔ اقلیتی کردار ختم کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے اسے منظوری لینی ہو گی اور مجھے نہیں لگتا کہ پارلیمنٹ ابھی اس حالت میں ہے کہ وہ اس طرح کا کوئی قدم اٹھائے۔ لہذا ہم لوگوں کو اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
سوال: جے این یو تنازعہ پر آپ کا کوئی ردعمل؟
جواب: جے این یو اس تنازعہ سے جلد ہی باہر نکل آئے گا۔ وہاں حالات معمول پر آ جائیں گے۔ وہاں جو بھی صورت حال ہے، وہ ایک عارضی صورت حال ہے۔
سوال: مستقبل میں یونیورسٹی کے لئے آپ کے کیا منصوبے ہیں؟
جواب: ہمارے جو نوجوان بچے بیرونی ملکوں میں ہیں اور جو بہت ذہین ہیں، ان کے لئے ہم یہاں ایک انٹر ڈسپلنری ایڈوانس ریسرچ سینٹر کھولنا چاہتے ہیں۔ یہ میری ترجیح ہے۔ اس سینٹر میں الگ الگ شعبوں کے ماہرین رکھے جائیں گے تاکہ یہ آپس میں مل کر کچھ نئے ایریاز کو دریافت کریں۔ چونکہ یہ بچے تربیت یافتہ ہیں اور وہ امریکہ، لندن اور جاپان سے آئیں گے ۔ انہیں حکومت فیلوشپ دیتی ہے۔ مجھے انہیں صرف جگہ دینا ہے۔ جب اس میں ریسرچ پر خصوصی توجہ دی جانے لگے گی، جامعہ ایک آئیکون سینٹر بن جائے گا۔ اسی کے ساتھ یہاں ہاسٹل کی قلت ہے۔ ہم اس پر بھی کام کر رہے ہیں۔


AJKMCRC


سوال: سال 2020 میں جامعہ کے قیام کے سو سال پورے ہونے جا رہے ہیں۔ اسے لے کر کوئی تیاری یا کوئی پروگرام ؟
جواب: 2020 کے لئے ہم ایک ویژن ڈاکیومنٹ تیار کر رہے ہیں جس کے لئے سینئر پروفیسر اور پانڈیچری اور کشمیر یونیورسٹی میں وائس چانسلر رہے پروفیسر جے اے کے ترین کو ہم نے چئیرمین بنایا ہے۔ اس میں ہماری الگ الگ فیکلٹی کے سینئر ممبر بھی ہیں۔ یہ سب مل کر اس پر کام کر رہے ہیں۔
سوال: جب آپ فرصت میں ہوتے ہیں تو آپ کی کیا مصروفیت رہتی ہے؟
جواب: ذرا مسکراتے ہوئے۔ دہلی یونیورسٹی میں اب بھی میری لیباریٹری ہے۔ وہاں میرے پی ایچ ڈی اسکالرز ہیں۔ جب بھی مجھے وقت ملتا ہے، میں زیادہ سے زیادہ وقت انہی کے ساتھ گزارتا ہوں۔ ان کی پی ایچ ڈی تھیسس پر کام کرتا ہوں۔ جب وقت ملتا ہے ان کے ساتھ فیلڈ ورک کرتا ہوں۔ حالانکہ بڑی مشکل سے مجھے وقت مل پاتا ہے۔
ندیم احمد کے ساتھ بات چیت پر مبنی

First published: Mar 21, 2016 12:17 PM IST