ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کیا ستمبر ۔ اکتوبر میں آئے گی کورونا وائرس کی تیسری لہر؟ جانئے AIIMS ڈائریکٹر نے کیا کہا

Covid-19 Third Wave: ایمس ڈائریکٹر نے کہا کہ پابندیاں ہٹائی جارہی ہیں اور ساتھ ہی ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ بہت زیادہ سفر بھی کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ پروٹوکول پر عمل نہیں کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہ حالانکہ ہم نے دیکھا ہے کہ معاملات کم ہوگئے ہیں اور اب ملک میں ایک دن میں تقریبا 30 ہزار معاملات آرہے ہیں جو کبھی چار لاکھ ہوا کرتے تھے ۔

  • Share this:
کیا ستمبر ۔ اکتوبر میں آئے گی کورونا وائرس کی تیسری لہر؟ جانئے AIIMS ڈائریکٹر نے کیا کہا
کیا ستمبر ۔ اکتوبر میں آئے گی کورونا وائرس کی تیسری لہر؟ جانئے AIIMS ڈائریکٹر نے کیا کہا

نئی دہلی : ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا نے جمعرات کو کہا کہ کورونا وائرس انفیکشن کی تیسری لہر کبھی بھی آسکتی ہے ۔ گلیریا نے حال ہی میں سامنے آئے چوتھے مرحلہ کے سروے کے نتائج کے سلسلہ میں کہا کہ جب ہم ہندوستان کی دوتہائی آبادی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس کو جنرل طور پر دیکھا جانا چاہئے ۔ ہمارے پاس ابھی بھی ایسی کئی جگہیں ہیں ، جہاں ایک بڑی آبادی زیادہ حساس ہوسکتی ہے ، اس لئے آپ کے پاس ایسے علاقے ہوسکتے ہیں ، جہاں لوگوں کو انفیکشن ہوا ہے ۔ کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں انفیکشن رابطوں کے درمیان پھیلتا ہے ۔ وہیں کچھ ایسے علاقے ہوسکتے ہیں ، جہاں ٹیکے کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور یہ ایسے علاقے ہیں جہاں سے دو تہائی کا بڑا حصہ آسکتا ہے ۔


گلیریا نے سیرو سروے کے نتائج کا ہی تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ابھی بھی بڑی تعداد میں لوگ ٹیکہ لگوانے سے ہچکچا رہے ہیں ۔ ایسے لوگوں نے نہ تو ٹیکہ لگوایا ہے اور نہ ہی وہ متاثر ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ زیادہ حساس بن جاتے ہیں ، اس لئے سیرو سروے کے نتائج کا جنرلائزیشن نہیں کیا جاسکتا کہ یہ دو تہائی آبادی پورے ہندوستان کی ہے ۔


ایمس کے ڈائریکٹر نے اس سلسلہ میں کہا کہ ایسے علاقے بھی ہیں ، جہاں یہ آبادی دو تہائی سے زیادہ ہوسکتی ہے اور یہ کم بھی ہوسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب معاملات میں اچانک ہونے والے اضافہ کے پیش نظر نئی لہر آتی ہے ۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کب تک آئے گی ، اس کیلئے کچھ ہفتے بھی لگ سکتے ہیں اور کچھ مہینے بھی لگ سکتے ہیں ۔


کب آئے گی تیسری لہر؟

سی بی آئی کے سروے کے مطابق ستمبر سے اکتوبر تک کورونا کی تیسری لہر آنے کا اندازہ ہے ۔ گلیریا نے تیسری لہر کے آنے کو لے کر کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ستمبر یا اکتوبر تک تیسری لہر آسکتی ہے کیونکہ ہم دیکھیں کہ چیزیں کیسے برتاو کرتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پابندیاں ہٹائی جارہی ہیں اور ساتھ ہی ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ بہت زیادہ سفر بھی کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ پروٹوکول پر عمل نہیں کیا جارہا ہے ۔

انہوں نے مزید کہ حالانکہ ہم نے دیکھا ہے کہ معاملات کم ہوگئے ہیں اور اب ملک میں ایک دن میں تقریبا 30 ہزار معاملات آرہے ہیں جو کبھی چار لاکھ ہوا کرتے تھے ، لیکن اگر آپ اس کی پہلی لہر سے موازنہ کرکے دیکھتے ہیں تو تعداد ابھی بھی زیادہ ہے اور اگر ہم ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ دوسری لہر ختم ہوگئی ہے ۔

گلیریا نے کہا کہ پابندیاں تیزی سے ہٹنے کے بعد اور لوگوں کے سفر میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے اگلے کچھ ہفتوں میں یعنی ستمبر یا اس کے بعد ہم معاملات میں اضافہ دیکھ سکتے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 22, 2021 11:53 PM IST