ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہا ہے اردو کا یہ قدیم ادارہ

کسی زمانے میں اردو اور ہندی دونوں زبانوں کی کتابوں کے لئے فنڈ جاری کیا جا تا تھا لیکن اب اردو کے لئے ریاستی حکومت الگ سے کوئی کوئی فنڈ جاری نہیں کرتی۔ اردو کے مشہور مصنفین کی پچاس سے زائد کتابیں شائع کرنے والا یہ تاریخی ادارہ اب اپنی شناخت کھوتا جارہا ہے۔

  • Share this:
اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہا ہے اردو کا یہ قدیم ادارہ
کسی زمانے میں اردو اور ہندی دونوں زبانوں کی کتابوں کے لئے فنڈ جاری کیا جا تا تھا لیکن اب اردو کے لئے ریاستی حکومت الگ سے کوئی کوئی فنڈ جاری نہیں کرتی۔ اردو کے مشہور مصنفین کی پچاس سے زائد کتابیں شائع کرنے والا یہ تاریخی ادارہ اب اپنی شناخت کھوتا جارہا ہے۔

الہ آباد: کسی زمانے  میں اردو کی معیاری کتابیں شائع کرنے والا قدیم اشاعتی ادارہ  اب اپنے وجود کی  آخری لڑائی لڑ رہا ہے۔ یو پی  کے شہر الہ آباد میں واقع  اردو کا تاریخی ادارہ ’ ہندوستانی اکاڈمی ‘‘ اب صرف  عہد رفتہ  کی داستان بن کر رہ گیا ہے ۔ ہندوستانی اکاڈمی کو مشہور کشمیری پنڈت اور محب اردو  سر تیج بہادر سپرو  اور یو پی اسمبلی کے رکن خان بہار حافظ  سید ہدایت حسین نے ۱۹۲۷؍ میں  قائم کیا تھا ۔ یو پی میں اس وقت کے انگریز  لفٹیننٹ گور نر ویلیم مورس  کے خصوصی حکم نامے کے تحت ہندوستانی اکاڈمی کوقائم کیا گیا تھا۔

ہندوستانی اکاڈمی  اس زمانے  میں ریاست  کا  سب بڑا  اردو کا  نیم سر کاری ادارہ  ہو اکرتا  تھا۔ ہندوستانی اکاڈمی کے علمی اور ادبی معیار کا اندازاہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  یہاں  سے اردو کے نامور ادیب  اور علماء وابستہ تھے۔ علامہ عبد اللہ  یوسف علی (مفسر قرآن بہ زبان انگریزی )  مہاتما گاندھی  ، سید سجاد حیدر یلدرم ( قرۃ العین حیدر کے والد )منشی پریم چند ،سید سلیمان ندوی، پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب ،ڈاکٹر تارا چند ، پروفیسر ضامن علی ،ڈاکٹر ذاکر حسین اور خواجہ غلام السیدین کے نام  شامل ہیں۔ان  ادیبوں اور دانشوروں کی کتابیں ہندوستانی اکاڈمی نے شائع کی تھیں۔ لیکن آج ہندوستانی اکاڈمی  گمنامی کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔


صورت حال یہ ہے کہ گذشتہ تیس  برسوں سے ایک بھی  ارود کتاب یہاں سے شائع نہیں  کی گئی  ہے ۔ جبکہ اس اکاڈمی کے قائم کرنے کا مقصد اردو اور ہندی زبانوں کو قریب لانا اور دونوں زبانوں کی بہترین کتابوں کو شائع کرنا تھا ۔ ملک کی تقسیم سے پہلے تک  ہندوستان اکاڈمی نے پچاس سے زائد اردو کی کتابیں شائع کیں ۔ لیکن  آزادی کے  بعد سے  اردو کتابوں کی اشاعت میں تیزی سے زوال آتا گیا ۔اب حالت یہ ہوگئی  ہے کہ  اردو کی آخری کتاب کو شائع ہوئے  تیس  برس کا عرصہ گذر گیا ہے۔ ہندوستانی  اکاڈمی  سے اب صرف ہندی کی کتابیں شائع کی جاتی ہیں۔ اردو کی  کتابوں کی  اشاعت کا کام اب تقریباً  ختم کر دیا گیا ہے ۔

ہندوستانی  ا کاڈمی سے شائع ہونے والی  اردو کی  پرانی اور نایاب کتابوں کاایک بڑا ذخیرہ آج بھی اکاڈمی کے بک اسٹاک میں موجود ہے ۔یہ کتابیں    رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہیں۔ اکاڈمی کے موجودہ سکیریٹری روی نندن کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے ہندوستانی اکاڈمی کی اشاعتی پالیسی میں تبدیلی کے بعد یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ پہلے ریاستی حکومت کی طرف سے اردو کی کتابوں کے اشاعت کے لئے ایک معقول رقم مہیا کرائی جاتی تھی ،جو کہ اب پوری طرح سے بند کر دی گئی ہے ۔ہندوستانی اکاڈمی ریاستی حکومت سے امداد یافتہ ایک نیم سر کاری ادارہ ہے۔ کسی زمانے میں اردو اور ہندی  دونوں زبانوں کی کتابوں  کے لئے  فنڈ  جاری کیا جا تا تھا لیکن اب اردو کے  لئے  ریاستی  حکومت  الگ سے کوئی کوئی فنڈ جاری نہیں کرتی۔  اردو کے مشہور مصنفین کی پچاس سے زائد کتابیں شائع کرنے والا یہ تاریخی  ادارہ اب  اپنی شناخت کھوتا جارہا ہے۔

First published: Feb 19, 2020 04:47 PM IST
  • India
  • World

India

  • Active Cases

    6,039

     
  • Total Confirmed

    6,761

     
  • Cured/Discharged

    515

     
  • Total DEATHS

    206

     
Data Source: Ministry of Health and Family Welfare, India
Hospitals & Testing centres

World

  • Active Cases

    1,205,178

     
  • Total Confirmed

    1,680,527

    +76,875
  • Cured/Discharged

    373,587

     
  • Total DEATHS

    101,762

    +6,070
Data Source: Johns Hopkins University, U.S. (www.jhu.edu)
Hospitals & Testing centres