உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سوشل میڈیا پر ججوں کو لے کر تبصرے نا قابل قبول : وزیر قانون

    سوشل میڈیا پر ججوں کو لے کر تبصرے نا قابل قبول : وزیر قانون

    سوشل میڈیا پر ججوں کو لے کر تبصرے نا قابل قبول : وزیر قانون

    مرکزی وزیر قانون نے کانگریس کے ذریعہ چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی کوشش کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی ۔ انہوں نے کانگریس کی اس کوشش کو عدلیہ کی آزادی پر سب سے بڑا دھچکہ بتایا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے سوشل میڈیا پر ججوں کو لے کر کئے جارہے ذاتی تبصروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ ایک انگریزی اخبار میں لکھے اپنے مضمون میں روی شنکر پرساد نے الزام لگانے کے اس نگیٹو ٹرینڈ پر سوالات کھڑے کئے ہیں ۔ انہوں نے لکھا کہ ججوں کو لے کر کئے گئے یہ ذاتی تبصرے برداشت کے قابل نہیں ہیں ۔

      مرکزی وزیر قانون نے کانگریس کے ذریعہ چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی کوشش کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی ۔ انہوں نے کانگریس کی اس کوشش کو عدلیہ کی آزادی پر سب سے بڑا دھچکہ بتایا ہے ۔

      انہوں نے لکھا کہ مفاد عامہ میں عرضی داخل کرنا اور پھر سوشل میڈیا مہم چلانا اور اگر حق میں فیصلہ نہ آئے تو پھر منفی تشہیر کرنا کہاں تک صحیح ہے ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ My Way or the Highway کا طریقہ اس وقت عدلیہ کی آزادی کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے ۔

      روی شنکر پرساد نے لکھا کہ وزیر اعظم مودی سمیت سینئر بی جے پی لیڈروں نے ایمرجنسی کے دوران عدلیہ کی آزادی کی لڑائی کیلئے کافی کچھ برداشت کیا ہے ، اس وجہ سے عدلیہ کو لے کر مسلسل بڑھتے حملے تشویشناک حالات پیدا کررہے ہیں ۔

      غور طلب ہے کہ وزیر قانون کا یہ مضمون سینئر وکیل پرشانت بھوشن کی توہین عدالت معاملہ میں ایک روپے کے جرمانہ کی سزا سنائے جانے کے ایک ہفتہ کے اندر ہی آیا ہے ۔ وزیر قانون نے عدلیہ پر ہورہے مسلسل حملوں کو انتہائی تشویشناک بتایا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: