உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ludhiana: لدھیانہ کی ایک صدی پرانی بے مثال مسجد، جہاں کی انتظامیہ میں ہندو اور سکھ دونوں ہیں شامل

    تقسیم کے بعد سے اس گاؤں میں ایک بھی مسلمان نہیں رہا- (تصویر: tribuneindia)

    تقسیم کے بعد سے اس گاؤں میں ایک بھی مسلمان نہیں رہا- (تصویر: tribuneindia)

    تقسیم کے بعد سے اس گاؤں میں ایک بھی مسلمان نہیں رہا، پھر بھی مسجد میں ہر روز نماز پڑھی جاتی ہے اور چراغ جلایا جاتا ہے۔ کئی دہائیوں سے اس کی دیکھ بھال سکھ اور ہندو گاؤں والے کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ جگہ مقدس ہے۔

    • Share this:
      لدھیانہ (Ludhiana) کے ہیڈن بیٹ گاؤں (Hedon Bet village) کی ایک صدی پرانی مسجد فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مظہر بن چکی ہے۔ جس نے تقسیم کی ہولناکیوں کو بھی برداشت کیا ہے۔ تقسیم اور بعد کے فسادات کے باوجود بھی یہ مسجد اب تک محفوظ ہے اور اس کی انتظامیہ میں مقامی مسلمانوں کے علاوہ ہندو اور سکھ بھی شامل ہیں۔

      تقسیم کے بعد سے اس گاؤں میں ایک بھی مسلمان نہیں رہا، پھر بھی مسجد میں ہر روز نماز پڑھی جاتی ہے اور چراغ جلایا جاتا ہے۔ کئی دہائیوں سے اس کی دیکھ بھال سکھ اور ہندو گاؤں والے کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ جگہ مقدس ہے۔ گاؤں کے ایک 56 سالہ بزرگ پریم چند (Prem Chand) نے 2009 میں ایک صوفی بزرگ کی موت کے بعد مسجد کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں سنبھالیں جنہوں نے کئی سال تک اس عبادت گاہ کی دیکھ بھال کی۔

      پریم چند دن میں دو بار مسجد جاتے ہیں۔ احاطے کی صفائی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’یہاں آکر اور صوفی بزرگ کے سکھائے گئے چند جملے سنائے بغیر میرا دن ادھورا ہے۔ میری خراب صحت کے باوجود اس جگہ پر میرا یقین ہے۔ ہر سال مئی میں مسجد میں ایک لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں تقسیم کے دوران چھوڑ جانے والے مسلم خاندانوں کی یاد میں پورے گاؤں والوں کو کھانے فراہم کیا جاتا ہے۔

      ایک 68 سالہ دیہاتی امرک سنگھ نے کہا ’’یہاں تقریباً 50 مسلم خاندان رہتے تھے۔ وہ ہر روز نماز پڑھتے۔ اگرچہ گاؤں میں ایک بھی مسلمان خاندان باقی نہیں بچا ہے، لیکن ہم ان کی عبادت گاہ کی دیکھ بھال کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں‘‘۔ گاؤں کے سرپنچ گرپال سنگھ کا خاندان 1947 میں سیالکوٹ سے یہاں آیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      انھوں نے کہا، ’’ہم اس ’رب دا گھر‘ کی دیکھ بھال کیسے نہیں کرسکتے؟ گاؤں میں ہمارا گرودوارہ اور مندر بھی ہے لیکن یہ مسجد بھی ہمارے لیے اتنی ہی اہم ہے۔ ہم اپنی خدمات اس ایک خدا کے لیے پیش کر رہے ہیں جو ہر مذہب کا ہے۔‘‘
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: