ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نہر میں بہتے ملے ہزاروں Remdesivir Injection انجیکشن، ڈبے پر لکھی تھی یہ ہوش اڑا دینے والی تحریر

قابل غور بات یہ ہے کہ ملک میں ریمیڈیسیور اور سینے میں انفیکشن کے انجیکشن پر بڑے پیمانے پر کالا بازاری کی جارہی ہے۔ پنجاب میں بھی ریمیڈیسیور انجیکشن اور دیگر ادویات کی قلت ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت کو سپلائیوں ہونے والے انجیکشن کا بھاکھڑا نہر میں ملنا حکومت کے کام کاج پر سوالیہ نشان چھوڑ کھڑا کرتا ہے۔

  • Share this:
نہر میں بہتے ملے ہزاروں Remdesivir Injection انجیکشن، ڈبے پر لکھی تھی یہ ہوش اڑا دینے والی تحریر
ریمیڈیسیور انجیکشن (Remdesivir Injection) کی قلت سے جوجھ رہا ہے ملک

دنیا بھر میں کورونا Covid-19 pandemic کی تباہی نے ہاہاکار مچا رکھا ہے۔ ملک ایک اور جہاں ریمیڈیسیور انجیکشن  (Remdesivir Injection)  کی قلت سے جوجھ رہا ہے، وہیں پنجاب کے چمکور صاحب کے نزدیک بھاکھڑا نہر  (Bhakra Canal) سے سیکڑوں ریمیڈیسیور اور چیسٹ انفیکشن  (Chest Infection کے  انجیکشن  (Remdesivir Injection) انجیکشن  برآمد کئے گئے ہیں۔ ان میں سرکار کو سپلائی کئے جانے والے 1456 انجیکشن، 621  ریمیڈیسیور انجیکشن  (Remdesivir Injection) اور 849  بغیر لیبل کے انجیکشن بھی شامل ہیں۔ حالانکہ انجیکشن کے اصلی یا نقلی ہونے کی تصدیق ابھی نہیں ہو پائی ہے۔


ایک روزنامہ اخبار کی رپورٹ  کے مطابق ریمیڈیسویر انجیکشن پر 5400 ایم آر پی اور مینوفیکچرنگ کی تاریخ مارچ 2021 او ایکسپائر رتاریخ 20 نومبر 2121 لکھی ہے۔ سیفوپیرازون انجیکشن پر مینوفیکچرنگ کی تاریخ اپریل 2021 اور ایکسپائری تاریخ  مارچ 2023 ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان ٹیکوں پر فار گورنمنینٹ سپلائی ناٹ فار سیل بھی لکھا ہوا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ملک میں ریمیڈیسیور اور سینے میں انفیکشن کے  انجیکشن پر بڑے پیمانے پر کالا بازاری کی جارہی ہے۔ پنجاب میں بھی  ریمیڈیسیور انجیکشن اور دیگر ادویات کی قلت ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت کو سپلائیوں ہونے والے انجیکشن کا بھاکھڑا نہر میں ملنا  حکومت کے کام کاج پر سوالیہ نشان چھوڑ کھڑا کرتا ہے۔



حال ہی میں پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا ہے کہ ریاست آکسیجن ، ٹینکر ، ویکسین اور دوائیوں کی کمی کے علاوہ وینٹیلیٹر محاذ پر جدوجہد کر رہی ہے۔ کیونکہ حکومت ہند کے ذریعے ملے نے موصولہ 809 وینٹیلیٹرز میں سے 108 کو قائم کرنے کے لئے کوئی بھی  بی ای ایل  انجینئر نہیں ہے۔ انہوں نے گذشتہ ماہ سے متعدد بار اس حکومت کو خطوط بھی لکھے ہیں جبکی اسی دوران  صوبے میں ادویات کی کھیپ کا نہر سے  ملنا اس بات ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کی ناکامی کی وجہ سے دوائیں ضائع ہو رہی ہیں۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 07, 2021 07:25 PM IST