ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تھائی رائڈ: بہت زیادہ متاثر کن ہونے والا ایک چھوٹا سا غدود

بالغ خواتین میں، اس کی وجہ سے 10 میں سے 3 خواتین بانجھ کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ حاملہ ہیں تو اس کی وجہ سے اسقاط حمل قبل از وقت پیدائش اور حمل کے اندر بچے کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ 13 فیصد سے زیادہ حاملہ خواتین ہائی پو تھائیرائیڈز ازم میں مبتلا ہیں۔

  • Share this:
تھائی رائڈ: بہت زیادہ متاثر کن ہونے والا ایک چھوٹا سا غدود
علامتی تصویر

یہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی چییزیں ہیں جو زندگی کے تمام شعبے کو متاثر کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے تھائی رائیڈ کا غدود۔ یہ تتلی نما عضو ہوتا ہے جو جسمانی بہت سارے افعال کو جاری رکھنے والی تھائیرائیڈ ہارمون کے مقررہ مقدار میں اضافے کرتا ہے۔ کسی بھی عدم تواز ن کے نتیجے میں ہمارے جسم میں بہت ساری علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔1 ان ہامرونز اور انڈر پروڈکشن کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ہائی پو تھائیرائیڈ ازم (طبی حالات جو تھائرائیڈ ہارمونز کیوجہ سے ہوتے ہیں) ہوتا ہے۔


ہائ پو تھائیرائیڈ ازم کا واقعہ انڈیا میں بہت عام ہے۔ در اصل ‎11 فیصد بالغ  افراد ہائی پو تھائیرائیڈ ازم اور ‎8 فیصد سب کلینکیل ہائی پو تھائیرائیڈ ازم (طبی حالات جو تھائرائیڈ ہارمونز کیوجہ سے ہوتے ہیں)4میں مبتلا ہیں۔


آئیے ہم ہائی پو تھائیرائیڈ ازم کو باریکی اور تفصیل سے سمجھتے ہیں:

ہائی پو تھائیرائیڈ ازم


جیساکہ پہلے بتایا گیا کہ یہ اس وقت ہوتا ہے جب تھائیرائیڈ کی گلٹی کافی مقدار میں تھائیرائیڈ ہارمونز نہیں بناتی ہیں۔ جس کی وجہ سے جسمانی افعال میں سستی پیدا ہونے لگتی ہے جس میں ہمارے میٹابولزم بھی شامل ہے۔2

سب کلینکیل ہائی پو تھائیرائیڈ ازم (طبی حالات جو تھائرائیڈ ہارمونز کیوجہ سے ہوتے ہیں) میں، خون میں تھائیرائیڈ ہارمون کی سطحیں درکار عام حد سے تھوڑی کم ہوتی ہے۔ ہائی پو تھائیرائیڈ ازم (طبی حالات جو تھائرائیڈ ہارمونز کیوجہ سے ہوتے ہیں) کے برعکس، یہ ظاہری علامات کی شکل میں خود ظاہر نہیں ہوتا ہے۔ ایسی حالات میں، کسی بھی شخص کو اپنی حالت کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکتا ہے۔ 3
ہائی پو تھائیرائیڈ ازم کی نشاندہی کرنے والی علامات
لوگ عام طور پر ہائی پو تھائیرائیڈ ازم کی علامات کو دوسرے حالات کی وجہ سے تذبذب میں پڑھنے کی غلطی کرتے ہیں۔ تاہم، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ علامات آہستہ آہستہ، بعض اوقات کئی سالوں میں بڑھتی ہیں۔ ہائی پو تھائیرائیڈ ازم (طبی حالات جو تھائرائیڈ ہارمونز کیوجہ سے ہوتے ہیں) کی کچھ عام نشانیاں اور علامات یہ ہیں کہ تھکاوٹ ہونا، وزن میں اضافہ ہونا، افسردہ یا درماندہ ہونا، بھاری پن اور / یا زیادہ کثرت سے ماہواریاں ہونا، بانجھ پن، جنسی خواہش کا جسمانی یا ذہنی طور پر اعتدال سے بڑھ جانا، بالوں کا زیادہ گرنا، زیادہ نیند کی ضرورت وغیرہ۔2,5

خواتین میں ہائی پو تھائیرائیڈ ازم کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے
ہاں، یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ خواتین میں ہائی پو تھائیرائیڈ ازم زیادہ پایا جاتا ہے اور مردوں کے مقابلے میں ان میں 5 سے 10 گنا زیادہ کا امکان ہوتا ہے، در حقیقت یہ انڈوکرائن کی خرابی (گلٹیوں سے متعلق خرابی) کی دوسری سب سے عام قسم ہے جو تولیدی عمر کی خواتین کو متاثر کرتی ہے۔  لیکن ایسا نہیں ہے۔ اس کا اثر ہر عمر کی خواتین پر بھی پڑ سکتا ہے! اور بڑھتی عمر، حمل، بعد وضع حمل اور سنِ یاس والی خواتین میں ہائی پو تھائیرائیڈ ازم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ہر عمر کی خواتین کو خطرہ ہے


ہائی پو تھائیرائیڈ ازم/سب کلینیکل ہائی پو تھائیرائیڈ ازم خواتین میں متعدد پیچیدگیاں پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ صحت کے مسائل کے علاوہ یہ ان کے تولیدی افعال کو متاثر کرتا ہے۔ ایک خاتون کی زندگی اور اس کی عمر کی بنیاد پر پیچیدگیوں کی شدت مختلف ہو سکتی ہے۔3,5,6a,7,8,9,10

متعدد جائزوں میں درج ذیل نتائج سامنے آئے ہیں:

-نو عمر لڑکیوں میں  اس کی وجہ سے بلوغت میں تاخیر ہو سکتی ہے  یا پستانوں یا تولیدی اعضا کی نا مکمل نشو نما ہو سکتی ہے۔

-یہ ‎72.5 فیصد سے زیادہ خواتیں میں لمبے عرصے تک جاری رہنے والا جریان کی وجہ بن سکتی ہے، اور بہت سی خواتین کو ماہواری میں بے قاعدگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، نیز اس کی وجہ سے مہاسے، چہرے کے بال، ذیابطیس وغیرہ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

-بالغ خواتین میں، اس کی وجہ سے 10 میں سے 3 خواتین بانجھ کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ حاملہ ہیں تو اس کی وجہ سے اسقاط حمل قبل از وقت پیدائش اور حمل کے اندر بچے کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ 13 فیصد سے زیادہ حاملہ خواتین ہائی پو تھائیرائیڈز ازم میں مبتلا ہیں۔

-اس کی وجہ سے ‎86 فیصد بوڑھی خواتین ذیابطیس کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دو چار ہوتی ہیں، ‎60 فیصد بلڈ پریشر میں اضافہ ہوا ہے اور ‎33 فیصد مریض خون میں بڑھتی ہوئی چربیوں کے شکار ہیں۔

-اس کے علاوہ ہائی پو تھائیرائیڈ ازم والے 60‎‎ فیصد ‎ سے زیادہ مریضوں میں مزاجی دباؤ کی علامات پائی گئی ہیں۔

لہذا، جلد سے ہائی پو تھائیرائیڈ ازم کا کا پتا لگانے اور ان کا نظم و نسق کرنے کے لیے مناسب اور بر وقت تھائیرائیڈ افعال کی جانچ/اسکریننگ (تھائیرائیڈ ہارمونز کی سطحوں) کی تجاویز دنیا بھر کے طبی شراکت داروں اورگائیڈلائنز کے ذریعے کی جاتی ہے۔ 5,6,18,19,20,21,22

مندرجہ ذیل افراد کو اسکریننگ کرانی چاہیے:

  • 53 سال کی خواتین کو اور اس کے بعد ہر 5 سال کے بعد

  • بانجھ پن کے علاج کے لیے غور کرنے والی سبھی خواتین کو

  • سبھی حاملہ خواتین کو

  • سن یاس کی عمر والی خواتین کو اور ان خواتین کو جنہیں حیض آنا بند ہو گیا ہے

  • ذیابطیس اور ہائی بلڈ پریشر والے مریضوں کو

  • علاج شروع کرانے سے پہلے لپڈ کی خرابی (خون میں چربی) والے مریضوں کو


ہائی پو تھائیرائیڈازم کی علامات مستقل اور مخصوص نہیں ہیں۔ لیکن اگر اس کا علاج بر وقت نہیں کیا گیا تو اس کی علامات مزید خراب ہو سکتی ہیں اور اس میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔25لہذا یہ کسی بھی عورت کے لیے بہت ہی ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذہن میں گردش کر رہے شک و شبہ کو ایک سادہ بلڈ ٹیسٹ اور اس کا معائنہ کرا کر دور کرے۔

خوشخبری یہ ہے کہ علاج کی مدد سے اس حالت کو نظم کیا جا سکتا ہے۔  اگر آپ کو تھائیرائیڈ کا مسئلہ ہے تو اپنے ڈاکٹر سے جلد از جلد رابطہ کریں۔

یہ ایک مشترکہ پوسٹ ہے۔

ڈاکٹر ثاقب


 Disclaimer:

** This is in partnership with Abbott India, written by Dr Saqib, DM Endo Chandan Hospital / Pvt Clinic.

Information appearing in this material is for general awareness only and does not constitute any medical advice. Please consult your doctor for any questions or concerns you may have regarding your condition.

 References:

  1. org [Internet]. Cologne, Germany: Institute for Quality and Efficiency in Health Care (IQWiG); 2006-. How does the thyroid gland work? 2010 Nov 17 [Updated 2018 Apr 19].Available from: https://www.ncbi.nlm.nih.gov/books/NBK279388/.

  2. Thyroid disease[Internet]. Available at: https://www.womenshealth.gov/a-z-topics/thyroid-disease. Accessed on Aug 15, 2020.

  3. Livingston EH. Subclinical Hypothyroidism. 2019;322(2):180.

  4. Indian Journal of Endocrinology & Metabolism / Jul – Aug 2013 / Vol -17 / Issue 4

  5. Dunn D, Turner C. Hypothyroidism in Women. Nurs Womens Health. 2016;20(1):93-98.

  6. Sanyal D, Raychaudhuri M. Hypothyroidism and obesity: an intriguing link. Indian J Endocrinol Metab. (2016) 20:554–7.

  7. Weber G, Vigone MC, Stroppa L, Chiumello G. Thyroid function and puberty. J Pediatr Endocrinol Metab. 2003;16 Suppl 2:253-257.

  8. Fatima M, Amjad S, Sharaf Ali H Sr, et al. Correlation of Subclinical Hypothyroidism With Polycystic Ovary Syndrome (PCOS). Cureus. 2020;12(5):e8142.

  9. Polycystic ovarian syndrome[Internet]. Available at: https://www.womenshealth.gov/a-z-topics/polycystic-ovary-syndrome. Accessed on Aug 15, 2020.

  10. Karaca N, Akpak YK. Thyroid disorders and fertility. Int J Res Med Sci. 2015;3: 1299-304.

  11. Ramya MR, Parvathavarthini, Savery D, et al. Menstrual disorders associated with thyroid dysfunction. Int J Reprod Contracept Obstet Gynecol. 2017 Nov;6(11):5113-5117.

  12. Shanmugham D, Natarajan S, Karthik A. Prevalence of thyroid dysfunction in patients with polycystic ovarian syndrome: A cross sectional study. Int J Reprod Contracept Obstet Gynecol. 2018;7:3055-9.

  13. Pushpagiri N, Gracelyn LJ, Nagalingam S. Prevalence of subclinical and overt hypothyroidism in infertile women. Int J Reprod Contracept Obstet Gynecol. 2015;4(6):1733-8.

  14. Dhanwal DK, Bajaj S, Rajput R, et al. Prevalence of hypothyroidism in pregnancy: An epidemiological study from 11 cities in 9 states of India. Indian J Endocrinol Metab. 2016;20(3):387-390.

  15. Deshmukh V, Farishta F, Bhole M. Thyroid dysfunction in patients with metabolic syndrome: a cross-sectional, epidemiological, Pan-India study. International journal of endocrinology. 2018;2018.

  16. A Study of Cardiovascular Changes in Newly Detected Hypothyroid Patients. MVP Journal of Medical Sciences. July-December 2017;4(2): 102–106.

  17. Hypothyroidism: a booklet for patients and their families[Internet]. Available at: https://www.thyroid.org/wp-content/uploads/patients/brochures/Hypothyroidism_web_booklet.pdf. Accessed on Aug 15, 2020.

  18. Alexander EK, Pearce EN, Brent GA, et al. 2017 Guidelines of the American Thyroid Association for the Diagnosis and Management of Thyroid Disease During Pregnancy and the Postpartum. Thyroid. 2017;27(3):315-89.

  19. Talwalkar P, Deshmukh V, Bhole M. Prevalence of hypothyroidism in patients with type 2 diabetes mellitus and hypertension in India: a cross-sectional observational study. Diabetes Metab Syndr Obes. 2019;12:369-376.

  20. FOGSI: Good Clinical Practice Recommendations on preconception care[Internet]. Available at: https://www.fogsi.org/wp-content/uploads/2016/09/FOGSI-PCCR-Guideline-Booklet-Orange.pdf. Accessed on Aug 17, 2020.

  21. Willard DL, Leung AM, Pearce EN. Thyroid function testing in patients with newly diagnosed hyperlipidemia. JAMA Intern Med. 2014;174(2):287-289.

  22. Slopien R, Owecki M, Slopien A, et al. Climacteric symptoms are related to thyroid status in euthyroid menopausal women. J Endocrinol Invest. 2020; 43(1):75–80.

  23. Hypothyroidism[Internet]. Available at: http://www.thyroid.org/wp-content/uploads/patients/brochures/ata-hypothyroidism-brochure.pdf. Accessed on Aug 15, 2020.

  24. Kumar P, Khandelwal D, Mittal S, et al. Knowledge, Awareness, Practices and Adherence to Treatment of Patients with Primary Hypothyroidism in Delhi. Indian J Endocrinol Metab. 2017;21(3):429-433.

  25. Hypothyroidism[Internet]. Available at: https://www.niddk.nih.gov/health-information/endocrinediseases/hypothyroidism#:~:text=Hypothyroidism%2C%20also%20called%20underactive%20thyroid,the%20front%20of%20your%20neck. Accessed on Aug 15, 2020.


 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 27, 2021 09:27 PM IST