உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Infra Projects: مودی حکومت1,700بڑےانفرا پراجیکٹس کوکرےگی جلدمکمل، لاگتوں میں اضافہ بنی تاخیرکاسبب

    ۔وزیراعظم نریندرمودی کی فائل فوٹو۔

    ۔وزیراعظم نریندرمودی کی فائل فوٹو۔

    وزیر اعظم نریندر مودی مختلف اندرونی میٹنگوں میں پروجیکٹس میں تاخیر اور لاگت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اتر پردیش میں سریو ندی پریوجنا کے افتتاح کے موقع پر پی ایم نے بتایا تھا کہ کس طرح اس پروجیکٹ کی لاگت گزشتہ 40 سال میں 100 کروڑ روپے سے بڑھ کر 10,000 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔

    • Share this:
      نیوز 18 کو بتایا گیا ہے کہ مرکزی حکومت تقریباً 1,700 بڑے مرکزی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ضمن میں اگلے سال ایک وسیع مشق شروع کرے گی تاکہ ان منصبوبوں کی تکمیل میں مدد مل سکے، جو وقت پر مکمل نہیں ہو پائے اور جس کی لاگت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

      یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے، جب وزیر اعظم نریندر مودی مختلف میٹنگوں میں پروجیکٹس میں تاخیر اور لاگت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اتر پردیش میں سریو ندی پریوجنا کے افتتاح کے موقع پر پی ایم نے بتایا تھا کہ کس طرح اس پروجیکٹ کی لاگت گزشتہ 40 سال میں 100 کروڑ روپے سے بڑھ کر 10,000 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔

      رواں ماہ پارلیمنٹ میں ایک جواب میں وزارت شماریات و پروگرام کے نفاذ (Statistics and Programme Implementation Ministry) نے کہا کہ 557 پروجیکٹس کی لاگت 2,76,971 کروڑ روپے تھی۔ وزارت میں انفراسٹرکچر اور پراجیکٹ مانیٹرنگ ڈویژن (آئی پی ایم ڈی) 24 وزارتوں اور 11 شعبوں کے 1,670 منصوبوں کا سراغ لگا رہا ہے، جن میں سے ہر ایک کی لاگت 150 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

      نیوز 18 کو حاصل ایک دستاویز کے مطابق آئی پی ایم ڈی نے اب ایک ایجنسی کے ذریعہ ایک اسٹڈی شروع کردی ہے تاکہ پروجیکٹ کی نگرانی کا اندازہ کرنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھایا جائے۔ مرکزی شعبے کے پروجیکٹوں کو پیشگی کے لیے اس کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کی تکمیل کا وقت فروری 2022 بتایا گیا ہے اور یہ مشق 31 مارچ 2022 تک مکمل رپورٹ کے ساتھ مرکزی حکومت کو پیش کی جاسکتی ہے۔

      اس میں کارکردگی کی نگرانی کے لیے نئے کلیدی انفراسٹرکچر سیکٹر کا اضافہ بشمول کارکردگی کے نئے اشارے اور پہلے سے طے شدہ اہداف کو پورا کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے اور شرح نمو کو بہتر بنانے کے لیے مناسب تدارک کے اقدامات کے لیے وزارتوں کا تعاون حاصل کیا جاسکتا ہے۔




      آئی پی ایم ڈی فی الحال بجلی، کوئلہ، سٹیل، ریلوے، شپنگ اور بندرگاہوں، کھاد، پٹرولیم و قدرتی گیس، شہری ہوا بازی، سڑکوں اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسے شعبوں کی بنیادی ڈھانچے کی کارکردگی پر ماہانہ جائزہ رپورٹ تیار کرتا ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ انفراسٹرکچر کے شعبوں کی اصل کارکردگی کو سامنے لانے کے لیے اضافی نگرانی کی ضرورت ہے۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: