உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ساکیت کورٹ میں سماعت آج، مرکزی وزیر نے دی صفائی، ASI کو نہیں دیا Qutub Minar میں کھدائی کا حکم

    Qutub minar: درخواست گزار ہری شنکر جین نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ قطب مینار میں 27 مندروں کی 100 سے زیادہ باقیات موجود ہیں۔ اس لیے ایک بار پھر ہندوؤں کو یہاں پوجا کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

    Qutub minar: درخواست گزار ہری شنکر جین نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ قطب مینار میں 27 مندروں کی 100 سے زیادہ باقیات موجود ہیں۔ اس لیے ایک بار پھر ہندوؤں کو یہاں پوجا کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

    Qutub minar: درخواست گزار ہری شنکر جین نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ قطب مینار میں 27 مندروں کی 100 سے زیادہ باقیات موجود ہیں۔ اس لیے ایک بار پھر ہندوؤں کو یہاں پوجا کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

    • Share this:
      دہلی کے قطب مینار Qutub Minar میں پوجا ارچنا کا حق دئے جانے کی درخواست پر منگل کو ساکیت کورٹ saket court میں سماعت ہوگی۔ درخواست گزار ہری شنکر جین نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ قطب مینار میں 27 مندروں کی 100 سے زیادہ باقیات موجود ہیں۔ اس لیے ایک بار پھر ہندوؤں کو یہاں پوجا کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

      اس کے ساتھ ہی وزارت ثقافت قطب مینار میں پائے جانے والے ہندو اور جین مورتیوں کے سائنسی ٹیسٹ کرانے پر غور کر رہی ہے۔ ایک سینئر اہلکار نے پیر کو کہا کہ کھدائی پر پابندی لگانے یا احاطے میں کسی مذہبی رسومات کو جاری رکھنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

      قابل ذکر ہے کہ کچھ دن پہلے نیشنل مونومنٹس اتھارٹی کے چیئرمین ترون وجے نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ قطب احاطے میں قوّت الاسلام مسجد کے قریب سے دو گنیش کی مورتیاں ملی ہیں۔ ان کی بے حرمتی کی وجہ سے انہیں وہاں سے دوسری جگہ لے جایا جائے۔ اہلکار نے کہا کہ وزارت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا کچھ مورتیوں پر لیبل لگا کر ڈسپلے کیا جا سکتا ہے۔

      یہ بھی پڑھئے:  Haryan Road Accident: ہریدوار سے استھیا ں وسرجت کر واپس لوٹ رہے کنبے کے 6افراد کی موت

       

      IPL 2022: عمران ملک کی رفتار کا قہر! باؤنسر سے چاروں کھانے چت ہوا بلے باز: ویڈیو دیکھیں

      اہلکار نے بتایا کہ یہ مسجد مندر کے پتھر سے بنائی گئی ہے۔ ن مورتیوں کو یہاں چاروں طرف دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن فی الوقت ان بتوں کو بحال کرنے یا انہیں کہیں اور لے جانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ دراصل یہ تنازعہ ایک رپورٹ پر شروع ہوا، جس میں کہا گیا تھا کہ وزارت ثقافت نے قطب مینار کمپلیکس میں کھدائی کا حکم دیا ہے۔ لیکن وزیر ثقافت جی کشن ریڈی نے اس رپورٹ کی تردید کی تھی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: