ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

توگڑیا کا متنازعہ مضمون، 2 سے زیادہ بچے پیدا کریں مسلمان تو ملے سزا

نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی سب کا ساتھ سب کا وکاس کا ڈھنڈورا خواہ خوب پینٹیں، لیکن ان کے دیگر ساتھیوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔

  • News18
  • Last Updated: Sep 03, 2015 01:44 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
توگڑیا کا متنازعہ مضمون، 2 سے زیادہ بچے پیدا کریں مسلمان تو ملے سزا
نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی سب کا ساتھ سب کا وکاس کا ڈھنڈورا خواہ خوب پینٹیں، لیکن ان کے دیگر ساتھیوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔

نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی سب کا ساتھ سب کا وکاس کا ڈھنڈورا خواہ خوب پینٹیں، لیکن ان کے دیگر ساتھیوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔ وہ مسلسل اپنے نفرت آمیز اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم کا یہ نعرہ ان کے نزدیک قابل اعتنا نہیں، تبھی تو وہ مستقل طور پر مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی کرتے چلے آ رہے ہیں۔


تازہ زہرافشانی پروین توگڑیا نے کی ہے۔ وشو ہندو پریشد کے لیڈر پروین توگڑیا نے ایک بار پھر مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس بار ان پر نشانہ بیان بازی کر کے نہیں بلکہ مضمون چھپوا کرسادھا ہے۔  توگڑیا نے لکھا ہے کہ اگر مسلمان دو سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں، تو ان کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلنا چاہئے، ساتھ ہی انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ راشن، ملازمت اور تعلیم کی دوسری سہولیات بھی ان سے چھین لی جانی چاہئیں۔


توگڑیا کا یہ مضمون آر ایس ایس کے ترجمان آرگنائزر میں چھپا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اگر دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر سزا نہیں ملی تو ہندستان جلد ہی مسلم ملک ہو جائے گا۔ توگڑیا کے اس بیان پر کانگریس نے جوابی حملہ کیا ہے۔


کانگریس لیڈر م افضل نے کہا کہ وزیر اعظم سب کا ساتھ سب کا وکاس کی بات کرتے ہیں اور ان کے ساتھی ایسی بیان بازی کرتے ہیں۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم اس معاملے پر خود بیان دیں۔

 
First published: Sep 03, 2015 01:44 PM IST