ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یو پی کے اس صنعتی شہر کے کاروباری اب چینی سامان اور کچے مال کا نہیں کریں گے استعمال

کاروباریوں کا کہنا ہے کہ وہ چین کے بجائے اب دوسرے ذرائع تلاش رہے ہیں تاکہ کچے اور تیار مال کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے

  • Share this:
یو پی کے اس صنعتی شہر کے کاروباری اب چینی سامان اور کچے مال کا نہیں کریں گے استعمال
یو پی کے اس صنعتی شہر کے کاروباری اب چینی سامان اور کچے مال کا نہیں کریں گے استعمال

میرٹھ ۔ چینی فوجیوں کے حملے میں لداخ کی گلوان وادی میں ہندوستانی فوجیوں کی شہادت سے ملک میں غم اور غصے کی لہر ہے۔ ہندوستانی کاروباری بھی اب چینی سامان کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کر رہے ہیں اور شہید ہوئے ہندوستانی فوجیوں کا چین سے انتقام لینے کا حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ آج میرٹھ میں کاروباریوں نے چینی صدر کا پتلا نذر آتش کرتے ہوئی چین کے ساتھ کاروباری تعلقات کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور عوام سے بھی چینی سامان کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔


گلوان وادی میں شہید ہوئے ہندوستانی فوجیوں کے غم میں ہندوستانی کاروباریوں کا دل بھی جل رہا ہے اور وہ اپنے شہیدوں کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ میرٹھ کے کاروباریوں کا ماننا ہے کہ حکومتی سطح پر سرکار جو بھی فیصلہ لے لیکن کاروباری طبقے کی بھی اپنے ملک اور لوگوں کے تئیں ذمہ داری ہے اور مقامی سطح پر کاروباری یہ عزم ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ اب نہ تو چین کے تیار سامان کو دکانوں میں فروخت کرینگے اور نہ ہی سامان تیار کرنے کے لیے چین کے کچے مال کا استعمال کریں گے۔


میرٹھ یو پی کا ایک بڑا صنعتی شہر ہے اور یہاں کھیل کے سامان سے لیکر کپڑا اور قینچی کا بڑے پیمانے پر پروڈکشن ہوتا ہے لیکن مال تیار کرنے کے لئے چین سے امپورٹ کیے گئے کچے مال کا بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن چین کی جارحانہ حرکت کے بعد سے میرٹھ کا کاروباری طبقہ سخت غم اور غصے میں مبتلا ہے اور چین کو سبق سکھانے کا عزم ظاہر کر چکا ہے۔ کاروباریوں کا کہنا ہے کہ وہ چین کے بجائے اب دوسرے ذرائع تلاش رہے ہیں تاکہ کچے اور تیار مال کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے اور کاروباری ضرورت کے لیے اب چینی کمپنیوں کی ضرورت کو ختم کیا جا سکے۔

First published: Jun 20, 2020 02:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading