உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نامور اردو شاعر ندا فاضلی کے انتقال پر متعدد لیڈران وسرکردہ شخصیات کے تعزیتی پیغامات

    نئی دہلی۔  معروف اردو شاعر ندا فاضلی کے انتقال پر متعدد سیاسی لیڈران اور سرکردہ شخصیات نے اظہار تعزیت کیا ہے۔

    نئی دہلی۔ معروف اردو شاعر ندا فاضلی کے انتقال پر متعدد سیاسی لیڈران اور سرکردہ شخصیات نے اظہار تعزیت کیا ہے۔

    نئی دہلی۔ معروف اردو شاعر ندا فاضلی کے انتقال پر متعدد سیاسی لیڈران اور سرکردہ شخصیات نے اظہار تعزیت کیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  معروف اردو شاعر ندا فاضلی کے انتقال پر متعدد سیاسی لیڈران اور سرکردہ شخصیات نے اظہار تعزیت کیا ہے۔ کانگریس کی صدرسونیا گاندھی نے مشہور شاعر اور نغمہ نگار ندا فاضلی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس صدر نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور پدم شری ایوارڈ یافتہ ندافاضلی کو ان کی تخلیقات کے لئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کی تخلیقات آنے والی نسلوں کو حوصلہ بخشتی رہیں گی۔ خیال رہے کہ ندا فاضلی کا کل 78برس کی عمر میں ممبئی میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا ۔ وہ کافی عرصے سے علیل تھے۔


      وہیں، معروف شاعر ندا فاضلی کے اچانک انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے صدر شعبۂ اردو، دہلی یونی ورسٹی پروفیسر ابن کنول نے کہا کہ ہمارے درمیان سے ایک بے باک اور نڈر شاعر رخصت ہوگیا۔ ندا فاضلی نے اپنی شاعری میں ہندوستانی تہذیب کی عکاسی کی۔وہ میرابائی،سورداس،ولی،میراور غالب سے بہت متاثرتھے ۔انھوں نے غزل کے ساتھ ساتھ گیت اوردوہے کی روایت کو بھی آگے بڑھایا۔ان کاوطن قصبہ ڈبائی ضلع بلند شہرتھا۔ مرحوم کو شعری ذوق اپنے والد دعاؔ ڈبائیوی سے ملا تھاجوملازمت کے سلسلے میں گوالیارمنتقل ہوگئے تھے۔


      دوسری طرف، راجستھان کی وزیر اعلی وسندھرا راجے نے اردو کے معروف شاعر اور فلمی نغمہ نگار ندا فاضلی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ مسٹر فاضلی نے اردو کی ترقی میں اہم رول ادا کیا۔ ادب اور سنیما کے میدان میں ان کا تعاون ہمیشہ ناقابل فراموش رہے گا۔ انہوں نے مسٹر فاضلی کی روح کو سکون پہنچنے اور غمزدہ کنبہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی دعا کی۔


       اردو اکادمی، دہلی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر ماجددیوبندی نے ایک تعزیتی پیغام میں دلی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ندا فاضلی ہمارے عہد کے ان جدید لب و لہجہ کے شعرا میں اہم مقام رکھتے تھے جنھوں نے کبھی وقت کے تقاضوں سے مصالحت کرتے ہوئے شاعری میں جھوٹ بولنے سے احتیاط رکھی۔ انھوں نے علم سے لے کر فلم تک اپنی شاعری اور نظموں کے وہ چراغ روشن کیے جو ادب میں تادیر اپنی روشنی پھیلاتے رہیں گے۔ ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے کہا کہ ہندوستان میں دوہوں کی روایت کو جن لوگوں نے آج کے عہد میں محفوظ ہی نہیں رکھا بلکہ اس کو آگے بڑھایا ہے ان میں ندافاضلی کا نام بہت اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ندافاضلی کے ساتھ انھیں بھی بہت سے مشاعروں میں شرکت کرنے کا موقع ملا ساتھ ہی انھیں قریب سے دیکھا اور برتا۔ ندا فاضلی اپنی ذاتی زندگی کی طرح عوامی زندگی میں ہرایک سے محبت اور خلوص کا جذبہ رکھنے والے انسان تھے۔ گو کہ انھیں بہت سی موضوعاتی شاعری سے اختلاف رہا لیکن اصل میں غزلوں اور نظموں میں یکجہتی، اتحاد اور انسانیت کے پیغام کو عام کرنے میں انھوں نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔


      انہوں نے کہا کہ ندا فاضلی نے اس عہد میں جہاں فلموں میں ہلکے فن اور غیرمعیاری گانے لکھے جارہے ہوں وہیں غزل اور شاعری کے معیار کو قائم رکھتے ہوئے بہترین اور معیاری نغمے لکھ کر فلموں کے وقار میں بھی اضافہ کیا ہے، ان کی شاعری کے کئی مجموعے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ادب کے خاص معیار سے وابستہ تھے۔ ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے کہا کہ ان کو سب سے بڑا خراجِ عقیدت یہ ہوگا کہ انھوں نے جس لہجے کی شاعری کو اپنا محور بناکر عوام میں مقبولیت حاصل کی نئی نسل اور مثبت سوچ رکھنے والے شعرا کو اس پرعمل کرنا چاہیے۔

      First published: