உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لوک سبھا میں پھر پاس ہوا تین طلاق سے متعلق بل ، یہاں پڑھیں بل میں کیا کیا ہے خاص

    طلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھا میں بھی منظورہوگیا ہے۔

    طلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھا میں بھی منظورہوگیا ہے۔

    لوک سبھا کے مانسون سیشن میں جمعرات کو تین طلاق سے متعلق بل پیش کیا گیا ۔ بل پر دن بھر بحث ہوئی اور پھر شام کو یہ بل لوک سبھا میں پاس ہوگیا ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      تین طلاق کی روایت کو غیر قانونی قرار دینے والا مسلم خواتین (شادی کے حق تحفظ) بل 2019 اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان جمعرات کے روز لوک سبھا میں منظور ہو گیا۔ بل پر ایوان میں پانچ گھنٹے چلی بحث اور قانون و انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد کی بحث کے جواب کے بعد جب وزیر نے بل کو رکھنے کی تجویز پیش کی ، تو اپوزیشن نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ووٹوں کی ووٹنگ کا مطالبہ کیا۔ اگرچہ 82 کے مقابلے 303 ووٹوں سے بل کو منظور کرلیا گیا۔

      اپوزیشن کی سبھی ترامیم خارج ہوگئیں جن میں کچھ پر ووٹنگ بھی ہوئی۔ اس بل کے تحت تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اور تین طلاق دینے والوں کے لئے تین سال تک کی قید اور جرمانے کی سزا کا التزام رکھا گیاہے۔ ساتھ ہی جس خاتون کو تین طلاق دی گئی ہے اس کی اور اس کے بچوں کی پرورش کے لئے خاطی شوہر کو ماہانہ گزارا الاؤنس بھی دینا ہوگا۔ زبانی، الیکٹرانک یا کسی بھی ذریعے سے طلاق بدعت یعنی تین طلاق کو اس میں غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

      یہ بل مسلم خواتین (شادی کے حق تحفظ) دوسرا آرڈیننس، 2019 کا مقام لے گا ، جو اس سال 21 فروری کو عمل میں آیا تھا۔ اس بل کو ایوان میں پیش کرتے وقت 21 جون کو بھی ووٹنگ ہوئی تھی جس میں 186 ارکان نے اسے پیش کرنے کی حمایت میں اور 74 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔

      مسٹر پرساد شنکر پرشاد نے بحث کا جواب دیتے ہوئے اپوزیشن پر تیز حملے کئے اور واضح کیا کہ اس بل میں تین طلاق دینے کے خاطی پائے جانے والے شوہر کے لئے تعزیری التزام غلط روایت کے خلاف طور پر ہے ۔ یہ التزام ہندوؤں میں بچہ شادی پر روک لگانے سے متعلق 1955 میں شاردا ایکٹ، 1961 کے انسداد جہیز قانون 1983 کے انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 498 کی طرح رکھے گئے ہیں۔

      پچھلی لوک سبھا میں دو بار یہ بل مختلف شکل میں منظور کیا گیا تھا، لیکن راجیہ سبھا میں پیش نہیں کیا جا سکا۔ نئی لوک سبھا کی تشکیل کے بعد اسے نئے سرے سے ایوان میں لانا پڑا۔ بل میں التزام ہے کہ تین طلاق دینے والے ملزم کے خلاف صرف متاثرہ، اس سے خون کا رشتہ رکھنے والے اور شادی سے بنے اس کے رشتہ دار ہی ایف آئی آر درج کرا سکیں گے۔ خاطی شوہر کو مجسٹریٹ کی طرف سے ضمانت مل سکتی ہے۔ متاثرہ کی بیان سننے کے بعد مجسٹریٹ کو معقول شرائط پر صلح کرانے کا بھی حق دیا گیا ہے۔

      اپوزیشن کی جانب سے ترنمول کانگریس نے بل کو مجرمانہ زمرے میں رکھے جانے کی مخالفت کی۔ اس کے ساتھ ہی بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور جنتا دل یونائٹیڈ کے رکن بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔
      First published: