ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

طلاق ثلاثہ بل لوک سبھا میں منظور، اپوزیشن کا ایوان سے واک آوٹ

تمام اپوزیشن جماعتوں نے طلاق ثلاثہ بل کو جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا جسے حکومت نے خارج کردیا۔ اسد الدین اویسی نے پانچ ترامیم پیش کیں، وہ بھی خارج ہوگئیں۔

  • Share this:
طلاق ثلاثہ بل لوک سبھا میں منظور، اپوزیشن کا ایوان سے واک آوٹ
تمام اپوزیشن جماعتوں نے طلاق ثلاثہ بل کو جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا جسے حکومت نے خارج کردیا۔ اسد الدین اویسی نے پانچ ترامیم پیش کیں، وہ بھی خارج ہوگئیں۔

تین طلاق بل لوک سبھا میں منظورہوگیا ہے۔ بحث مکمل ہونے کے بعد  کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے ایوان سے واک آوٹ کردیا۔ اس دوران مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اورممبرپارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے پانچ ترامیم پیش کیں، جو خارج کردی گئیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ بل جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجی جائے کیونکہ اس بل میں کئی خامیاں ہیں۔ تین طلاق بل کی مخالفت کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ملکا ارجن کھڑگے نے کہا کہ اس پر15 دنوں کے اندررپورٹ طلب کی جائے۔


مرکزی وزیرقانون روی شنکرپرساد نے بحث کے بعد کہا کہ یہ بل ووٹ بینک کے لئے نہیں ہے۔ اچھی بات یہ رہی کہ تمام ارکا ن نے اس بل کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ قوم کو نشانہ بنانے کے لئے نہیں ہے۔ بل میں سمجھوتہ کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ وزیرقانون نے کہا کہ 22 اسلامی ممالک نے تین طلاق پرقانون بنایا پھرہندوستان جیسے سیکولرملک میں یہ قانون کیوں نہیں بننا چاہئے۔


روی شنکرپرساد نے کہا کہ ایف آئی آرکا غلط استعمال نہ ہو، اس لئے اس میں ترمیم کی گئی ہے۔ انہوں نے بحث کہا کہ ہم عورتوں کوانصاف دلانے اوران کوان کا حق دلانے کے لئے ہم یہ بل لےکرآئے ہیں۔ اس لئے اس پرسیاست نہ کرکے اس کے ساتھ آنا چاہئے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ طلاق ثلاثہ بل کوجلد بازی میں نہ پیش کیا جائے۔


روی شنکرپرساد کا کہنا ہے کہ یہ بل کسی بھی طبقے کے خلاف نہیں ہے، یہ بل خواتین کو انصاف دلانے اورانہیں ان کے حقوق دلانے کے لئے ہے۔ انہوں نے یہ بھی طلاق ثلاثہ پردنیا کے 20 ممالک میں پابندی عائد کی گئی ہے۔



مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اورممبرپارلیمنٹ اسد الدین نے کہا کہ حکومت کے قانون اورجبرودباو سے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہم اپنے مذہب پرعمل کریں گے اوررہتی دنیا تک اسلام پرعمل کرتے رہیں گے۔ کیونکہ مسلم خواتین کی پوری آبادی اس بل کے خلاف ہے۔  انہوں نے حکومت پرایم جے اکبرکے حوالے سے زبردست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ایسے لوگوں کو پناہ دے رہی ہے اورآپ ہمیں آئینہ دکھا رہے ہیں۔ 

اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا نام لے کرگمراہ نہ کریں۔ میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ہمارے کلچرمیں مداخلت کیوں؟َ انہوں نے کہا کہ انہیں خواتین سے محبت نہیں ہے، بلکہ  ان کا مقصد انہیں  جیل بھیجنا ہے۔ اگرمرد کو جیل بھیج دیں گے، ان کے بچوں کی تعلیم اورروزی روٹی کا بندوبست کون کرے گا؟ اویسی نے کہا کہ انصاف دلانے کے نام پردھوکہ ہے۔ 

کمیونسٹ ممبرپارلیمنٹ محمد سلیم نے حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ قرآن وحدیث پربات کرنے کے لئے بی جے پی کافی ہے، کیونکہ بی جے پی لیڈراب قرآن وحدیث کی بات کرتے ہیں۔ ایک طرف مسلم طبقے کواورمردوں کے اختیارات کوچھین رہے ہواورمگرمچھ کا آنسو بہاتے ہوئےمسلم خواتین کو انصاف دلانے کی بات کرتے ہو۔ 

سی پی آئی نے تین طلاق بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم تین طلاق بل کو فوجداری کے تحت لائے جانے کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے مختلف معاملات کواٹھاتے ہوئے کہا کہ اس بل کے لئے کمیٹی بنائی جائے، کیونکہ اس بل کی بنیاد ہی ٹھیک نہیں ہے۔ 

ممبرپارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسلامی شریعت میں مداخلت ہے۔ یہ بل مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو چھیننے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی بیشترآبادی اس قانون سے متفق نہیں ہے، اس لئے اس کو جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے۔ 

مرکزی وزیراسمرتی ایرانی نے طلاق ثلاثہ بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ 477 بہنیں آج بھی متاثرہیں، جوسپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی طلاق بدعت کا شکارہوئی ہیں۔ اگرایسا ہوتا ہے تواس ایوان کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس بہن کو انصاف دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ ایوان اس بات پرفخرکرسکتا ہے کہ وزیراعظم اوروزیرقانون نے سیاست کے مقصد سے نہیں اورووٹ بینک کی سیاست کرنے کی وجہ سے نہیں لایا گیا ہے بلکہ ہم ان بہنوں کوانصاف دلانا چاہتے ہیں، جن کے ساتھ نا انصافی ہورہی ہے۔

کانگریس ممبرپارلیمنٹ رنجیتا رنجن نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ قرآن میں طلاق کا جوطریقہ بتایا گیا ہے، اسی کے مطابق قانون لایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنا چاہئے۔ رنجیتا رنجن نے کہا کہ قرآن کوسمجھنے والوں کو بلاکران سے تبادلہ خیال کے بعد بل لایا جانا چاہئے۔

اس سے قبل تمام اپوزیشن جماعتوں نے اسے جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مرکزی  وزیرقانون روی شنکرپرساد نےبل کو پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین طلاق کا غلط استعمال کیا جارہا ہے، اس لئے اس معاملے کوسیاست کے ترازوپرنہ تولا جائے، بلکہ اسے خواتین کو انصاف دلانے کے لئے لایا جارہا ہے۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت کو مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ کانگریس لیڈرسشمتا دیونے تین طلاق بل پربحث کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر'منہ میں رام، بغل میں چھری ہے' تو اس پرہمیں اعتراض ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس بل کوجوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کوبھیجا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل سے مسلم مردوں کو  سشمتا دیو نے کہا کہ اگرکسی بھی قانون نے ملک کی خواتین کو سب سے زیادہ بااختیاربنایا ہے تووہ 1986 میں راجیو گاندھی کے ذریعہ بنایا گیا قانون تھا۔

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امورمختارعباس نقوی نے تین طلاق بل پربحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ دن تاریخی دن ہے۔ تیس سال قبل کانگریس کے پاس زبردست اکثریت تھی، لیکن انہوں نے ایسی غلطی کی، جس کی سزا برسوں تک مل رہی ہے۔ مختارعباس نقوی نے کہا کہ ہمیں ایک سدھاراورریفارم کی لڑائی میں مذہب، سیاست اوعلاقوں سے اوپراٹھنا ہوگا۔ کیا ہم سب یہ نہیں چاہتے کہ مسلم خواتین کو ان کا آئینی اوربنیادی حق ملنا چاہئے؟ اگر ہم چاہتے ہیں تواس بل کواسٹینڈنگ کمیٹی اورسلیکٹ کمیٹی میں ڈالنے کی بات کریں گے توکہیں نہ کہیں ہم ایمانداری نہیں کرپائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل خواتین کو ان کے حقوق اوراختیارات دینے والا تاریخی بل ہوگا۔ 

واضح رہے کہ آج تین طلاق پرپارلیمنٹ میں بحث جاری ہے۔ اس کے لئے بی جے پی اورکانگریس نے اپنے تمام ممبران پارلیمنٹ کے موجود رہنے کے لئے وہپ جاری کیا ہے۔ سشمتا دیو نے بل کوواپس لینے اوراس پرغورکرنے کے لئے کمیٹی بنانے اورنہ صرف مسلم خواتین بلکہ سبھی طبقے کی خواتین کومضبوط اوربااختیاربنانے کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی ممبرپارلیمنٹ میناکشی لیکھی نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوراسلام طلاق کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کرنے والوں سے پوچھنا چاہں کہ معزز قرآن کے کس سورۃ میں طلاق بدعت کا ذکرہے؟ یہ مرد بنام خواتین نہیں ہے، یہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔


انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے طلاق بدعت کو غیرآئینی قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین چاہے ہندوہوں،یا مسلمان یا کسی بھی مذہب کی وہ پوری زندگی شادی کو نبھانے کی کوشش کرتی ہےاورطلاق نہیں چاہتی۔ اس لئے کسی مرد کو یہ حقوق دے دینا کہ وہ تین بارطلاق کہہ کر طلاق دے دے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ لیکھی نے کہا کہ ہمارے آئین میں یونیفارم سول کوڈ کی بات کی گئی ہے، یونیفارم مذہبی کوڈ کی بات نہیں کی گئی ہے۔ میناکشی لیکھی نے حنفی اورسلفی مسلک کی بھی بات کرتے ہوئے اپنی بات رکھی ہے۔  





واضح رہے کہ مودی حکومت کا کہنا ہے کہ تین طلاق کے ذریعہ مسلم خواتین کوانصاف دلانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اس پراپوزیشن جماعتوں اورخاص طورپرملی تنظیموں اوراس کے رہنماوں نے حکومت کے اس عمل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے کالعدم قراردیئے جانے کی اپیل کی ہے۔

Mallikarjun Kharge, Congress on discussion on #TripleTalaqbill in Lok Sabha today: We will take part in the discussion and keep forward our opinion. We will appeal to the govt that it should not interfere in a religious matter. pic.twitter.com/ThQ4U5fxz5 — ANI (@ANI) December 27, 2018

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور اس کی خواتین ونگ نے بھی مسلسل حکومت کے اس عمل کی مخالفت کی ہے۔ ملی رہنماوں کا کہنا ہے کہ بل میں جو تجویز رکھی گئی ہے کہ طلاق دینے والے شخص کو تین سال کے لئے جیل بھیج دیا جائے گا، مسلمان اس عمل کی مخالفت کررہے ہیں۔ گزشتہ روزاسی سلسلے میں جمعیت علمائے ہند کے وفد نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرملکا ارجن کھڑگے سے ملاقات کرکے اس بل کو واپس لئے جانے کی اپیل کی ہے۔ اس کے بعد ملکا ارجن نے بھی کہہ دیا ہے کہ کانگریس اس بل کی مخالفت کررہی ہے۔
First published: Dec 27, 2018 02:09 PM IST