اپنا ضلع منتخب کریں۔

    حکومت کے مطابق طلا ق ثلاثہ معاملے پرنہیں ہورہی ہے کمی، آرڈیننس اورملی جماعتوں کی بیداری بھی نہیں لارہی ہے رنگ

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    پارلیمنٹ میں منگل کوبتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ فیصلہ دینے کے بعد سے اب تک 248 فوراً ہونے والے تین طلاق کے معاملے درج کئے جاچکے ہیں۔

    • Share this:
      فوراً ہونے والے طلاق ثلاثہ کو لے کرپورے ملک میں ایک بحث چھڑی ہوئی ہے۔ گزشتہ کافی وقت سے خوب ہنگامہ آرائی بھی ہورہی ہے۔ طلاق ثلاثہ پرروک سے متعلق حکومت آرڈیننس بھی لاچکی ہے، لیکن وہ راجیہ سبھا میں پینڈنگ میں ہے۔ وزیرقانون روی شنکرکے مطابق سپریم کورٹ بھی اس پرفیصلہ دے چکا ہے۔ حالانکہ ملی جماعتوں کا بھی ماننا ہے کہ مسلمانوں کو تین طلاق سے بچنا چاہئے۔

      اس کے باوجود طلاق ثلاثہ کے معاملے سامنے آرہے ہیں۔ منگل کو پارلیمنٹ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ فیصلہ دینے کے بعد سے اب تک 248 فوراً ہونے والے تین طلاق کے معاملے درج کئے جاچکے ہیں۔ وہیں جنوری 2017 سےلے کراب تک میڈیا اوردوسرے ذرائع سے 477 معاملے سامنے آئے ہیں۔

      وزیرقانون کا کہنا ہے کہ تین طلاق کے سب سے زیادہ معاملے یوپی میں درج کئے گئے ہیں۔ غورطلب ہے کہ مسودہ قانون کے تحت کسی بھی طرح کا تین طلاق (زبانی، تحریری یا ای میل، ایس ایم ایس اورواٹس اپ جیسے الیکٹرانک ذرائع) قانونی نہیں ہوں گے۔

      پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران راجستھان میں ہنگامہ اورعام رائے بن پانے کی وجہ سے تین طلاق پرترمیمی بل منظورنہیں ہوسکا تھا۔ مودی کابینہ نے بل میں اگست 2018 کوتین ترمیم کئے تھے، جس میں ضمانت دینے کا اختیارمجسٹریٹ کے پاس ہوگا اورکورٹ کی اجازت سے سمجھوتے کی تجویز بھی ہوگی۔

      ترمیم نمبر 1- پہلے یہ سہولت تھی کہ تین طلاق کے معاملے میں کوئی بھی معاملہ درج نہیں کراسکتا تھا، لیکن نیا ترمیمی بل یہ کہتا ہے کہ اب متاثرہ، خاص رشتہ دارہی کیس درج کراسکے گا۔ ترممیم نمبر2- ترمیم سے پہلے فوراً والا تین طلاق غیرضمانتی جرم اورخطرناک جرم تھا۔ پولیس بغیروارنٹ کے گرفتارکرسکتی تھی، لیکن اب نیا ترمیمی بل میں یہ کہتا ہے کہ مجسٹریٹ کو ضمانت دینے کا اختیارہوگا۔ ترمیم نمبر3- پہلے سمجھوتے کی کوئی تجویزنہیں تھی، لیکن اب نئے ترمیمی بل میں یہ کہا گیا ہے کہ مجسٹریٹ کے سامنے شوہر- بیوی میں معاہدہ کا متبادل بھی کھلا رہے گا۔

      ناصرحسین کی رپورٹ
      First published: