ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

طلاق ثلاثہ : کانگریس کے لئے مشکل تو بی جے پی کیلئے ہےسیاسی مسئلہ

پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا آخری ہفتہ بچا ہے ۔اسی سیشن میں حکومت کو طلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھا میں پاس کرانا تھا،ابھی تک اس بارے میں کوئی سگبگاہٹ تک نہیں ہے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
طلاق ثلاثہ : کانگریس کے لئے مشکل تو بی جے پی کیلئے ہےسیاسی مسئلہ
تین طلاق بل کانگریس کے لئے مشکل تو بی جے پی کیلئے سیاسی مسئلہ

نئی دہلی۔پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا آخری ہفتہ بچا ہے ۔اسی سیشن میں حکومت کو طلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھا میں پاس کرانا تھا،ابھی تک اس بارے میں کوئی سگبگاہٹ تک نہیں ہے۔حالانکہ پہلے حکومت کی جانب سے اشارہ ملا تھا کہ راجیہ سبھا کی 59 سیٹوں پر انتخابات کے بعد راجیہ سبھامیں بی جے پی کی طاقت بڑھنے کے پر حکومت غیر کانگریسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر اس بل کو منظور کرانے کی کوشش کریگی۔چناؤ ہو گئے ۔راجیہ سبھا میں بیجے پی کی 15 سیٹیں بڑھ گئیں مگر یہ بل حکومت کی ترجیحی فہرست میں نہیں ہے۔


طلاق ثلاثہ بل کا مستقبل کیلئے زیر التوا نظر آرہا ہے۔سپریم کورٹ میں آل انڈیا مسلمپرسنل لا بورڈ کے وکیل رہے اور راجیہ سبھا میں اس مسئلے پر کانگریس کے سربراہ پالیسی سازکپل سبل صاف کہتے ہیں کہ کانگریس بل کو سیلیکٹ کمیٹی میں بھیجے بغیر راجیہ سبھامیں پاس نہیں ہونے دیگی۔


وہیں اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی کا کہنا ہیکہ صرف طلاق ثلاثہ بل ہی کیوں ایوان میں ہنگامے کے چلتے کئی اہم بلزیر التواہیں ۔پارلیمنٹ کی کارروائی ہو تو حکومت کسی بل کے بارے میں سوچے۔ان کے لہجے سے لگتا ہیکہ طلاق ثلاثہ بل کا ذکر کرکے حکومتفی الحال اپنے خلاف کانگریس کو اور بولنے کا موقع نہیں دینا چاہتی ۔لہذا پارلیمنٹ کے موجودہ سیشن مین اس بل کے پاس ہونے کے آثار نہیں لگتے۔


triple-talaq-1

طلاق ثلاثہ پر آمنے سامنے بی جے پی ۔کانگریس

سرمائی سیشن میں 28 دسمبر کو لوک سبھا مین تو تین طلاق بل آسانی سے پاس ہو گیا تھا۔وہاں کانگریس نے بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کی مانگ کی تھی لیکن وہ اس بضد نہیں تھی۔کانگری کی تھوڑی سی مخالفت کے چلتے حکومت نے لوکسبھا میں اسے پاس کرالیا تھا۔راجیہ سبھا میں کانگریس نے اپنا رخ بدلا اور بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کا مطالبے پر بضد ہو گئی ۔حکومت نے کانگریس کے دباؤ کے آگے جھنے سے صاف انکا ر کر دیا ۔
بل کو سلیکٹ کمیٹی میں نہیں بھیجا۔بی جے پی نے کانگریس کو مسلم خواتین مخالف قرار  دیا تو اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد کو صفائی دینی پڑی کہ کانگریس بل کی مخالفت میں نہیں ہے۔بلکہ اس میں مسلم خواتین کے حق کی نظر اندازی کئے جانے کے خلاف ہے۔
دراصل بل کے راجیہ سبھا میں زیر التوا میں یہی معاملہ پھنسا ہے۔کانگریس حکومت سے بل میں تین طلاق متاثرہ خواتین کے شوہر کی سزا کے دوران اس کے اور اس کے بچوں کے دیکھ بھال کا پختہ انتظام کرنے کی گارنٹی چاہتی ہے۔تین سال کی سزا کی منظور ہونے کی وجہ سے ہی بل پھنس گیا ہے۔اسی کے چلتے طلاق ثلاثۃ کے خلاف مہم چلانے والی زیادہ تر مسلم خواتین تنظیم اس کے حق میں نہیں ہیں۔
طلاق ثلاثہ کے خلاف کئی سال سے ملک بھر میں مہم چلانے والی آل انڈیا خواتین مسلم پرسنل لا بورڈ کی صدر شائستہ عنبر اس بل کو شریعت اور سپریم کورٹ کے فیصلی کے جذبات کے خلاف مانتی ہیں۔ان کا کہنا ہیکہ وہ طلاق پر کسی بھی قانون کی حمایت تبھی کریں گی جب وہ شریعت کے مطابق ہوگا۔

حیدرآباد کی تنظیم "مسلم خواتین ریسرچ کیندر"کی کوآرڈینیٹراسماء زہرا اس بل کو مکمل طور پر خواتین اور بچوں کئ حق کے خلاف مانتی ہیں۔ان کا کہنا ہہکہ حکومت نے ایک دیوانی معاملے کو فوج داری جرم میں تبدیل کرکے اچھا نہیں کیا۔وہیں طلاق شدہ خواتین کے حق کیلئے لڑ رہی سماجی کارکن نائش حسن بھی بل موجود ہ شکل میں پاس کئے جانے کے حق میں نہیں ہیں۔بل کے حق میں ہندستانی مسلم خواتین تحریک اور قومی مسلم خواتین منچ کے ساتھ ای دو تنظیم اور کھڑی ہیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بل کے خلاف بڑے پیمانے پر مسلم خواتین کو سڑکوں پر اتار کر بل کی حمایت کرنے والیواز کو کافی حد تک دبا دیا ہے۔بورڈ خواتین سے آئے دن ملک کے کسی نہ کسی حصے میں بڑے پیمانے پر اس بل کے خلاف مظاہرہ کرا رہا ہے۔AIMPLB1
First published: Mar 26, 2018 09:08 AM IST