ہوم » نیوز » No Category

مسلم تنظیمیں مسلم پرسنل لا میں غیرمذہبی اداروں اورعدالتوں کی مداخلت کے خلاف

نئی دہلی۔ بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی ذکیہ سون اورنورجہاں صفیہ نیاز کی جانب سے ایک بار پھر سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکےتین طلاق کےغیرشرعی ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔

  • ETV
  • Last Updated: Jun 15, 2016 10:01 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مسلم تنظیمیں مسلم پرسنل لا میں غیرمذہبی اداروں اورعدالتوں کی مداخلت کے خلاف
نئی دہلی۔ بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی ذکیہ سون اورنورجہاں صفیہ نیاز کی جانب سے ایک بار پھر سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکےتین طلاق کےغیرشرعی ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔

نئی دہلی۔ بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی ذکیہ سون اورنورجہاں صفیہ نیاز کی جانب سے ایک بار پھر سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکےتین طلاق کےغیرشرعی ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔ عرضی میں طلاق بدعت اورحلالہ سے مسلم خواتین کےساتھ نا انصافی ہونے کا بھی ذکر ہے۔ جب کہ دوسری جانب تمام مسالک کے علما  مسلم پرسنل لا میں کسی بھی طرح کی مداخلت کو ناقابل برداشت مانتے ہیں۔


تمام مسالک کے علما و دانشوران کا ماننا ہے کہ تین طلاق کو ختم کرنے کی مانگ دراصل چند مسلم خواتین کی جانب سے کی  جارہی ہے جو کہ آر ایس ایس کے بہکاوے میں آکر اس طرح کی مانگیں کررہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اسلامی شریعت پسند نہیں تو وہ قاضی کے بجائےعدلیہ کا رخ کرنےکے لئےآزاد ہیں۔


جماعت اسلامی ہند خواتین ونگ کی آرگنائزر شائستہ رفعت اسلامی شریعت میں اسلامک اسکالر کی مداخلت کو تو جائز ٹھہراتی ہوئی نظر آتی ہیں لیکن غیرمذہبی اورغیرشرعی ادارہ اوراشخاص یہاں تک کہ عدالت کی مداخلت کو بھی غلط قراردیتی ہیں۔  انہوں نے کہا کہ اسلام میں جائزچیزوں میں سب سے زیادہ مکروہ طلاق ہے اورطلاق بدعت اس سےبھی کئی گنا زیادہ مکروہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ لہذا مردوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طلاق کی نوعیت کو سمجھیں لیکن اگرکوئی طلاق بدعت کوسمجھےبغیرطلاق دے دیتا ہے توطلاق واقع ہوجائےگا۔ شائستہ رفعت نےکہا کہ حلالہ اسلامی شریعہ کاحصہ ہے اس میں کسی بھی طرح کی تبدیلی نا ممکن ہے۔


maulana asghar ali salafi mahdi


اس بارے میں مرکزی جمعیت اہل حدیث، ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغرعلی امام مہدی نے کہا کہ اہل حدیث کے نزدیک ایک نشست میں تین طلاق کو صرف ایک طلاق تسلیم کیا جاتا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ غیرمذہبی افراد کومذہبی امورمیں مداخلت سے بچنا چاہئے۔ انہوں نےکہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ میں کسی بھی طرح کی مداخلت غیرفطری ہوگی۔


آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینئر رکن ڈاکٹر قاسم رسول الیاس کا بھی یہی کہنا ہے کہ بورڈ سپریم کورٹ میں فریق ہےاور آئندہ بھی مسلم پرسنل لا کے حوالےسے کسی بھی معاملہ میں فریق ہوگا۔

qasim rasool iliyas


انہوں نے کہا کہ طلاق بدعت کو صرف ایک طلاق ماننے والوں کے بھی اپنےشرعی دلائل ہیں۔ جو جس مسلک کا ہے، وہ اس پرعمل کرتےہیں۔  لیکن شرعی مسئلہ میں غیرمذہبی یا پھرغیرشرعی فیصلہ ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے۔

First published: Jun 15, 2016 09:58 AM IST