உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یہ ہے تین طلاق کے پیچھے کی اصل حقیقت؟ بی جے پی نے اس منشا سے اٹھایا یہ مدعا؟

    دراصل، ایسا نہیں ہے کہ طلاق سے پہلے صلح صفائی کی کوششیں نہیں کی جاتیں، کی جاتی ہیں، لیکن وہ سامنے نہیں آتیں۔

    دراصل، ایسا نہیں ہے کہ طلاق سے پہلے صلح صفائی کی کوششیں نہیں کی جاتیں، کی جاتی ہیں، لیکن وہ سامنے نہیں آتیں۔

    دراصل، ایسا نہیں ہے کہ طلاق سے پہلے صلح صفائی کی کوششیں نہیں کی جاتیں، کی جاتی ہیں، لیکن وہ سامنے نہیں آتیں۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں مسلم خواتین کے تئیں بہت زیادہ پیارامنڈ پڑا ہے۔ ان کی بدحالی سے یہ بہت فکر مند نظر آتے ہیں، اس لئے تین طلاق کے مسئلے کی ایسی تشہیرکر رہے ہیں، جیسے اس پر روک لگتے ہی مسلم خواتین ایک دم خوشحال ہو جائیں گی، ان کے تمام مسائل ایک ہی جھٹکے میں ختم ہو جائیں گے۔  ایسے ہی جیسے مودی کے وزیر اعظم بنتے ہی ملک کے تمام مسائل ختم ہو گئے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ طلاق کی نوبت کسی ایک لمحے میں نہیں آتی ہے۔ اختلافات جب عروج پر پہنچتے ہیں، تو طلاق کا معاملہ آتا ہے۔

      دراصل، ایسا نہیں ہے کہ طلاق سے پہلے صلح صفائی کی کوششیں نہیں کی جاتیں، کی جاتی ہیں، لیکن وہ سامنے نہیں آتیں۔ سامنے آتا ہے تو یہ کہ شوہر نے ایک جھٹکے میں طلاق-طلاق-طلاق بول کر بیوی سے پیچھا چھڑا لیا ہے۔ خبر بنتی ہے کہ سبزی میں نمک تیز ہونے کی وجہ سے شوہر نے بیوی کو طلاق دے دی۔ سبزی میں نمک تیز ہونا بھلے فوری وجہ ہو، لیکن اس سے پہلے جو تلخیاں دونوں کے درمیان ہوتی ہیں، اسے کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ جب کوئی غیر مسلم جوڑا عدالت میں طلاق لینے جاتا ہے، تو کیا وہ کسی ایک لمحے میں لیا جانا فیصلہ ہوتا ہے؟ نہیں ہوتا ہے۔ جب اختلافات عروج پر پہنچ جاتے ہیں، تبھی دونوں الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہی بات تین طلاق کے تناظر میں بھی کہی جا سکتی ہے۔

      ہاں، اتنا ضرور ہے کہ جب نکاح ہوتے وقت معاشرہ ساتھ ہوتا ہے، نکاح کے دو گواہ ہوتے ہیں، دو وکیل ہوتے ہیں جو لڑکے اور لڑکی کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں، تو طلاق بھی گواہوں کی موجودگی میں کیوں نہیں دی جا سکتی؟ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو اسے یہ تحریری طور پر دینی چاہئے۔

      بہر حال، آر ایس ایس اور بی جے پی اس مدعا کے سہارے الیکشن میں مذہبی پولرائزیشن کرنا چاہتی ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ اور علماء سنگھ کے جال میں پھنس کر تین طلاق کو جینے مرنے کا سوال بنا رہے ہیں۔ مسلمان اس مسئلے کو جتنا اچھالیں گے، اتنا ہی سنگھ پریوار کا ایجنڈا پورا ہوتا جائے گا۔

      bjp3

      یقینا، یہ سمجھ سے باہر ہے کہ مسلمان اس مسئلے پر اتنی ہائے توبہ کیوں مچا رہے ہیں؟ کیوں نیوز چینلز کی ڈبیٹ میں جا رہے ہیں؟ کیوں پریس کانفرنس کرکے احتجاج جتا رہے ہیں؟ سپریم کورٹ اور حکومت جو کرنا چاہتی ہیں، کرنے دیجئے نا۔ اس ملک میں قانون سے کوئی مسئلہ ختم ہوا ہے کیا؟ کیا جہیز کا چلن بند ہو گیا؟ کیا جہیز کی خاطر بہوؤں کو مارنا ختم ہو گیا؟ کیا جنین کا قتل بند ہو گیا؟ کیا چائلڈ لیبر رک گیا؟

      All India Muslim Personal Law Board Press Conference On Triple Talaq Issue

      دراصل جہاں تک یکساں سول کوڈ کی بات ہے، اس پر 'سوت نہ کپاس جلاہوں میں لٹھم لٹھا' والی کہاوت صادق ہو رہی ہے۔ کہاں ہے یکساں سول کوڈ کا مسودہ؟ کیا اس پر تمام مذاہب، فرقوں، قوموں وغیرہ کی رضامندی لے لی گئی ہے؟ یہ ٹرپل طلاق اور یکساں سول کوڈ کچھ نہیں ہے۔ یہ صرف اس مسئلے پر ہندو مسلمان کرنا چاہتے ہیں، جس سے انہیں آئندہ اسمبلی انتخابات میں فائدہ ہو جائے۔

      سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ کوئی کس طرح اپنے پرسنل لاء کے حساب سے زندگی جیتا ہے، اس پر دوسروں کو کیوں اعتراض ہونا چاہئے؟ جنوبی ہندوستان کی کچھ قوموں میں اگر سگی بھانجی سے شادی جائز مانی جاتی ہے، تو میں کون ہوتا ہوں اسے ناجائز کہنے والا؟

      سلیم اختر صدیقی کی تحریر

      تصویریں: گیٹی امیجیز

      نوٹ: مضمون نگار کے خیال مکمل طور پر نجی ہیں، پردیش ۱۸ اردو ڈاٹ کام اس میں درج باتوں کی نہ تو حمایت کرتا ہے اور نہ ہی اس کے حق یا مخالفت میں اپنی رضامندی ظاہر کرتا ہے۔
      First published: