உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تری پورہ تشدد: مسلم تنظیموں نے پریس کانفرنس کر کے ریاستی حکومت پر سوال اٹھائے

    تری پورہ تشدد: مسلم تنظیموں نے پریس کانفرنس کر کے ریاستی حکومت پر سوال اٹھائے

    تری پورہ تشدد: مسلم تنظیموں نے پریس کانفرنس کر کے ریاستی حکومت پر سوال اٹھائے

    تریپورہ کے 8 اضلاع میں سے 4 ضلعوں میں تشدد کے واقعات کی خبر ملی ہے۔ شمالی تر پورہ کے ضلع ہیڈ کوارٹر پانی ساگر، دھرم نگر میں سب سے زیادہ تشدد کے واقعات رپورٹ کئے گئے ہیں ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : مسلم تنظیموں کے ایک مشترکہ وفد نے تریپورہ کا دورہ کیا تا کہ تشدد کی جانچ کی جاسکے ۔ وفد میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدرنوید حامد، جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر ، جماعت کے نیشنل سکریٹری مولا ناشفيع مدنی، آل انڈیا جمعیت اہل حدیث کے مولانا  ثیث تیمی ، آل انڈیا ملی کونسل کے شمس تبریز  قاسمی کے علاوہ اور نور اسلام  مرزربھوئیا جماعت اسلامی ہند کے امیر حلقہ آسام (جنوب)، اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کے  تریپورہ صدر شفیق الرحمن شامل تھے۔ مولانا فریدالدین قاسمی امارت شریعہ ( شمالی جنوب) بھی وفد میں شامل ہوئے۔ یہ وفد 31 اکتوبرکو اگر تلہ پہنچا اور ان علاقوں کا دورہ کیا جہاں تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی خبریں ملی تھیں ۔

    تریپورہ کے 8 اضلاع میں سے 4 ضلعوں میں تشدد کے واقعات کی خبر  ملی ہے۔ شمالی تر پورہ کے ضلع ہیڈ کوارٹر پانی ساگر، دھرم نگر میں سب سے زیادہ تشدد کے واقعات رپورٹ کئے گئے ہیں ۔ مشتبہ  شرپشند چھوٹے چھوٹے گروہوں میں ہوتے تھے جو اندھیرے میں اپنا کام انجام دیتے تھے یا پھر جہاں مسجد سے مسلمانوں کی آبادی دورتھی ۔ وفد نے متاثرہ مساجد کا دورہ کیا۔ اس صورتحال کی وجہ سے تر یپورہ میں اقلیتی طبقہ کے افراد خوف و دہشت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

    ان لوگوں نے وفد کو بتایا کہ حملہ آور نامعلوم ( باہری ) لوگ تھے۔ اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سماج دشمن عناصر بنگلہ دیش میں ہوئے تشدد کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ہوا دینے کے لئے جان بوجھ کر فرقہ وارانہ مہم چلارہے ہیں ۔ خوش قسمتی سے مقامی آبادی اس پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوئی اور انہوں نے فرقہ پرستوں کا ساتھ نہیں دیا۔ اس وجہ سے لوگ ان فسادیوں کی شناخت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔

    وفد کے کئی مطالبات بھی کئے ہیں ۔ پولیس محکمہ جاتی انکوائری کرے اور فرائض میں کوتاہی کرنے والے پولیس افسران کا پتا لگائے ، ان ملازمین اور تشدد کرنے والوں کے خلاف کاروائی شروع کی جائے ، قصور وار افسران کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے ظاہر ہوگا کہ پولیس ایک آزاد ادارہ ہے اور اسے کسی مخصوص سیاسی جماعت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال نہیں کیا جارہا ہے ۔

    وفد کا کہنا ہے کہ ہماری معلومات کے مطابق پولیس اور انتظامیہ براہ راست ریاستی حکومت کے ماتحت ہے، اس لئے ریاستی حکومت بھی تر پورہ میں تشدد کی ذمہ دار ہے۔ ریاستی حکومت نے تشد دکو جاری رکھنے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی بڑی کارروائی شروع نہیں کی ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے۔

    وفد نے تریپورہ کے وزیراعلی کو مخاطب کرتے ہوئے ایک  خط بھی لکھا ۔ اس خط پر وفد کے اراکین نے مشترکہ طور پر دستخط کیے ہیں۔ تریپورہ میں فرقہ وارانہ تشدد اور لڑائی جھگڑوں کی کوئی تاریخ نہیں رہی ہے ۔ محسوس کرتے ہیں کہ فرقہ پرست طاقتیں نفرت پیدا کرنے اور ملک کے ماحول کو  پولرائز کرنے کی کوشش کررہی ہیں، اس کے باوجود پرسکون رہنا چاہئے، اشتعال انگیزی اور بھڑکاؤ سے گریز کرنا چاہئے اور تمام طبقات کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنا چاہئے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: