ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

روہتک گینگ ریپ میں نیا موڑ، ملزموں نے کیا واقعہ کے وقت دوسرے شہر میں ہونے کا دعوی

ڈبل گینگ ریپ کے ملزموں نے اپنی صفائی میں سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو دیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ واقعہ کے وقت وہ دوسرے شہر میں تھے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Jul 19, 2016 12:02 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
روہتک گینگ ریپ میں نیا موڑ، ملزموں نے کیا واقعہ کے وقت دوسرے شہر میں ہونے کا دعوی
ڈبل گینگ ریپ کے ملزموں نے اپنی صفائی میں سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو دیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ واقعہ کے وقت وہ دوسرے شہر میں تھے۔

روہتک : ہریانہ کے روہتک میں ایک طالبہ نے اجتماعی آبروریزی کا الزام لگایا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ متاثرہ نے جن لوگوں پر الزام لگایا ہے ، ان پر سال 2013 میں بھی اسی طالبہ کی اجتماعی آبروریزی کا الزام لگ چکا ہے۔ متاثرہ کا کہنا ہے کہ اس نے کورٹ سے باہر معاہدے سے انکار کردیا تھا ، جس کی اسے سزا دی گئی ہے ۔ ایسے میں پولیس سے لے کر حکومت تک پر سوالات اٹھ رہے ہیں ۔

پولیس کے پاس اس کیس کے کچھ ایسے دعوے بھی آئے ہیں ، جن سے ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ ڈبل گینگ ریپ کے ملزموں نے اپنی صفائی میں سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو دیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ واقعہ کے وقت وہ دوسرے شہر میں تھے۔ پولیس کو تفتیش میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ گینگ ریپ کے تینوں ملزموں کی موبائل لوکیشن روہتک سے باہر انبالہ اور بھوانی میں ہے ۔ پولیس یہ بھی دعوی کر رہی ہے کہ اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے بیان نہیں دے رہی ہے ، جو شک پیدا کر رہا ہے۔

بی کام کی طالبہ کی 2013 میں بھوانی میں اجتماعی آبروری کی گئی تھی اور اس وقت دو ملزم گرفتار کئے گئے تھے۔ لیکن ان کے خوف اس قدر غلبہ تھا کہ متاثرہ کے کنبہ نے گھربار چھوڑ دیا اور روہتک میں بس گئے۔ اسی درمیان ملزموں کو ضمانت مل گئی۔ اب الزام ہے کہ اسی کے بعد متاثرہ کنبہ پر 50 لاکھ روپے لے کر کیس واپس لینے کا دباؤ ڈالا گیا، وہ تیار نہیں ہوا اور اس کے بعد وحشت کی نئی کہانی لکھی گئی۔ متاثرہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ کیس واپس لینے کے عوض میں 50 لاکھ روپے کا لالچ دے رہے تھے۔

بہر حال سچ جو بھی ہو، مرتھل کی طرح ہی ہریانہ کا یہ ریپ کیس بھی سیاسی تیور اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بی ای سپی کی سربراہ مایاوتی نے کہا ہے کہ وہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔ وزیر اعظم ہریانہ جاکر بیٹی بچاؤ کا نعرہ دیتے ہیں اور بیٹی کو تعلیم دینے کی بات کرتے ہیں ، لیکن ایسے ہی ریپ کا واقعہ ہو جائے گا ، تو بیٹی کس طرح بڑھے گی۔ لڑکیوں نے اسکول جانا بند کر دیا ہے ، کیونکہ لڑکے ان کو چھیڑتے ہیں۔

First published: Jul 18, 2016 11:15 PM IST