உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sultan Palace: پٹنہ میں سلطان محل کےتحفظ کیلئےٹوئٹرپرزبردست مہم، حکومتی اقدام کےخلاف آن لائن احتجاج

     ’سلطان پیلس کو گرانے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے‘۔

    ’سلطان پیلس کو گرانے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے‘۔

    واضح رہے کہ آر بلاک علاقے کے قریب تاریخی گارڈنر روڈ (اب بیر چند پٹیل روڈ) پر واقع سلطان پیلس کو 1922 میں پٹنہ کے معروف بیرسٹر سر سلطان احمد (Sir Sultan Ahmed) نے بنایا تھا، جنہوں نے مختصر عرصے کے لیے پٹنہ ہائی کورٹ (Patna High Court) میں جج کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

    • Share this:
      پٹنہ (Patna) میں صدیوں پرانے سلطان محل (Sultan Palace) کو بچانے کے لیے آواز بلند ہو گئی ہے اور بدھ کے روز بہت سے لوگوں نے بہار حکومت کی جانب سے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کی تعمیر کے لیے تاریخی مقام کو منہدم کرنے کے اقدام کے خلاف آن لائن احتجاج کیا۔ ٹویٹر پر یہ کال چند صارفین کی طرف سے دی گئی اور شام تک اس مشہور عمارت کو نہ گرانے کی اپیل کرنے والی ٹویٹس دکھائی دینے لگیں۔ رات گئے تک بڑی تعداد میں ٹویٹس کیے گئے، یہ ٹویٹس ایک مشترکہ ہیش ٹیگ #SaveSultanPalace کے ساتھ تھے۔

      بہار کے چھوٹے شہروں سے لے کر دہلی اور کولکاتا جیسے بڑے شہروں تک لوگ حکومت کے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے شامل ہوئے اور بہت سے لوگوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار (Nitish Kumar) کے آفیشل اکاؤنٹ کو ٹیگ کیا اور ان سے محل کو نہ توڑنے کی اپیل کی۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’سی ایم نتیش کمار جی آپ کی مہربانی! تاریخی جگہ کو مسمار نہیں کیا جانا چاہئے… مجھے امید ہے کہ آپ مسمار کرنے کا عمل بند کر دیں گے۔ سیو سلطان محل‘‘

      انہوں نے لوگوں سے تاریخی عمارتوں کو گرانے کے عمل پر سوال اٹھانے کو بھی کہا۔ ایک اور صارف نے ہندی میں لکھا کہ پٹنہ میں مٹھی بھر تاریخی عمارتیں رہ گئی ہیں۔ سلطان محل ان میں سے ہے اور یہ مخلوط فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے۔ حکومت نے اسے گرا کر فائیو سٹار ہوٹل بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے پر مورخین اور سول سوسائٹی کے ارکان اس کی شدید مخالفت کرنا چاہتے ہیں۔ اس ٹرینڈ میں شامل ہونے والے صارفین کی بڑی تعداد نے سلطان پیلس کی تصاویر بھی پوسٹ کیں۔


      حال ہی میں مورخین، کارکنان اور ملک کے عام شہریوں نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی اور حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ ’آرکیٹیکچرل آئیکن‘ کو برقرار رکھے اور اسے بحال کرے اور پٹنہ کی قابل فخر نشانی کو ختم نہ کرے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      MP News: ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے بیچ فیڈریشن بناکر مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے : پنڈت راج ناتھ شرما

      واضح رہے کہ آر بلاک علاقے کے قریب تاریخی گارڈنر روڈ (اب بیر چند پٹیل روڈ) پر واقع سلطان پیلس کو 1922 میں پٹنہ کے معروف بیرسٹر سر سلطان احمد (Sir Sultan Ahmed) نے بنایا تھا، جنہوں نے مختصر عرصے کے لیے پٹنہ ہائی کورٹ (Patna High Court) میں جج کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ انھوں نے 1923 تا 1930 تک پٹنہ یونیورسٹی (Patna University) کے پہلے ہندوستانی وائس چانسلر کے طور پر بھی خدمات انجام دی۔ ٹویٹر، فیس بک، یا انسٹاگرام پر موجود بہت سے شہریوں کی زیرقیادت اقدامات، جیسے Lost Muslim Heritage of Bihar، HeritageTimes، Pedal4Planet نے بھی اس کی حمایت کی اور اس محل کو نسل کے لیے بچانے کی اپیل کی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      LPG Cylinder:مہنگے ہوئے بڑے سلینڈر تو چھوٹے سلینڈروں کے بڑھی فروخت،آگرہ میں فروخت 30 فیصد تک بڑھی


      کئی دوسرے صارفین نے بھی ٹویٹ کیا کہ ’سلطان پیلس کو گرانے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے‘۔ ان میں سے کچھ نے پٹنہ میں راجستھان کے ہیریٹیج ہوٹل کے تصور کو نقل کرنے اور محلاتی کیمپس میں دستیاب زمین کو ہوٹل بنانے کے لیے استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ ایک صارف نے کہا کہ لوگوں کا اپنے ورثے سے رشتہ وہی ہے جو ایک بچے کا اس کی ماں سے رشتہ ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: