ہوم » نیوز » No Category

ہریانہ میں دلت بچوں کو زندہ جلانے کا معاملہ: گھر کے اندر سے ہی لگائی گئی تھی آگ

فرید آباد : ہریانہ کے سونپیڑ گاؤں میں ایک دلت خاندان کے گھر میں آگ لگا کر دو بچوں کو زندہ جلادئے جانے کے کیس میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔

  • News18
  • Last Updated: Oct 30, 2015 02:44 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ہریانہ میں دلت بچوں کو زندہ جلانے کا معاملہ: گھر کے اندر سے ہی لگائی گئی تھی آگ
فرید آباد : ہریانہ کے سونپیڑ گاؤں میں ایک دلت خاندان کے گھر میں آگ لگا کر دو بچوں کو زندہ جلادئے جانے کے کیس میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔

فرید آباد : ہریانہ کے سونپیڑ گاؤں میں ایک دلت خاندان کے گھر میں آگ لگا کر دو بچوں کو زندہ جلادئے جانے کے کیس میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ سی بی آئی کے فورنسک ماہر ین کے مطابق گھر میں آگ گھر کے اندر سے لگائی گئی تھی باہر سے نہیں۔


انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق ہریانہ کی فارنسک لیباریٹری نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آگ گھر کے اندر سے ہی لگی تھی، باہر سے نہیں لگائی گئی تھی۔ فارنسک ٹیم کو کمرے سے جلے ہوئے بستر کے نیچے سے نصف جلی مٹی کے تیل کی پلاسٹک کی بوتل، کمرے کی کھڑکی پر بنے ٹریک پر جلی ہوئی ماچس کی تیلی ملی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باہر سے کسی حملہ آور کے آنے کا کوئی نشان نہیں ملا ہے۔


اتنا ہی نہیں دو کمروں کو جوڑنے والا راستہ بھی اتنا بڑا نہیں ہے کہ لوگ آرام سے جا سکیں۔ کھڑکی جس کے ذریعہ پٹرول کمرے کے اندر اندر پھینکا گیا وہ بند تھی۔ جو ٹیم تحقیقات کیلئے گئی تھی، اس میں فارنسک لیباریٹری کے ڈائریکٹر اور کرنال لیباریٹری کے فزکس اینڈ كیمسٹري ڈویژن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرس شامل تھے۔ وہ اپنی رپورٹ اس ہفتے کے آخر تک سی بی آئی کو سونپ دیں گے۔


غور طلب ہے کہ 20 اکتوبر کی رات کو دلت کمیونٹی کے جتیندر کے گھر میں آتش زنی کا معاملہ سامنے آیا تھا، اس حملے میں دو بچوں کی موت ہو گئی تھی۔ جتندر نے الزام لگایا تھا کہ اعلی ذات کے کچھ لوگوں نے گھر میں گھس کر پٹرول چھڑکا اور آگ لگا دی۔ پھر باہر سے دروازہ بندكر کے بھاگ گئے تھے۔

First published: Oct 30, 2015 02:44 PM IST