ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش: گائے اسمگلنگ کے شک میں مسلم نوجوانوں کی پٹائی، ملزم گرفتار

یوپی کے شاملی ضلع میں گایوں کی اسمگلنگ کے شک میں گئو رکشکوں کی بھیڑ نے دو مسلم نوجوانوں سے مار پیٹ کی اور ان کی پریڈ کروائی۔

  • Share this:
اترپردیش: گائے اسمگلنگ کے شک میں مسلم نوجوانوں کی پٹائی، ملزم گرفتار
پولیس نے اس معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے گئورکشک گروپ کے سربراہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

حکومت کی سخت ہدایات کے باوجود ملک میں موب لنچنگ کے معاملات (بھیڑ کی پٹائی) تھم نہیں رہے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ یوپی کے شاملی ضلع کا ہے جہاں گایوں کی اسمگلنگ کے شک میں گئو رکشکوں کی بھیڑ نے دو مسلم نوجوانوں سے مار پیٹ کی اور ان کی پریڈ کروائی۔


پولیس نے اس معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے گئورکشک گروپ کے سربراہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے دونوں مسلم نوجوانوں کے خلاف اتر پردیش گئو کشی روک تھام قانون کے تحت معاملہ درج کر پوچھ گچھ کے لئے انہیں حراست میں لیا ہے۔


پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) شلوک کمار نے بتایا کہ دلشاد اور شاہ رخ ایک مندر کے پجاری سے دو گائے خرید کر انہیں اپنے گاؤں میں لے جا رہے تھے۔ اس کی خبر ملنے پر گئورکشکوں کے گروپ نے ان کا پیچھا کر گایوں کو لے جا رہی گاڑی کو راستہ میں روک لیا اور ان پر حملہ بول دیا۔ انہوں نے کہا کہ گئورکشگ گروپ کے سربراہ انجو بنسل کو گرفتار کر لیا گیا اور دیگر کارکنوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔


درج ایف آئی آر کے مطابق، گاڑی پر سوار دونوں نوجوانوں اور پجاری نے حملہ آوروں کو بتایا کہ انہوں نے پالنے کے لئے گائیں خریدی ہیں لیکن ملزمان نے ان کی ایک نہ سنی اور دونوں سے مارپیٹ کی اور علاقے میں ان کی پریڈ کروائی۔ حالانکہ بھیڑ نے پجاری پر حملہ نہیں کیا۔



فرسٹ پوسٹ ڈاٹ کام کے مطابق، افسر نے بتایا کہ واقعہ کے بارے میں اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور نوجوانوں کو بچایا۔ انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

بتا دیں کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ (جولائی) موب لنچگ کو لے کر داخل عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سخت تبصرہ کیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ کسی کو بھی اپنے ہاتھ میں قانون لینے کی اجازت نہیں ہے۔ ملک میں بھیڑ نظام کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سپریم کورٹ نے ملک کی پارلیمنٹ سے اس کے خلاف سخت قانون بنانے کی اپیل کی تھی۔

 
First published: Aug 21, 2018 01:21 PM IST