உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UCC: وی ایچ پی کے اجلاس میں یو سی سی پر بحث، جبری تبدیلی مذہب کے خلاف قانون پرزور

    اجلاس میں جمعہ کو ملک کے مختلف حصوں میں مظاہروں پر تشویش کا اظہار کیا گیا (وی ایچ پی ٹوئٹر)

    اجلاس میں جمعہ کو ملک کے مختلف حصوں میں مظاہروں پر تشویش کا اظہار کیا گیا (وی ایچ پی ٹوئٹر)

    جونا اکھاڑہ کے سوامی اودیشانند گری نے کہا کہ زبردستی یا لالچ کے ذریعے کوئی بھی مذہبی تبدیلی غلط ہے۔ مغربی ثقافتی اثر ہمارے ملک اور معاشرے کو متاثر کر رہا ہے۔ لوگوں کو اخلاقی اقدار پر مبنی معاشرے کی رہنمائی کرنے کی ضرورت ہے، جسے نظام تعلیم میں بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

    • Share this:
      وشو ہندو پریشد (Vishwa Hindu Parishad) کی میٹنگ کے دوران ملک میں یکساں سول کوڈ (uniform civil code)، زبردستی تبدیلی مذہب کے خلاف سخت قانون اور مندروں کے انتظام میں حکومت کی عدم مداخلت کے مطالبات اٹھائے گئے۔ کچھ مذہبی رہنماؤں نے بھی جمعہ کو ملک کے مختلف حصوں میں مظاہروں پر تشویش کا اظہار کیا، جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی معطل شدہ ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں متنازعہ تبصرے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

      نیرنجنی اکھاڑے کے سوامی کیلاشانند گری نے کہا کہ ہماری بحث بنیادی طور پر ملک میں یکساں سول کوڈ، مندروں کے انتظام میں حکومت کی عدم مداخلت اور زبردستی یا لالچ کے ذریعے مذہب کی تبدیلی کے خلاف سخت قانون سازی پر ہوئی ہے۔ ہم ہم آہنگی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس دو روزہ اجلاس سے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔


      انہوں نے کہا کہ تشدد کی کارروائیوں کے خلاف سنتوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ذریعہ بھی تبادلہ خیال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان میں مسلمان سب سے زیادہ محفوظ ہیں اور انہیں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے جذبات مجروح ہوں۔

      وی ایچ پی کی دو روزہ مرکزی مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) سے منسلک ایک دائیں بازو کی تنظیم کے تحت ہوئی۔ یہ ہفتہ کو ہریدوار کے نشکم سیوا ٹرسٹ آشرم میں شروع ہوئی۔

      مزید پڑھیں: UP Violence: نماز جمعہ کے بعد ہوئے تشدد کے معاملہ میں اب تک 255 گرفتار، جانئے کیا ہے یوگی کا حکم؟


      جونا اکھاڑہ کے سوامی اودیشانند گری نے کہا کہ زبردستی یا لالچ کے ذریعے کوئی بھی مذہبی تبدیلی غلط ہے۔ مغربی ثقافتی اثر ہمارے ملک اور معاشرے کو متاثر کر رہا ہے۔ لوگوں کو اخلاقی اقدار پر مبنی معاشرے کی رہنمائی کرنے کی ضرورت ہے، جسے نظام تعلیم میں بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

      یہ بھی پڑھئے: Saharanpur Violence: پولیس نے 64 افراد کو کیا گرفتار، دو کے گھر پر چلا بلڈوزر



      واضح رہے کہ 28 مئی کو ایک ٹیلی ویژن مباحثے کے دوران نوپور شرما نے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ تبصرہ کیا۔ جب کہ حکومت نے خود کو اس طرح کے ریمارکس سے دور رکھا، وزارت خارجہ نے بعد میں کہا کہ کچھ افراد کے بیانات حکومت کی نمائندگی نہیں کرتے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: