உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Udaipur Murder: کنہیا لال کےخاندان کی مدد، بی جےپی لیڈرکپل مشرانے 1.35 کروڑروپےکیےجمع 

    Youtube Video

    مشرا نے کہا کہ ہم کنہیا لال کے بچوں اور بیوی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔ ان کا کیا بنے گا یہ سوال تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عمل پہلے ہی دن شروع کیا گیا۔ شکر ہے کہ اب تک دنیا بھر سے 12,000 سے زیادہ لوگوں نے اس مقصد میں حصہ لیا ہے۔

    • Share this:
      بی جے پی لیڈر کپل مشرا (BJP leader Kapil Mishra) کی جانب سے چندہ جمع کرنے کا آغاز کرنے کے 24 گھنٹوں کے اندر 12,000 سے زیادہ لوگوں نے کنہیا لال کے خاندان کے لیے 1.35 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم عطیہ کی ہے۔ کنہیا لال ایک درزی تھے، جنھیں راجستھان کے ادے پور میں بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔

      دو افراد کی شناخت ریاض اختری اور غوث محمد کے طور پر کی گئی ہے، ان دونوں نے منگل کو ادے پور شہر کے دھان منڈی علاقے میں کنہیا لال کو ہتھیار سے مار ڈالا اور آن لائن ویڈیوز پوسٹ کیں جن میں کہا گیا تھا کہ وہ اسلام کی توہین کا بدلہ لے رہے ہیں۔ ان دونوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

      نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے مشرا نے کہا کہ 2020 میں دہلی فسادات کے بعد ہندو خاندانوں سے تشدد کے متاثرین کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کا خیال شروع کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے محسوس کیا کہ چاہے وہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ہوں یا سیاسی جماعتیں، کسی کو بھی ہندو متاثرین کی حالت زار کی فکر نہیں تھی۔ چنانچہ ہم نے یہ عمل دہلی کے فسادات کے بعد شروع کیا۔ تمام ہندو متاثرین کے خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی گئی۔

      مشرا نے کہا کہ راجستھان کے کرولی میں ایک مندر کے پجاری کے خاندان کو بھی اسی طرح کی مدد فراہم کی گئی تھی جسے زندہ جلا دیا گیا تھا۔ دہلی کے جہانگیر پوری سے رنکو شرما اور راہول راجپوت اور دیگر کی بھی مدد کی گئی۔ جب کنہیا لال کا قتل کیا گیا اور ہم نے یہ ویڈیو دیکھا تو میرا پہلا ردعمل یہ تھا کہ خاندان کا کیا ہوگا۔

      ہم اس کے بچوں اور بیوی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔ ان کا کیا بنے گا یہ سوال تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عمل پہلے ہی دن شروع کیا گیا۔ شکر ہے کہ اب تک دنیا بھر سے 12,000 سے زیادہ لوگوں نے اس مقصد میں حصہ لیا ہے۔

      مزید پڑھیں: Agneepath Recruitment: انڈین آرمی میں اگنی پتھ اسکیم کے تحت بھرتی 2022، جانیے تفصیلات

      اس مہم کے ذریعہ اب تک 1.35 کروڑ روپے اکٹھے کیے گئے ہیں، جو ایک ماہ کے لیے مقرر کیا گیا ہدف صرف 24 گھنٹوں میں پورا کر لیا گیا ہے۔

      مزید پڑھیں: Agnipath Scheme: مرکز اور ریاستی سرکاروں کے 'اگنی ویروں' کیلئے اہم اعلانات

      پہلے ہندو محسوس کرتے تھے کہ اگر ان کے ساتھ کچھ برا ہوا تو کوئی ان کے خاندان کی مدد کے لیے نہیں آئے گا۔ جب کشمیری پنڈتوں نے دہشت گردوں کا سامنا کیا تو انہیں حکومت پر انحصار کرنا پڑا اور کیمپوں میں رہنا پڑا۔ لیکن اس طرح کے اقدامات کی وجہ سے ہم اپنے معاشرے میں تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: