உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پی ایچ ڈی اسکالروں کے لئے یو جی سی کی اسکالر شپ جاری رہے گی

    نئی دہلی۔  مرکزی وزارت برائے ترقی انسانی وسائل نے پی ایچ ڈی کے اسکالروں کو دی جانے والی اسکالرشپ جاری رکھنے کا مطالبہ منظور کر لیا۔

    نئی دہلی۔ مرکزی وزارت برائے ترقی انسانی وسائل نے پی ایچ ڈی کے اسکالروں کو دی جانے والی اسکالرشپ جاری رکھنے کا مطالبہ منظور کر لیا۔

    نئی دہلی۔ مرکزی وزارت برائے ترقی انسانی وسائل نے پی ایچ ڈی کے اسکالروں کو دی جانے والی اسکالرشپ جاری رکھنے کا مطالبہ منظور کر لیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  مرکزی وزارت برائے ترقی انسانی وسائل نے پی ایچ ڈی کے اسکالروں کو دی جانے والی اسکالرشپ جاری رکھنے کا مطالبہ منظور کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی وزارت نے نان نیٹ اور نیٹ اسکالرشپ کے سلسلے میں ایک تجزیاتی کمیٹی  تشکیل دے دی ہے۔


      وزارت کی طرف سے جاری ایک ریلیز کے مطابق یہ کمیٹی رواں سال کے آخر تک اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور تب تک موجودہ تمام اسکالرشپ جاری رہیں گی۔  اس سے پہلے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے ٹویٹر پر بتایا تھا کہ اس کے علاوہ دہلی یونیورسٹی طلبہ تنظیم (ڈیوسو) اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ تنظیم (جےاین یوایس یو) کے ایک وفد نے کل وزیر تعلیم محترمہ اسمرتی ایرانی سے ملاقات کی ہے اور مرکزی وزیر نے طلبہ کا مطالبہ تسلیم کرلیا ہے۔


      واضح رہے کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کو دیئے جانے والے وظیفے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یو جی سی کے اس فیصلے سے ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے تقریباً 12 ہزار سے زیادہ ریسرچ اسکالروں کی تعلیم خطرے میں پڑ گئی تھی اور ملک بھر میں طلبہ نے اس فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنا شروع کر دیا تھا۔


      اسی سلسلے میں دس طلبہ تنظیموں اور ٹیچر ایسوسی ایشن نے ایم-فل اور پی ایچ ڈی کی اسکالر شپ کو ختم کرنے کے خلاف کل پیر کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے سامنے اپنی تحریک دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اے آئی ایس ایف، اے آئی ایس اے ، ایس ایف آئی،جواہر لال نہرو اسٹوڈنٹس یونین اور آل انڈیا فار رائٹ ٹو ایجوکیشن نےگزشتہ شب میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا۔


      ان طلبہ تنظیموں نے یو جی سی کی طرف سے ایم-فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کو نیٹ امتحان پاس کرنے کے بعد ہی اسکالر شپ دینے کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ جب ایم-فل اور پی ایچ ڈی میں داخلے کے لئے طلبہ تحریری اور زبانی امتحان دیتے ہی ہیں تو پھر حکومت کیوں چاہتی ہے کہ یہ طلبہ نیٹ کے امتحان بھی بنیادی طور پر پاس کریں۔

      طلبہ تنظیموں نے حکومت سے اپنا فیصلہ فوری طور واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں ملک بھر میں طلبہ کی احتجاجی تحریک شروع ہونے کی وارننگ بھی دی تھي۔

      First published: