ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نیتا جی سبھاش چندر بوس طیارہ حادثے میں بری طرح جل گئے تھے ، برطانوی ویب سائٹ کا دعوی

نئی دہلی : نیتا جی سبھاش چندر بوس کے آخری دنوں کے بارے میں 25 برس کی چھان بین کے بعد عینی شاہدین اور انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے برطانیہ کی ایک ویب سائٹ نے یہ دعوی کیا ہے کہ 18 اگست 1945 کو تائیوان میں پیش آنے والے طیارہ حادثہ میں نیتا جی بری طرح جھلس گئے تھے اور انہیں نازک حالت میں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 10, 2016 12:05 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نیتا جی سبھاش چندر بوس طیارہ حادثے میں بری طرح جل گئے تھے ، برطانوی ویب سائٹ کا دعوی
نئی دہلی : نیتا جی سبھاش چندر بوس کے آخری دنوں کے بارے میں 25 برس کی چھان بین کے بعد عینی شاہدین اور انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے برطانیہ کی ایک ویب سائٹ نے یہ دعوی کیا ہے کہ 18 اگست 1945 کو تائیوان میں پیش آنے والے طیارہ حادثہ میں نیتا جی بری طرح جھلس گئے تھے اور انہیں نازک حالت میں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

نئی دہلی : نیتا جی سبھاش چندر بوس کے آخری دنوں کے بارے میں 25 برس کی چھان بین کے بعد عینی شاہدین اور انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے برطانیہ کی ایک ویب سائٹ نے یہ دعوی کیا ہے کہ 18 اگست 1945 کو تائیوان میں پیش آنے والے طیارہ حادثہ میں نیتا جی بری طرح جھلس گئے تھے اور انہیں نازک حالت میں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔


خیال رہے کہ نیتا جی کی موت کے راز سے پردہ ہٹانے کے لئے حکومت ہند نے 1956 میں انڈین نیشنل آرمی (آئی این اے) کے میجر جنرل شاہنواز خان کی قیادت میں تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔ برطانوی ویب سائٹ نے طیارے حادثے کے عینی گواہوں سے کی گئی کمیٹی کی پوچھ گچھ کی تفصیلی رپورٹ آج شائع کی ہے۔


ویب سائٹ ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ڈاٹ بوس فائلس ڈاٹ انفو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حادثے کے شکار ہونے والے جاپانی فضائیہ کے بمبار طیارے میں نیتا جی اور عملے کے ارکان سمیت 12 سے 13 افراد سوار تھے۔ طیارے نے ویتنام کے تورین سے 18 اگست 1945 کی صبح پرواز کیا تھا۔ اس طیارے میں جاپانی فوج کے لیفٹنٹ جنرل سوناموشیدی بھی سوار تھے۔ فائٹر طیارہ کو ہیتو، تائی پئي، دايرین سے ہوتے ہوئے ٹوکیو جانا تھا۔


ہوائی اڈے کی دیکھ بھال کے ذمہ دار گراؤنڈ انجینئر کیپٹن ناكمرا عرف يوماموتا نے بتایا کہ پائلٹ اور انجینئروں نے ہوائی جہاز کے انجن کو درست بتایا تھا لیکن جیسے ہی طیارہ نے پرواز کیا، انہوں نے جہاز کو بائيں طرف جھکا دیکھا اور کوئي چيز طیارے سے گرتی ہوئي دکھائی دی۔ انہوں نے بعد میں پایا کہ طیارے سے پروپلر گرا تھا۔ اس وقت طیارہ صرف 30 سے ​​40 میٹر کی اونچائی پر تھا اور یہ حادثہ رن وے سے تقریبا 100 میٹر کے فاصلے پر ہو گیا۔


حادثے کے بعد طیارے کے اگلے حصے میں فوری آگ لگ گئی۔ نیتا جی کے ساتھ ہوائی جہاز میں سوار کرنل حبیب الرحمن کے مطابق انہوں نے پرواز کے فورا بعد توپ کے گولہ داغنے جیسی انتہائی تیز دھماکے کی آواز سنی تھی۔ طیارہ میں آگ لگنے کے بعد چونکہ پیچھے کا دروازہ بند تھا، ا س لئے انہوں نے نیتاجی کو آگے سے نکلنے کا راستہ بتایا، جہاں آگ لگی ہوئي، یعنی نیتاجی کو آگ سے ہوکر نکلنا ضروری تھا۔ پہلے نیتاجی نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ ان سے 10 یارڈ آگے چلے گئے ہيں اور ان کی قمیص میں آگ لگ گئي ہے۔


واضح رہے کہ برطانوی ویب سائٹ کا یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت ہند نیتاجی سبھاش چند بوس سے متعلق خفیہ دستاویزات کو عام کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے اور ان خفیہ فائلوں کو اس سال نیتاجی کے یوم پیدائش 23 جنوری سے عام کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

First published: Jan 10, 2016 12:05 AM IST