ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

محرم کے تعلق سے اتر پردیش کے ڈی جی پی کی جانب سے جاری سرکلر پر علماء ناراض، جانئے کیا ہے معاملہ

معروف عالم دین سیف عباس نقوی نے بھی آواز احتجاج بلند کرتے ہوئے فوری طور پر تحریر سے قابل اعتراض جملے اور لفظیات نکالنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

  • Share this:
محرم کے تعلق سے اتر پردیش کے ڈی جی پی کی جانب سے جاری سرکلر پر علماء ناراض، جانئے کیا ہے معاملہ
محرم کے تعلق سے اتر پردیش کے ڈی جی پی کی جانب سے جاری سرکلر پر علماء ناراض، جانئے کیا ہے معاملہ

لکھنو : لکھنو عزاداری کا اہم اور حسّاس مرکز  تصور کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں عشرے اور چہلم کے دوران ضلع انتظامیہ کی جانب سے  امن و امان قائم رکھنے کے لئے خصوصی بند و بست بھی کئے جاتے ہیں ۔ محرم کے تعلق سے ڈی جی پی اتر پردیش کی جانب سے جاری کیے گئے ہدایتی خطوط میں ، جس انداز کی زبان اور لفظیات استعمال کی گئی ہے ، اس سے کسی بھی مخصوص مذہب و مسلک کے لوگوں میں ناراضگی یقینی ہے ۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ محرم کوئی خوشی کا موقع یا تہوار نہیں بلکہ شہیدانِ کربلا کا غم منانے کا ایک ایسا سوگوار عمل ہے جو  صدیوں سے ہر سال متعین تاریخوں میں مکمل کیا جاتا ہے ۔ ڈی جی پی اتر پردیش کی جانب سے جاری سرکلر میں صاف طور پر تحریر کیا گیا ہے کہ محرم میں شیعہ طبقے کے لوگ تبرا پڑھ کر دوسرے مسالک کے لوگوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں  صرف اتنا ہی نہیں بلکہ یہ بھی تحریر کردیا گیا کہ محرم کے دوران گئو کشی کی جاتی ہے ، جسمانی تعلقات قائم کئے جاتے ہیں ۔


علماء کہتے ہیں کہ حکومت اترپردیش انتظامیہ کے ذمہ دار افسر کی جانب سے یہ تحریر نہ صرف افسوس ناک ہے ، بلکہ قابل مذمت ہے ۔ انہیں کربلا کی روح کو مجروح کرنے والی اس تحریر کے تعلق سے معافی مانگنی چاہئے۔ اس ضمن میں  معروف شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر ڈی جی پی کی جانب سے اس ضمن میں معافی نہیں مانگی گئی اور حالات خراب ہوئے تو اس کے لئے یوگی حکومت ذمہ دار ہوگی ۔ مولانا کلب جواد نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محرم کے تعلق سے منتظم کی جانی والی کسی بھی میٹنگ میں پولیس کے افسران کے ساتھ اس وقت تک شریک نہ ہوں جب تک ڈی جی پی معافی نہ مانگ لیں ۔


اس سلسلے میں معروف عالم دین سیف عباس نقوی نے بھی آواز احتجاج بلند کرتے ہوئے فوری طور پر تحریر سے قابل اعتراض جملے اور لفظیات نکالنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ مولانا سیف عباس نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت آئندہ الیکشن کے پیش نظر ہندو مسلم اور شیعہ سنی تفریق کو فروغ دے کر سیاسی مفاد حاصل کرنے کی خواہاں ہیں ، اسی مقصد سے یہ سرکلر جاری کیا گیا ہے ، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔


اس سلسلے میں جب بی جی کے رہنماؤں سے بات کی گئی تو انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ڈی جی پی اور سرکار کی نیت پر شبہ کرنے والے لوگ غلط ہیں ، سرکار کی منشا کسی کو تکلیف پہنچانے کی نہیں ہے ۔ بی جے پی لیڈر ہریش اوستھی کہتے ہیں کہ ریاست میں امن و امان قائم رکھنے کی غرض سے یہ تحریر دی گئی ہے،  ماضی میں لکھنو کے شیعہ سنی آپس میں لڑتے رہے ہیں ، تبرا پڑھا جاتا رہاہے ، ماحول خراب ہوتا رہا ہے، اس لئے یہ سرکلر جاری کیا گیا ہے ۔ ساتھ ہی ہریش اوستھی یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کسی کو کسی لفظ یا جملے سے تکلیف پہنچی ہے تو اس کو نوٹس میں لاکر بدلوانے کی کوشش کی جائے گی ۔ لیکن سرکار اور ڈی جی پی کی نیت پر شک نہیں کیا جانا چاہئے ۔

یہاں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ انتظامیہ کے اس اہم اور متنازع سرکلر پر شیعہ طبقے سے تعلق رکھنے والے وہ وزیر اور اہم لوگ بھی گونگے بہرے ہو گئے ہیں جو حکومت کی قصیدہ خوانی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ فی الوقت علما کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی بے پناہ ناراضگی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اہل تشیع حضرات اس ناراضگی اور مطالبے کو حکومت خاطر میں لاتی ہے یا اقلیتوں کی تعلق سے اپنے دیرینہ بے نیازی پر قائم رہتی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 02, 2021 06:19 PM IST