ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عام بجٹ : اپوزیشن پارٹیوں نے کہا : الیکشن بجٹ، حکومت نے بتایا کسانوں اورغریبوں کا بجٹ ، پڑھیں کس نے کیا کہا؟

کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت کے پانچویں بجٹ کو بے سمت اور انتخابی اور خواب دکھانے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں عوام کو گمراہ کرنے والے کھوکھلے وعدے کئے گئے ہیں

  • UNI
  • Last Updated: Feb 01, 2018 08:29 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
عام بجٹ : اپوزیشن پارٹیوں نے کہا : الیکشن بجٹ، حکومت نے بتایا کسانوں اورغریبوں کا بجٹ ، پڑھیں کس نے کیا کہا؟
کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت کے پانچویں بجٹ کو بے سمت اور انتخابی اور خواب دکھانے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں عوام کو گمراہ کرنے والے کھوکھلے وعدے کئے گئے ہیں

نئی دہلی: کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت کے پانچویں بجٹ کو بے سمت اور انتخابی اور خواب دکھانے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں عوام کو گمراہ کرنے والے کھوکھلے وعدے کئے گئے ہیں جب کہ حزب اقتدار نے اسے غریب‘ کسان اور محروم طبقات کا بجٹ بتایا اور کہا کہ اس میں سماج کے ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے۔

لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے ‘ کانگریس کے ترجمان راج ببر ‘ سشمیتا دیو ‘ رینوکا چودھری‘ ششی تھرور ‘ پی ایل پنیا‘ ترنمل کانگریس کے دنیش ترویدی ‘ رااشٹریہ جنتا دل کے جے پرکاش نارائن یادو‘سی پی آئی کے ڈی راجہ‘ وغیرہ نے وزیر خزانہ کے اس عام بجٹ کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس میں مونگیری لال کے حسین سپنے دکھاکر ایک بار پھر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات کو دھیان میں رکھ کر بنایا گیا ہے۔ بجٹ اعلانات کو حقیقت میں تبدیل کرنے کا کوئی خاکہ نہیں پیش کیا گیا ہے ۔ کچھ اپوزیشن اراکین نے اسے پکوڑا بجٹ بتایا اور کہاکہ اس میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی ‘ وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ‘ وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ‘ وزیر قانون روی شنکر پرساد ‘ مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو‘ اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی‘ انسانی وسائل کے فروغ کے وزیر پرکاش جاوڈیکر ‘ دیہی ترقی کے وزیر مملکت رام کرپال یادو‘ اور ہیمامالنی وغیرہ نے بجٹ کی تعریف کرتے ہوئے اسے کسانوں‘ غریبوں اور محروم طبقات کا خیال رکھنے والا بتایا ہے اور کہا کہ اس سے ترقی کی رفتار کو تیزی ملے گی اور ملک میں انفرااسٹرکچر سہولیات کی ترقی ہوگی۔

مسٹر کھڑگے نے بھی اسے انتخابی بجٹ قرار دیتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت نے جب چار سال میں کسانوں کے لئے کچھ نہیں کیا تو وہ اگلے نو دس ماہ میں کیا کرپائے گی۔ یہ یقینی طور پر مشتبہ ہے۔ انہوں نے اسے محض حکومت کی طرف سے لوگوں کو گمراہ کرنے والا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ عام بجٹ کم اور انتخابی منشور زیادہ ہے۔

سابق وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر ایم ویرپا موئلی نے بجٹ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کے چار سال مکمل ہورہے ہیں ۔ لیکن عوام کے لئے اچھے دن نہیں آئے۔ اس بجٹ سے لوگوں کے معیار زندگی میں سدھار کی کوئی امید نہیں ہے۔ یہ عوام مخالف بجٹ ہے۔ انکم ٹیکس سلیب میں کوئی تبدیلی نہیں کئے جانے سے مڈل کلاس مایوس ہوا ہے۔ بجٹ میں عوام کو اندھیرے میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بجٹ میں ایسا کچھ نہیں کیا گیا ہے جس سے بے روزگاروں اور کسانوں کو فوراَ راحت ملنے کی امید ہو۔

سابق مرکزی وزیر ششی تھرور نے کہا کہ بجٹ میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ کچھ پرانے منصوبوں کو نئی شکل میں پیش کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی سیکٹر کی حالت بہت خراب ہے اسے دیکھتے ہوئے وزیر خزانہ نے زرعی پیداوارکا کم ازکم سہارا قیمت لاگت سے ڈیڑھ گنا کرنے کا بجٹ میں اعلان تو کیا ہے لیکن دیکھنا ہوگا کہ اس کا کتنا فائدہ کسانوں کو مل پاتا ہے ۔ مڈل کلاس کے لئے بجٹ میں کچھ نہیں کیا گیا ہے ۔ نوجوان بہت پریشان ہیں لیکن بے روزگاری کے مسئلے کی طرف بالکل توجہ نہیں دی گئی ہے۔
مسٹر راج ببر نے کہا کہ بجٹ میں صرف لبھاونے انتخابی وعدے ہیں اور مہنگائی کم کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ تنخواہ داروں کو کوئی راحت نہیں دینے کی نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھی ہے تو انہیں حوصلہ افزائی کرنے کے لئے رعایت دی جانی چاہئے تھی۔
مسٹر پونیا نے بجٹ کو رسم ادائیگی قرار دیتے ہوئے کہ اکہ اس میں ٹوائلٹ بنانے کی بات تو ہے لیکن سر پر میلا ڈھونے کے مسئلے سے نمٹنے کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ دس کروڑ غریب خاندانوں کو سال میں پانچ لاکھ روپے تک کے اسپتال کا خرچ کے اعلان پر انہوں نے کہا کہ اس سے انشورنس کمپنیاں مالا مال ہوں گی۔
کانگریس کی رینوکا چودھری نے کہا کہ بجٹ میں خواتین اور روزگار کے لئے کچھ بھی نہیں ہے اور بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو کا ڈھنڈورا پیٹنے والی مودی حکومت نے اپنے بجٹ میں خواتین کو نظرانداز کردیا ہے۔
ترنمول کانگریس کے رہنما اور سابق وزیر ریل دنیش ترویدی نے بجٹ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو داووس کا بجٹ ہے ۔ اس میں صرف ہوا ہوائی وعدے ہیں اور حقیقت کچھ نہیں ہے۔ اسے عام بجٹ کے بجائے مودی حکومت کا اگلے سال کا انتخابی منشور کہنا زیادہ درست ہوگا ۔ بجٹ میں ریلوے کے لئے کئے گئے الاٹمنٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ریلوے میں کوئی سدھار نہیں ہورہا ہے اور وہ دیوالیہ ہونے جارہی ہے ۔ بلٹ پروف ٹرین غریبوں کے لئے نہیں امیروں کے لئے ہے۔
مسٹر راجہ نے کہا کہ یہ ترقی رخی بجٹ نہیں ہے اور عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس میں کھیت مزدوروں ‘ تنخواہ داروں او ر مڈل کلاس کے لئے کچھ نہیں ہے۔ بڑے کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہونچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سرمایہ کشی کے ذریعہ سرکاری کمپنیوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بجٹ حکومت کی مایوسی کو ظاہر کرتی ہے۔
آرجے ڈی کے مسٹر یادو نے بجٹ کو عوام مخالف اور غریب مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کھوکھلے اعلانات ہیں اور عوام کوی ایک بار پھر خواب دکھاکر گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
عام آدمی پرٹی کے سنجے سنگھ نے اسے پکوڑا بجٹ قراردیتے ہوئے کہا کہ اس میں عام آدمی کے لئے کچھ نہیں ہے۔ کسانوں کا قرض معاف کرنے اور تاجروں کو راحت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت کی مدت کار 2019ہے لیکن وعدے 2022 کے لئے ہیں۔
مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے اسے اصلاحی بجٹ قرار دیا ۔ حکومت نے اس بجٹ میں کسانوں ‘ غریبوں‘ محروموں دلتوں اور دیہی علاقوں کے لوگوں کا خصوصی دھیان رکھا گیا ہے۔
مرکزی وزیر کامرس سریش پربھو نے بجٹ کونئے ہندوستان کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے مستقبل کی ضرورتوں کے مدنظر بنایا گیا ہے۔
کرن رجیجو نے بجٹ کو انتہائی تعمیری اور ترقی رخی قراردیتے ہوئے کہا کہ اس میں صحت‘ زراعت ‘ تعلیم ‘ دفاع اور بنیاد ی ڈھانچہ جیسی بنیادی سیکٹر کا دھیان رکھا گیا ہے۔ مختار عباس نقوی نے اسے ہمہ جہت ترقی کا بجٹ قرار دیا۔ تنخواہ داروں کو راحت نہیں دئے جانے پر انہوں نے کہا کہ جسے راحت دینے کی ضرورت تھی اسے دیا گیا ہے۔

First published: Feb 01, 2018 08:29 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading