ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اروناچل پردیش میں صدر راج کی سفارش ، کانگریس اور کیجریوال کا مرکز پر تیکھا حملہ

نئی دہلی : مرکزی کابینہ نے سیاسی عدم استحکام کے دور سے گزر رہے اروناچل پردیش میں اتوار کو صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کی ہے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی کی صدارت میں آج صبح کابینہ کی میٹنگ ہوئی ، جس میں اروناچل پردیش میں صدر راج کے نفاذ کی سفارش کی گئی۔

  • Agencies
  • Last Updated: Jan 24, 2016 02:55 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اروناچل پردیش میں صدر راج کی سفارش ، کانگریس اور کیجریوال کا مرکز پر تیکھا حملہ
نئی دہلی : مرکزی کابینہ نے سیاسی عدم استحکام کے دور سے گزر رہے اروناچل پردیش میں اتوار کو صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کی ہے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی کی صدارت میں آج صبح کابینہ کی میٹنگ ہوئی ، جس میں اروناچل پردیش میں صدر راج کے نفاذ کی سفارش کی گئی۔

نئی دہلی : مرکزی کابینہ نے سیاسی عدم استحکام کے دور سے گزر رہے اروناچل پردیش میں اتوار کو صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کی ہے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی کی صدارت میں آج صبح کابینہ کی میٹنگ ہوئی ، جس میں اروناچل پردیش میں صدر راج کے نفاذ کی سفارش کی گئی۔


مرکز کی اس سفارش کے بعد کانگریس اور کیجریوال نے مودی سرکار پر تیکھا حملہ کرنا شروع کردیا ہے۔ ریاست میں حکمراں کانگریس اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔


جہاں کانگریس نے اسے رائے عامہ کی خلاف ورزی اور وفاقی ڈھانچے کا خاتمہ بتایا وہیں دہلی کے وزیر اعلی کیجریوال نے ٹویٹ کیا کہ 'اروناچل پردیش میں صدر راج کی سفارش کرنا حیران کن قدم ہے۔ یوم جمہوریہ سے ٹھیک پہلے لیا گیا یہ فیصلہ آئین کا قتل ہے۔ بی جے پی الیکشن ہار گئی ہے ، اس لئے وہ پچھلے دروازے سے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔


خیال رہے کہ ریاست میں گزشتہ سال 16 دسمبر کو سیاسی بحران اس وقت شروع ہو اتھا ، جب کانگریس کے 21 باغی ممبران اسمبلی نے بی جے پی کے 11 ارکان اسمبلی اور دو آزاد ممبران اسمبلی کے ساتھ مل کر ایک عارضی مقام پر میٹنگ کرکے اسمبلی اسپیکر پر 'مواخذے کی کارروائی کی تھی ۔ اسمبلی اسپیکر نے اس قدم کو 'غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا تھا۔

First published: Jan 24, 2016 02:53 PM IST