உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر خزانہ نے لانچ کیا چھ لاکھ کروڑ روپے کا نیشنل منیٹائزیشن پائپ لائن پروگرام

    وزیر خزانہ نے لانچ کیا چھ لاکھ کروڑ روپے کا نیشنل منیٹائزیشن پائپ لائن پروگرام ۔ تصویر : اے این آئی ۔

    وزیر خزانہ نے لانچ کیا چھ لاکھ کروڑ روپے کا نیشنل منیٹائزیشن پائپ لائن پروگرام ۔ تصویر : اے این آئی ۔

    سیتارمن نے واضح کیا کہ تمام اثاثوں کی جو منیٹائز کی جائیں گی وہ مرکزی حکومت کی ملکیت میں بنی رہیں گی ۔ نجی شعبوں کو صرف اسے چلانے اور اس کی رکھ رکھاؤ کی ذمہ داری دی دی جائے گی اور اس کے لیے ٹائم پیریڈ بھی مقرر کیا جائے گا ۔ اس کے بعد اسے حکومت کے حوالے کرنا ہوگا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : ملک میں بنیادی سہولیات سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو پورا کرنے کے لیے ریلوے ، سڑک ، بجلی ، شہری ترقی ، بندرگاہیں ، قدرتی گیس اور تیل اور ویئر ہاؤس جیسے شعبوں میں اگلے چار سالوں میں سرکاری اثاثوں کی منیٹائزیشن سے 6 لاکھ کروڑ روپے یکجا کرنے کی تیاریاں کی گئی ہیں اور اس سلسلے میں پیر کو نیتی آیوگ نے ​​دو حصوں کی قومی منیٹائزیشن پائپ لائن جاری کی۔

      پائپ لائن کو وزیر خزانہ نرملا سیتارمن ، نیتی آیوگ کے وائس چیئرمین راجیو کمار ، نیتی آیوگ کے سی ای او امیتابھ کانت سمیت نو سے زائد وزارتوں کے سیکرٹریوں نے جاری کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیتارمن نے واضح کیا کہ تمام اثاثوں کی جو منیٹائز کی جائیں گی وہ مرکزی حکومت کی ملکیت میں بنی رہیں گی ۔ نجی شعبوں کو صرف اسے چلانے اور اس کی رکھ رکھاؤ کی ذمہ داری دی دی جائے گی اور اس کے لیے ٹائم پیریڈ بھی مقرر کیا جائے گا ۔ اس کے بعد اسے حکومت کے حوالے کرنا ہوگا۔

      انہوں نے کہا کہ سال 2019 میں نیشنل انفراسٹرکچر پائپ لائن جاری کی گئی تھی اور یہ صحیح سمت میں گامزن ہے۔ وہ خود اس کی نگرانی کر رہی ہیں اور اس پائپ لائن کی پیش رفت کورونا دور میں بھی امید افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سہولیات کے ساتھ ہی مختلف عوامی فلاح و بہبود کے کاموں اور اسکیموں کے لیے اس منیٹائزیشن پائپ لائن کا اعلان رواں مالی سال کے بجٹ میں کیا گیا تھا اور اب اسے جاری کر دیا گیا ہے۔

      پائپ لائن سال 2022-25 کے لیے ہے اور اس عرصے میں 6 لاکھ کروڑ روپے کے اثاثوں کو منیٹائز کرنے کی تیاری ہے۔ اس کے لیے نیتی آیوگ نے ​​متعلقہ وزارتوں کے ساتھ گہری مشاورت کے بعد اسے تیار کیا ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: