உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مختارعباس نقوی کا دعویٰ "اقلیتی لڑکیوں کوبااختیاربنانے کےلئے جنگی پیمانے پرہورہا ہےکام"۔

    اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی: فائل فوٹو۔

    اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی: فائل فوٹو۔

    مرکزی وزیر برائے اقلیتی امورمختار عباس نقوی نے کہا ہےکہ حکومت 308 اضلاع میں اقلیتوں کی لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق بنیادی انفرااسٹرکچرمہیا کرانےکےلئے جنگی پیمانے پرکام کررہی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امورمختار عباس نقوی نے کہا ہےکہ حکومت 308 اضلاع میں اقلیتوں کی لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق بنیادی انفرااسٹرکچرمہیا کرانےکےلئے جنگی پیمانے پرکام کررہی ہے۔

       نقوی نے پیر کو یہاں منعقدہ ریاستوں اور مرکزی حکمرانی والی ریاستوں میں اقلیتوں کے معاملوں کے شعبوں کے چیف سکریٹریوں اورسکریٹریوں کے قومی تقریب کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ پردھان منتری جن وکاس پروگرام‘ کے تحت لڑکیوں کوتعلیمی اعتبار سے بااختیار اورروزگار سے متعلق اسکل صلاحیت کو پہلی ترجیح دیتے ہوئے اسکول، کالج، پالی ٹکنک، ہاسٹل، آئی ٹی آئی اوراسکل ڈیولپمنٹ مراکز کا قیام ایسے علاقوں میں عمل میں لایا جارہا ہے، جہاں آزادی کے بعد کسی طرح کی سہولت اب تک نہیں پہنچی ہے۔
      انہوں نے کہا کہ ان آسانیوں کی کمی کی وجہ سے اقلیتوں خاص طور سے مسلم سماج کی لڑکیوں میں تعلیمی فیصد بہت کم ہے۔ مودی حکومت نے گزشتہ چار برسوں میں ملک کے مختلف پسماندہ علاقوں میں 16 ڈگری کالجوں، 2019 اسکول کی عمارتوں، 37267 اضافی کلاس روم، 1141 ہاسٹل، 170 صنعتی تربیت کے ادارے(آئی ٹی آئی)، 48 پالی ٹکنک، 38736 آنگن باڑی مراکز، 348624 آئی اے وائی (پی ایم اے آئی) گھر، 340 ہم آہنگی منڈپ، 67 ہاسٹل کے ساتھ اسکول، 436 بازار شیڈ، 4436 صحت اسکیموں وغیرہ کا قیام عمل میں آیا۔ اس سے کمزور، پسماندہ، اقلیتی طبقوں خاص طور سے خواتین کی زندگی کی سطح میں معقول حد تک تبدیلی لانے میں مدد ملی ہے۔
      مختار عباس نقوی نے کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی کے ’عزت کے ساتھ بااختیار‘ اور’جامع ترقی‘ کےعزم کواور مضبوطی سے آگے بڑھانے کا مشن کامیابی کے ساتھ ہمکنار ہورہا ہے۔ تعلیم، صحت اوراسکل کے ذریعہ ترقی کےلئے مختص کردہ وسائل میں سے کم از کم 33۔40 فیصد لڑکیوں اورخواتین کوبااختیار بنانے والی اسکیموں پر خرچ کئے جائیں گے۔
      اس سے پسماندگی کے معاملے میں قومی اوسط اور اقلیتی طبقے کے درمیان کھائی میں کمی آئے گی۔ پہلے ان گاؤں کو اقلیتی علاقے مانے جاتے تھے، جن میں 50 فیصد اقلیتی آبادی ہو، لیکن اب اس آبادی کےپیمانے کو گھٹا کر ’جامع ترقی‘ کے ہدف کے ساتھ 25 فیصد کردیا گیا ہے۔

      First published: