உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ای وی ایم خراب ہونے پر مرکزی وزیر نتن گڈکری کی الیکشن کمیشن پر تنقید، کہا گرمی تو ہمیشہ پڑتی ہے

    نتن گڈکری: فائل فوٹو

    نتن گڈکری: فائل فوٹو

    مرکزی وزیر نتن گڈکری نے مہاراشٹر ضمنی الیکشن میں ای وی ایم کی خرابی کو لے کر الیکشن کمیشن کی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن ٹھیک طرح سے کام کرنے میں ناکام رہا، لیکن بی جے پی یا نریندر مودی حکومت کو اس تنازعہ میں نہیں کھینچنا چاہئے، کیونکہ الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے۔

    • Share this:
      مرکزی وزیر نتن گڈکری نے مہاراشٹر ضمنی الیکشن میں ای وی ایم کی خرابی کو لے کر الیکشن کمیشن کی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن ٹھیک طرح سے کام کرنے میں ناکام رہا، لیکن بی جے پی یا نریندر مودی حکومت کو اس تنازعہ میں نہیں کھینچنا چاہئے، کیونکہ الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے۔

      نیوز 18 کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں گڈکری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ذریعہ بتائی گئی وجوہات حیران کن ہیں کہ ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی مشینیں اس علاقے میں زبردست گرمی اور دھول کی وجہ سے خراب ہوگئیں۔ جبکہ اتنی گرمی  تومہاراشٹر میں ہمیشہ ہی رہتی ہے۔

      نتن گڈکری نے کہا کہ میں اس وقت بھنڈارا میں ہی تھا، جب بہت سارے ای وی ایم کام نہیں کررہے تھے یا پھر بند تھے۔ بتایا گیا کہ گرمی کی وجہ سے ای وی ایم مشینوں نے کام کرنا بند کردیا۔ گرمی کی وجہ سے ان کا مطلب کیا ہے؟ یہاں تو ہمیشہ سے ہی اتنی گرمی تھی۔

      وزیرٹرانسپورٹ کا یہ بیان شیو سینا کے ذریعہ الیکشن کمیشن پر کئے گئے سخت الفاظ کے حملے کے بعد آیا ہے، جس میں شیو سینا نے کہا تھا کہ اقتدار والوں نے الیکشن کمیشن، الیکشن اور جمہوریت کو رکھیل بنا رکھا ہے۔ واضح رہے کہ شیو سینا کا کہنا ہے کہ بی جے پی والوں نے ای وی ایم کو خراب کرکےخود کے استعمال کی مشینری بنالیا ہے، اس لئے الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن کوٹھیوں کی طوائف بن گئی ہے۔

      واضح رہے کہ 28 مئی کو مہاراشٹر کے بھنڈارا اور گوندیا میں ضمنی الیکشن ہونے تھے، لیکن کئی بوتھوں سے ای وی ایم کے خراب ہونے کی اطلاع ملی۔ بتایا گیا کہ گرمی کی وجہ سے ای وی ایم خراب ہوگئے ہیں، ایسے میں 49 بوتھوں میں پھر سے ووٹنگ کرانی پڑی۔ وہیں یوپی میں ای وی ایم خراب ہوجانے کے سبب 73 بوتھوں پر بدھ کو پھر سے ووٹنگ ہوئی۔

      حالانکہ یہ پہلی بار ہے کہ کابینہ وزیر نے اپوزیشن حملے کے درمیان ای وی ایم کو لے کر الیکشن کمیشن کی تنقید کی ہے۔ ایسے میں ایک بار پھر سے بیلٹ پیپر کے ذریعہ الیکشن کرانے کا مطالبہ زور پکڑرہا ہے۔

      گڈکری نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ کئی ای وی ایم کام نہیں کررہے تھے اور الیکشن کمیشن کو واقعہ کی فوری طور پر جانچ کا حکم دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن میں کوئی پریشانی ہے، تو یہ ان کی غلطی ہے۔ الیکشن کمیشن اس کے لئے ذمہ دار ہے، اگر ایسی غلطیاں ہوتی ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ انہیں جانچ کرنی چاہئے۔

      اس کے ساتھ ہی گڈکری نے یہ بھی واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کی غلطیوں کے لئے بی جے پی یا پھر وزیراعظم مودی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادار ہے۔ یہ بی جے پی حکومت کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی ہم انہیں کنٹرول کرتے ہیں۔ ہم نے ان کے کام میں کبھی مداخلت نہیں کی، اس لئے اگر کوئی غلطی ہوتی ہے تو وہ اس کے لئے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ہماری حکومت کو قصور وار ٹھہرانا غلط ہے۔

      انہوں نے کہا کہ ای وی ایم میں خرابی سے وزیراعظم کا کیا کنکشن ہے؟ بی جے پی کا اس سے کیا تعلق ہے یا میں اس سے کیسے متعلق ہوں یا حکومت کا اس میں کیا رول ہے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب اپوزیشن پارٹیاں الیکشن ہار جاتی ہیں تو صرف ای وی ایم کو قصور وار ٹھہراتی ہیں۔ جب کانگریس پنجاب میں جیتی تو ای وی ایم اچھی تھی، جب کرناٹک میں ہمیں اکثریت نہیں ملی تو ای وی ایم پھر سے اچھے لگنے لگے، لیکن جب وہ الیکشن ہار گئے تو ای وی ایم ٹھیک نہیں تھا۔

       

       

      ماریہ شکیل کا اںٹرویو
      First published: