உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک کا اتحاد ، اقلیت کی ذمہ داریاں اور قربانیاں

    ملک کا اتحاد ، اقلیت کی ذمہ داریاں اور قربانیاں

    ملک کا اتحاد ، اقلیت کی ذمہ داریاں اور قربانیاں

    اسلامی شعار و شریعت کے مطابق حب الوطنی ایمان کا جزو ہے لہٰذا جس ملک میں انسان رہے اس کا وفادار ہوکر رہے ۔ ملک سے وفاداری ایک نعمت اور غداری لعنت ہے ۔

    • Share this:
    سنجیدہ تجزیے سے یہ حقائق سامنے آتے ہیں کہ عالمی سطح پر موجودہ حالات میں جس طرح اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں مسلمان الگ تھلگ پڑتے جا رہے ہیں اور اس کا مسلمانوں پر کافی دباؤ ہے ، جس کی وجہ سے مسلم قائدین اس کیفیت سے نکلنے کے لئے دوسری اقوام کے ساتھ خیر سگالی اور ہمدردی کا اظہار کرنے کے لئے ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور خود کو ایک ہمدرد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ گزشتہ دنوں مذہبی قائدین  نے کہیں مسجد کو کوارنٹائن سنٹر بنانے کی پیشکش کی توتو کہیں حج ہاؤس اور دینی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو مفاد عامہ میں استعمال کرنے کی بات کہی گئی ۔ امام بارگاہوں کو مریضوں کے استعمال میں لانے کی بات کی گئی ، لیکن ان تمام مثبت اقدامات کے باوجود بھی اکثریت کا تشدد اپنی جگہ برقرار ہے اور لوگ اس احساس میں مبتلا ہیں کہ اس تشدد کی پشت پناہی حکومت کر رہی ہے ۔ علما کی جانب سے یہ پیش رفت بغیر اس بات کا لحاظ کئے کی گئی کہ کورونا کی وبا تو وقتی مسئلہ ہے مگر مذہبی مقامات کے تعلق سے ہماری اس طرح کی پیشکش کہیں ایک نظیر نہ بن جائے اور پھر مستقبل میں حکومت جب چاہے، ان مقامات کو اپنے استعمال میں لینا اپنا اختیار سمجھے ۔

    اسلام انسانی ہمدردی کی معراج ہے لہٰذا مساجد و دیگر مذہبی مقامات ہی نہیں بلکہ ہماری رہائش گاہیں بھی مفاد عامہ میں استعمال کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے ، لیکن ساتھ ہی یہ بھی خیال رہے کہ ان سب پر ہمارا ہی اختیار رہے ۔ تاکہ ان مقامات کا مستقبل میں کسی غیر شرعی استعمال کا اندیشہ نہ ہو ۔

    ترکی کی آیا صوفیہ مسجد کے تعلق سے بھی لوگ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق معاملج کو سمجھنے کی بجائے اپنے روشن خیال ہونے کا مظاہرہ کر رہے تھے اور اسی جوش میں میوزیم کو چرچ ثابت کرنے پر زور لگائے ہوئے تھے ۔ یہ ممکن ہے کہ وہ عمارت چرچ کی حیثیت سے تعمیر کی گئی ہو ، مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ پوری دنیا میں چرچ کو فروخت کرنے کے بے شمار معاملات موجود ہیں ، تو عین ممکن ہے کہ اس چرچ کو خرید کر مسجد کا مقام دیا گیا ہو اور یہ بات بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ  یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی مقام کو غصب کر کے مسجد تعمیر کی جائے یا عمارت کو مسجد کا نام دیا جائے ۔ اسلامی شریعت کے مطابق غضب کی گئی زمین یا ناجائز طور پر حاصل کی گئی اراضی پر مسجد کی تعمیر جائز نہیں ۔

    دوسری عجیب بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر کہیں سے بھی کوئی ایسی شخصیت یا تنظیم نظر نہیں آرہی ہے جو کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں خیر خواہی اور صلہ رحمی کے اصولوں اور ضابطے کے مطابق معاملات کو حل کرنے کی بات کرے ۔ بلا شبہ مسلم تنظیموں اور اداروں کی جانب سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے پریشان حال لوگوں کے ساتھ غیر معمولی تعاون کیا گیا ہے اور اس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے مگر اس پورے عمل کی کیفیت ایسی رہی ہے کہ جیسے ملت اسلامیہ معاشرے کے تئیں اپنی صفائی پیش کر رہی ہو اور معاشرے کو بتا رہی ہے کہ ہم تمہارے خیر خواہ ہیں ۔

    مفتی ابوالعرفان فرنگی محلی کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم دنیا میں کم اور عارضی وقت کے لئے ہیں ، اس ملک کے لئے ہم نے قربانیاں ہمیشہ پیش کی ہیں اور کرتے رہیں گے ، لیکن شریعت اور انسانی حقوق کا تحفظ بھی ہمارے پیش نظر رہنا چاہئے ۔ ملک کی سالمیت اور اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش ہونی چاہئے ۔ لیکن یہ بھی ملحوظ رہے کہ آپ کے اخلاص اور قربانیوں کا ثمر اور رد عمل کیا مل رہا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: