ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اناؤ اجتماعی عصمت دری متاثرہ کو زندہ جلانے کا معاملہ: اصل ملزم شیوم سمیت تمام 5 گرفتار

اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب متأثرہ رائے بریلی میں اپنے وکیل سے ملنے کے لئے گھر سے نکلی تھی کہ راستے میں اس کے گھر سے صرف ایک کلو میٹر کی دوری پر اس کے بدن پر پٹرول ڈال کر اس کے بدن کو آگ لگا دیا گیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 05, 2019 03:32 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اناؤ اجتماعی عصمت دری متاثرہ کو زندہ جلانے کا معاملہ: اصل ملزم شیوم سمیت تمام 5 گرفتار
سپرنٹندنٹ آف پولیس(ایس پی) وکرانت وین نے کہا کہ 23 سال کی متأثرہ اپنے وکیل سے ملنے کی غرض سے رائے بریلی جانے کے لئے اسٹیشن جارہی تھی۔

لکھنؤ۔ حیدرآباد میں ویٹرنری خاتون ڈاکٹر کی عصمت دری و بہیمانہ قتل کے ایک ہفتے بعد اترپردیش میں جمعرات کو اجتماعی عصمت دری متأثرہ کو ریپ ملزم اور اس کے چار ساتھیوں نے پٹرول ڈال کرزندہ جلانے کی کوشش کی۔ متأثرہ ریاستی راجدھانی میں واقع شیاما پرساد مکھرجی اسپتال میں زندگی و موت کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ اس کے جسم کا تقریبا 90 فیصدی حصہ جھلس چکا ہے۔ اس معاملے میں کلیدی ملزم شیوم کے ساتھ پولیس نے تمام 5 ملزمین کو گرفتار کرلیا ہے۔


اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب متأثرہ رائے بریلی میں اپنے وکیل سے ملنے کے لئے گھر سے نکلی تھی کہ راستے میں اس کے گھر سے صرف ایک کلو میٹر کی دوری پر اس کے بدن پر پٹرول ڈال کر اس کے بدن کو آگ لگا دیا گیا۔ حادثے کے وقت متأثرہ اکیلے تھی۔ اس کے ساتھ اس کے کنبے کا کوئی بھی فرد نہیں تھا۔ متأثرہ کو لکھنؤ کے سول اسپتال میں ریفر کیا گیا ہے جہاں اس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ سول اسپتال کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ڈی ایس نیگی نے بتایا کہ ’ریپ متأثرہ کی حالت کافی نازک ہے۔اس کا 90 فیصد جسم جھلس چکا ہے۔


پولیس کے مطابق متاثرہ کی کچھ مہینے قبل مبینہ طور سے عصمت دری کی گئی تھی اور اس سال مارچ کے مہینے میں اس نے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ موصول اطلاع کے مطابق ریپ متأثرہ اور ریپ کے ایک ملزم نے اپنے کنبے کے مرضی کے خلاف جاتی ہوئی شادی کرلی تھی۔ بعد میں فیملی کی ناراضگی کے باعث دونوں نے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

سپرنٹندنٹ آف پولیس(ایس پی) وکرانت وین نے کہا کہ 23 سال کی متأثرہ اپنے وکیل سے ملنے کی غرض سے رائے بریلی جانے کے لئے اسٹیشن جارہی تھی۔ تقریبا 4:30 صبح ملزموں نے اس کے گاؤں سے ٹھیک ایک کلو میڑ دور اس پر حملہ کردیا۔

وکرانت نے بتایا کہ مارچ کے مہینے میں متأثرہ نے رائے بریلی کے لال گنج پولیس اسٹیشن میں اپنی اجتماعی عصمت دری کے لئے شیوم اور شبھم کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اس کے بعد عدالت نے ان کو ضمانت دے دی تھی۔ وہیں یو پی ڈی جی پی او پی سنگھ نے کہا کہ دونوں ریپ کے ملزموں کو پولیس نے مارچ میں گرفتار کیا تھا لیکن عدالت نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ پولیس نے اپنا کام کیا تھا لیکن ان کو عدالت نے ضمانت کیسے دے دی یہ عدالت کا کام ہے۔ وہیں اس واقعہ کے بعد اپوزیشن پارٹیوں نے بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ریاستی حکومت خواتین کی سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
First published: Dec 05, 2019 03:29 PM IST