ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اناؤ عصمت دری معاملے میں گواہ کی لاش قبر سے نکالنے پراحتجاج، گھروالوں کی خودسوزی کی کوشش

اناؤ اجتماعی عصمت دری معاملہ کے اہم گواہ یونس کی لاش کو سنیچر کی رات قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم کی مخالفت میں اس کے گھروالوں نے یہاں وزیر اعلی کی رہائش کے باہر خودسوزی کی کوشش کی ۔

  • UNI
  • Last Updated: Aug 26, 2018 11:12 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اناؤ عصمت دری معاملے میں گواہ کی لاش قبر سے نکالنے پراحتجاج، گھروالوں کی خودسوزی کی کوشش
گھروالوں کی خودسوزی کی کوشش

اترپردیش میں اناؤ اجتماعی عصمت دری معاملہ کے اہم گواہ یونس کی لاش کو سنیچر کی رات قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم کی مخالفت میں اس کے گھروالوں نے یہاں وزیر اعلی کی رہائش کے باہر خودسوزی کی کوشش کی ۔ پولیس ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ اناؤ اجتماعی عصمت دری معاملے کے اہم گواہ یونس کی مبینہ طور پر بیماری کی وجہ سے کچھ روز قبل اس کی مشکوک حالات میں موت ہو گئی تھی اور اس کے گھروالوں نے کسی کو اطلاع دیئے بغیر اس کی تدفین کر دی۔


اس معاملے میں گواہ کی موت کے بعد کئی سوال پیدا ہو گئے تھے۔اگرچہ یونس کے کنبے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کی موت جگر کی بیماری کی وجہ سے ہوئی تھی۔اس دوران متاثرہ لڑکی کے کنبے کا الزام تھا کہ یونس کی بیماری سے موت نہیں بلکہ اس کا قتل ہوا ہے۔اناؤ عصمت دری معاملہ کی مظلوم لڑکی کے چچا کا کہنا ہے کہ اس معاملہ کےاہم گواہ کی موت کسی سازش کا حصہ ہو سکتی ہے اور اس کی جانچ ہونی چاہئے۔انہوں نے اس کی لاش کو قبر سے نکال کر اس کا پوسٹ مارٹم کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔




ذرائع کے مطابق یونس کی لاش قبر سے نکالنے کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے کنبے کے لوگوں نے اسے شریعت کے خلاف بتایا تھا۔یونس کے اہل خانہ نے اس کی لاش کو قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم کرانے کی مخالفت میں ہفتہ کے روزتقریباً نو بجے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملنے لکھنؤ پہنچے تھے۔گھروالوں کی مسٹر یوگی سے ملاقات نہیں ہوئی تو ان لوگوں نے وزیر اعلی رہائش کے سامنے خودسوزی کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔

واضح رہے کہ اناؤ ضلع کے بانگرمؤ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر پر ایک لڑکی نے اجتماعی عصمت دری کا الزام لگایا تھا۔ اس معاملے میں کلدیپ جیل میں بند ہے۔ اس معاملے کی مرکزی تفتیشی بيورو (سی بی آئی) کی طرف سے جانچ کی جا رہی ہے۔

 
First published: Aug 26, 2018 11:12 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading