ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اناؤ عصمت دری واقعہ پر سپریم کورٹ سخت، یوپی سے باہر ٹرانسفر کئے جا سکتے ہیں سارے کیس

اترپردیش کے مشہور اناؤ ریپ واقعہ پر سپریم کورٹ نے بیحد سخت رخ اپنایا ہے۔ سپریم کورٹ اس معاملہ سے منسلک سارے کیس اترپردیش سے باہر دہلی ٹرانسفر کر سکتا ہے۔

  • Share this:
اناؤ عصمت دری واقعہ پر سپریم کورٹ سخت، یوپی سے باہر ٹرانسفر کئے جا سکتے ہیں سارے کیس
اترپردیش کے مشہور اناؤ ریپ واقعہ پر سپریم کورٹ نے بیحد سخت رخ اپنایا ہے۔ سپریم کورٹ اس معاملہ سے منسلک سارے کیس اترپردیش سے باہر دہلی ٹرانسفر کر سکتا ہے۔

اترپردیش کے مشہور اناؤ ریپ واقعہ پر سپریم کورٹ نے بیحد سخت رخ اپنایا ہے۔ سپریم کورٹ اس معاملہ سے منسلک سارے کیس اترپردیش سے باہر دہلی ٹرانسفر کر سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے سی بی آئی آفیسر کو طلب کرتے ہوئے ریپ واقعہ کی اسٹیٹس رپورٹ اور ریپ متاثرہ کے سڑک حادثہ کیس میں اب تک ہوئی جانچ کی رپورٹ 12 بجے تک سونپنے کو کہا ہے۔


چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی زیر صدارت سپریم کورٹ کی بینچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ 12 بجے تک سی بی آئی کے کسی ذمہ دار آفیسر کو بلائیں۔ اس پر مہتا نے کہا کہ معاملہ کی جانچ کر رہے سی بی آئی آفیسر لکھنئو میں ہیں۔  دوپہر تک ان کا یہاں آنا مشکل ہے۔ اس لئے معاملہ کی سماعت کل کی جا سکتی ہے۔


حالانکہ چیف جسٹس نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ سی بی آئی ڈائریکٹر سے کہیں کہ جانچ آفیسر سے فون پر پوری جانکاری لیں اور دوپہر 12 بجے تک عدالت کو اب تک ہوئی جانچ کے بارے میں بتائیں۔


سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے تمام کیسیز کو ٹرانسفر کرنے کی سمت میں بات کی۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے سماعت کے دوران یہ واضح کیا کہ اناؤ کیس سے جڑے سبھی معاملے اترپردیش سے باہر شفٹ ہوں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اناؤ سے منسلک تمام معاملات دہلی منتقل کردیئے جائیں گے۔ تاہم ، عدالت نے ابھی اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا ہے۔

 
First published: Aug 01, 2019 11:44 AM IST