உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Elections : اسد الدین اویسی نے سرکاری اعداد و شمار پر مبنی مسلمانوں کی بدحالی پر مشتمل رپورٹ کا کیا اجرا

    UP Elections : اسد الدین اویسی نے سرکاری اعداد و شمار پر مبنی مسلمانوں کی بدحالی پر مشتمل رپورٹ کا کیا اجرا

    UP Elections : اسد الدین اویسی نے سرکاری اعداد و شمار پر مبنی مسلمانوں کی بدحالی پر مشتمل رپورٹ کا کیا اجرا

    UP assembly Elections 2022 : مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے قومی صدر اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi) نے کہا ہے کہ اتر پردیش (Uttar Pradesh) کے مسلمانوں (Muslims) کے ساتھ تمام سیکولر پارٹیوں (Secular Parties) نے نا انصافی کی ہے۔ ڈرا کر، بہلا کر اور لالچ دے کران سے ووٹ حاصل کیا گیا ۔ آزادی کے بعد سے ان کے ساتھ ہر سرکار نے ناانصافی کی ہے۔

    • Share this:
    لکھنو : مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے قومی صدر اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi)  نے کہا ہے کہ اتر پردیش (Uttar Pradesh) کے مسلمانوں (Muslims) کے ساتھ تمام سیکولر پارٹیوں (Secular Parties) نے نا انصافی کی ہے۔ ڈرا کر، بہلا کر اور لالچ دے کران سے ووٹ حاصل کیا گیا ۔ آزادی کے بعد سے ان کے ساتھ ہر سرکار نے ناانصافی کی ہے۔ یہ رپورٹ حکومت اور اپوزیشن پارٹیوں کے لیے آئینہ ہے۔ جس میں وہ اپنا مکروہ چہرہ دیکھ سکتی ہیں۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی آج  ہوٹل فیر فیلڈ، گومتی نگر، لکھنو میں ایک کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ کانفرنس کا انعقاد مجلس کی جانب سے کیا گیا تھا۔ کانفرنس میں ایک رپورٹ کا اجراء بھی کیا گیا ، جس میں اتر پردیش کے مسلمانوں کی صورت حال پر سرکاری رپورٹوں سے حاصل شدہ اعدادو شمار پیش کئے گئے ہیں ۔ یہ تحقیقی رپورٹ امیتابھ کندو ترقی پذیر ممالک کے ممتاز فیلو آف ریسرچ اینڈ انفارمیشن سسٹم، چندر شیکھر پروفیسر آف انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پالپولیشن ممبئی، کرسٹوف جیفرلوٹ پروفیسر آف سوشولوجی اینڈ پالیٹکس، کنگس انسٹیٹیوٹ لندن، اوشا سانیال وزٹنگ پروفیسر ونگیٹ یونیورسٹی نارتھ کورولینا، ولیم جوئے اسسٹنٹ پروفیسر آف پی آر سی انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک گروتھ دہلی، ایس بی سبرامنین پروفیسر آف پاپولیشن اینڈ ہیلتھ اینڈ جغرافیہ ہاورڈ یونیورسٹی، سی روی وزٹنگ پروفیسرسی ای ایس ایس حیدرآباد، ایس وائی قریشی، سابق چیف الیکشن کمشنر آف انڈیانے تیار کی ہے۔

    کانفرنس کے اختتام پر صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے قومی صدر مجلس بیرسٹراسدا لدین اویسی نے کہا کہ اب تک پورے ملک کے مسلمانوں پر سرکاری کمیشنوں کی رپورٹیں آتی رہی ہیں، لیکن یہ رپورٹ خاص اترپردیش سے متعلق ہے، ہم نے یہ رپورٹ اس لئے شائع کی ہے تاکہ سیکولر پارٹیاں اور عوام مسلمانوں کے ساتھ کی گئی نا انصافی سے آگاہ ہوسکیں۔ مسلمانوں کے ساتھ ہر شعبہائے زندگی میں ظلم ہوا ہے، ان کی آبادیوں میں نہ اسکول ہیں، نہ اسپتال اورنہ بینک کی سہولیات ہیں، ان کا ڈراپ آؤٹ ریٹ سب سے زیادہ ہے، ان کے لیے مختص بجٹ بھی نہیں دیا جاتا ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بنگال جیسی ریاست نے 2021 میں مسلمانوں کے لیے 300 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں اور اترپردیش میں صرف 21 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں ۔ مدرسوں کے اساتذہ کو دوسال سے زیادہ عرصے سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ ہم تمام سیکولر پارٹیوں اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس رپورٹ کا مطالعہ کریں،اپنا جائزہ لیں اور اپنے مینی فیسٹو میں اس کے مطابق مسلمانوں کی ترقی کے لیے لائحہ عمل بنائیں اور نا انصافی کا ازالہ کریں،حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلم علاقوں میں زیادہ زیادہ سے اسکول کھولے، بینک قائم کرے، ہجرت کرنے والے مسلمانوں کے لیے اسکیم لائے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اترپردیش ملک کا بڑا صوبہ ہے ، جہاں ملک کی آبادی کا  16 فیصد حصہ رہتا ہے، اس میں مسلمانوں کی آبادی 19.25 فیصد ہے،جب کہ ملک میں مسلمانوں کا تناسب 14.5 فیصد ہے، یہاں ریاستی یونیورسٹیوں اور کالجز کے علاوہ 44 سینٹرل یونیورسٹیاں ہیں، یہاں بنارس ہندو یونیوسٹی، الہٰ آباد یونیورسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دارالعلوم دیوبند جیسے مؤقر ادارے موجود ہیں ، پھر بھی 41 فیصدی مسلمان ناخواندہ ہیں ۔ قومی سطح پر یہ تناسب 34 فیصد ہے۔ 28.49 فیصد مسلمان پرائمری تک اور 16 فیصدمسلمان مڈل تک تعلیم  پاتے ہیں اور4.4 فیصد ہی مسلمان یونیورسٹی تک جاتے ہیں۔

    روزگار کے معاملے میں قومی تناسب 31 فیصد کے مقابلے میں اتر پردیش کا تناسب  25 فیصد ہے اور مسلمانوں کی اکثریت معمولی کام کرکے گزارہ کرتی ہے۔ دولت اور ملکیت کے معاملے میں 2014-15 کی اسٹڈی کے مطابق 58 فیصد مسلمانوں کے پاس زمین نہیں ہے ۔ غربت کے معاملہ میں 2009-10 کا نیشنل سیمپل سروے بتاتا ہے کہ ریاست میں مسلمانوں کی فی خاندان آمدنی محض 752 روپے ہے حالانکہ قومی سطح پر یہ 988 روپے ہے۔

    کانفرنس میں ڈاکٹر وینکٹانارائن موٹو کوری،انجنا دواکر، ڈاکٹر امیر اللہ خان اور مسٹر پی سی موہنن نے رپورٹ کی روشنی میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر یوپی مجلس کے صدر شوکت علی، صدر دہلی مجلس کلیم الحفیظ، قومی ترجمان وارث پٹھان اورعاصم وقار بھی شریک تھے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: