உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لکھنؤ میں دلت لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد آگ لگا دی گئی، لڑکی جھلس کر مر گئی!

    پولیس نے کہا کہ اب اصل ایف آئی آر میں قتل کا الزام شامل کیا جائے گا

    پولیس نے کہا کہ اب اصل ایف آئی آر میں قتل کا الزام شامل کیا جائے گا

    Dalit Rape Victim: پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) دنیش کمار پربھو نے بتایا کہ متاثرہ کی موت لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی اسپتال میں علاج کے دوران ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ رشتہ دار اس کی لاش لے گئے اور پوسٹ مارٹم کے بعد اپنے گاؤں روانہ ہو گئے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow | Mumbai | Jammu | Hyderabad | Gazipur
    • Share this:
      لکھنؤ کے مدھوتنڈہ علاقے میں مبینہ طور پر دو مردوں کے ذریعہ ایک دلت لڑکی کی عصمت دری کی گئی۔ جس کے بعد اسے جلا دیا گیا۔ اس واقعہ کے 12 دن بعد پیر کو لکھنؤ کے ایک اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) دنیش کمار پربھو نے بتایا کہ متاثرہ کی موت لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی اسپتال میں علاج کے دوران ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ رشتہ دار اس کی لاش لے گئے اور پوسٹ مارٹم کے بعد اپنے گاؤں روانہ ہو گئے۔

      افسر نے بتایا کہ 7 ستمبر کو مدھوتنڈہ علاقے کے ایک گاؤں میں راجویر اور تاراچند نامی دو افراد نے 16 سالہ دلت لڑکی کے گھر میں گھس کر اس کی عصمت دری کی۔ اس کے بعد ملزم نے لڑکی پر جلنے والا تیل ڈال کر اسے جلا دیا۔ وہ لکھنؤ میں زیر علاج تھیں۔ پربھو نے کہا کہ پولس نے دو گھنٹے کے اندر دونوں ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر گاؤں میں کافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:


      پولیس نے کہا کہ اب اصل ایف آئی آر میں قتل کا الزام شامل کیا جائے گا اور دونوں ملزمان پر گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: