உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Supreme Court: آج سپریم کورٹ میں جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر سماعت، ’جائیدادوں کو منہدم نہ کرے‘

    سپریم کورٹ ۔ (فائل فوٹو)۔

    سپریم کورٹ ۔ (فائل فوٹو)۔

    پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کی جانب سے شہر کے اٹالا علاقے میں جاوید پمپ کے گھر کو منہدم کرنے کے ایک دن بعد جمعیۃ علماء ہند نے پیر کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

    • Share this:
      سپریم کورٹ (Supreme Court) آج یعنی جمعرات کو جمعیت علمائے ہند (Jamiat-Ulama-i-Hind) کی طرف سے داخل کی گئی ایک عرضی پر سماعت کرے گی، جس میں اتر پردیش حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ریاست میں مظاہروں کے الزام میں ان لوگوں کی جائیدادوں کو مزید منہدم نہ کرے۔ یہ مظاہرے شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی کے بعد شروع ہوئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے دو سابق عہدیداروں نے یہ نازیبا حرکت کی تھی، جو مرکز کے ساتھ ساتھ شمالی ریاست میں بھی اقتدار میں ہے۔

      پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کی جانب سے شہر کے اٹالا علاقے میں جاوید پمپ کے گھر کو منہدم کرنے کے ایک دن بعد جمعیۃ علماء ہند نے پیر کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ جاوید پمپ گزشتہ جمعہ کو علاقے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کا مبینہ مشتبہ ماسٹر مائنڈ بتائے جارہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھئے: بلڈوزر پر روک لگانے کی جمعیت کی عرضی پر سپریم کورٹ کرے گا جمعرات کو سماعت

      تاہم اس اقدام پر کئی ریٹائرڈ ججوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے سوال اٹھایا، جنہوں نے کہا کہ یہ قانون کی حکمرانی کے منافی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ دو منزلہ عمارت جاوید پمپ کی اہلیہ کے نام پر تھی اور اس لیے مسماری خود غیر قانونی تھی۔

      مزید ٖپڑھیں: Big News: اردو کے نامور نقاد پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کا امریکہ میں انتقال



      منگل کو سپریم کورٹ کے تین سابق ججوں، دہلی ہائی کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس، ہائی کورٹ کے دو سابق ججوں اور چھ وکلاء نے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) این وی رمنا کو ایک مشترکہ خط لکھا، جس میں ان سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی گئی کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی حکومت فسادات کے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: