உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اسد الدین اویسی آج میرٹھ میں کریں گے ڈور ٹو ڈور Election Campaign، امیدواروں کیلئے مانگیں گے ووٹ

    UP Election 2022: اے آئی ایم آئی ایم نے جاری امیدواروں کی تیسری فہرست۔

    UP Election 2022: اے آئی ایم آئی ایم نے جاری امیدواروں کی تیسری فہرست۔

    اے آئی ایم آئی ایم AIMIM کے سربراہ اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi) آج دوپہر اتر پردیش کے سیوال خاص اور میرٹھ شہر کے علاقوں میں گھر گھر جا کر اپنے امیدواروں کے لیے ووٹ مانگیں گے۔

    • Share this:
      Uttar Pradesh Assembly Elections 2022: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) اتر پردیش (UP Election 2022) کے اسمبلی انتخابات سے پہلے اپنی پوری طاقت لگا رہی ہے۔ اسی وقت، اے آئی ایم آئی ایم AIMIM کے سربراہ اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi) آج دوپہر اتر پردیش کے سیوال خاص اور میرٹھ شہر کے علاقوں میں گھر گھر جا کر اپنے امیدواروں کے لیے ووٹ مانگیں گے۔ بتا دیں کہ اویسی پیر کو غازی آباد کے ڈاسنا پہنچے تھے اور دھولانہ اسمبلی سیٹ سے اپنی پارٹی کے امیدوار حاجی عارف کے حق میں مہم چلائی اور گھر گھر جا کر عوام سے ووٹ مانگے۔

      دراصل، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی آج یعنی منگل کی دوپہر میرٹھ آئیں گے۔ اس دوران اسد الدین اویسی سیوال خاص اسمبلی اور میرٹھ شہر کے علاقوں میں گھر گھر جا کر مہم انتخابی تشہیر کریں گے۔ اس کے ساتھ وہ موثر ووٹرز سے بھی رابطہ کریں گے۔


      بتا دیں کہ اویسی نے گزشتہ دنوں غازی آباد میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور اکھلیش یادو پر شدید حملہ کیا تھا۔ اس دوران وزیر اعلیٰ کے گرمی کو دور کرنے کے بیان پر اویسی نے کہا کہ وہ جون میں شملہ تو بنا دیتے ہیں، لیکن مئی جون کے مہینے میں لوگوں کو آکسیجن فراہم نہیں کر سکے۔ اس کے ساتھ ہی ایس پی کے قومی صدر اکھلیش یادو پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی میں 45 فیصد مسلمانوں کے ٹکٹ کاٹنے کے بعد اب انہیں دری بچھانے اور جھنڈا اٹھانے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ فی الحال سماج وادی پارٹی میں مسلمانوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس دوران انہوں نے اکھلیش پر مسلم سماج کے لیڈران کے ٹکٹ کاٹنے اور استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے اعظم خان اور عبداللہ اعظم کی بھلائی کے ساتھ  ہیجوہر یونیورسٹی کے دوبارہ شروع ہونے کی دعا کی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: