ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اپنے ہی سروے کے بعد بی جے پی میں افراتفری ، یوپی میں وزیر اعلی کے عہدہ کا امیدواراتارنے کا فیصلہ

اگلے سال یوپی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے اہم فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ یوپی کے انتخابی میدان میں وزیر اعلی کے عہدے کے امیدوار کے ساتھ اترے گی اور پارٹی کے چہرے کا اعلان اکتوبر کے آخر میں کر دیا جائے گا

  • Pradesh18
  • Last Updated: Aug 26, 2016 05:04 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اپنے ہی سروے کے بعد بی جے پی میں افراتفری ، یوپی میں وزیر اعلی کے عہدہ کا امیدواراتارنے کا فیصلہ
اگلے سال یوپی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے اہم فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ یوپی کے انتخابی میدان میں وزیر اعلی کے عہدے کے امیدوار کے ساتھ اترے گی اور پارٹی کے چہرے کا اعلان اکتوبر کے آخر میں کر دیا جائے گا

لکھنؤ : اگلے سال یوپی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے اہم فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ یوپی کے انتخابی میدان میں وزیر اعلی کے عہدے کے امیدوار کے ساتھ اترے گی اور پارٹی کے چہرے کا اعلان اکتوبر کے آخر میں کر دیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے اس معاملہ پر دو الگ سروے کرائے تھے۔ دونوں ہی سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ پارٹی کو وزیر اعلی کے چہرے کے ساتھ ہی میدان میں اترنا چاہئے ، جس کے بعد پارٹی نے یہ اہم فیصلہ کیا ۔ سروے کے بعد آر ایس ایس کے عہدیداروں اور بی جے پی کے صدر امت شاہ کے درمیان بھوپال میں ملاقات میں اس پر اتفاق رائے قائم ہوا ۔ لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ یہ چہرہ کون ہوگا۔

ادھر یوپی میں انتخابی بساط بچھاتے ہوئے پارٹی نے دوسری جماعتوں کے لیڈروں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنے کا کام شروع کر دیا ہے ۔ ایک طرف جہاں آج ایس پی ممبر اسمبلی شیام پرکاش بی جے پی میں شامل ہوئے تو وہیں سہارنپور کے کانگریس رکن اسمبلی پردیپ چودھری، رائے بریلی کے سابق رکن اسمبلی شوگیش لودھی نے بھی بی جے پی جوائن کیا۔

First published: Aug 26, 2016 05:04 PM IST