உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عدالت کے فیصلے کے بعد 3400 شکشا متروں کااپنی مرضی سے مرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ

    لکھنؤ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کا پونے دو لاکھ شکشامتروں کے معاون ٹیچر کے عہدے پر کی گئی تعیناتی منسوخ کرنے کے کل کے حکم کے بعد آج تین ہزار چار سو شکشا متروں نے صدر کو خط لکھ کر اپنی مرضی سے مرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

    لکھنؤ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کا پونے دو لاکھ شکشامتروں کے معاون ٹیچر کے عہدے پر کی گئی تعیناتی منسوخ کرنے کے کل کے حکم کے بعد آج تین ہزار چار سو شکشا متروں نے صدر کو خط لکھ کر اپنی مرضی سے مرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

    لکھنؤ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کا پونے دو لاکھ شکشامتروں کے معاون ٹیچر کے عہدے پر کی گئی تعیناتی منسوخ کرنے کے کل کے حکم کے بعد آج تین ہزار چار سو شکشا متروں نے صدر کو خط لکھ کر اپنی مرضی سے مرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      لکھنؤ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کا پونے دو لاکھ شکشامتروں کے معاون ٹیچر کے عہدے پر کی گئی تعیناتی منسوخ کرنے کے کل کے حکم کے بعد آج تین ہزار چار سو شکشا متروں نے صدر کو خط لکھ کر اپنی مرضی سے مرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔


      ہائی کورٹ کے حکم سے مایوس شکشا متروں نے آج پوری ریاست میں احتجاج کر حکومت مخالف نعرے لگائے اور بریلی کے 3400 شکشا متروں نے صدر کے نام بھیجے گئے میمورنڈم میں اپنی مرضی سے مرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔شکشا متروں نے ریاست کے مختلف اضلاع میں احتجاج کر اتر پردیش کی حکومت کی زبردست انداز میں مذمت کی۔ اس درمیان ریاست میں کم از کم آٹھ شکشا متروں کا دل کا دورہ پڑنے اور خودکشی کی وجہ سے موت کی اطلاع ہے۔


      بریلی سے موصولہ رپورٹ کے مطابق الہ آباد ہائی کورٹ کے کل کے حکم کے بعد شکشا متروں نے آج یہاں ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کی اور انہیں صدر کے نام میمورنڈم سونپا۔
      میمورنڈم میں 3400 شکشا متروں نے اپنی مرضی سے مرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ فیض آباد، آگرہ، میرٹھ سمیت ریاست میں متعدد مقامات پر شكشامتروں کی
      طرف سے احتجاج کیا گیا۔


      آگرہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شکشا متروں نے مرکزی وزیر مملکت رام شنكر کٹھیریاکی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا۔ اس کے علاوہ لکھیم پور کھیری، شاہ جہاں پور اور لکھنؤ میں بھی شکشا متروں نے احتجاج کیا۔ احتجاج کر رہے شکشا متروں نے کل سے اسکولوں میں کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ریاست کے قنوج، ایٹہ، فیض آباد، غازی پور اور سون بھدر میں کم از کم آٹھ شکشا متروں کا دل کا دورہ پڑنے اور دیگر وجوہات سے موت ہونے کی اطلاع ہے۔ شکشا متروں کو نازک حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔


      ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ریاستی حکومت نے شکشا متروں کے احتجاج کے پیش نظر ریاست بھر میں قانون اور نظام برقرار رکھنے کے لئے سخت چوکسی برتنے کی  پہلے ہی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔

      First published: