ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مبینہ لو جہاد کے خلاف ہندو جاگرن منچ نے کھولا محاذ، بڑی مہم شروع کرنے کا کیا فیصلہ

ہندو جاگرن منچ کا کہنا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) میں آنے والے لو میریج کے معاملوں پرہندو جاگرن منچ اپنی سخت نظر رکھے گا۔

  • Share this:
مبینہ لو جہاد کے خلاف  ہندو جاگرن منچ نے کھولا محاذ، بڑی مہم شروع کرنے کا کیا فیصلہ
الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) میں آنے والے لو میریج کے معاملوں پرہندو جاگرن کی سخت نظر

الہ آباد۔’’یو پی میں الہ آباد لو جہاد کرنے والوں کے لئے بڑی پناہ گاہ بن گیا ہے ۔ لو جہاد کے بڑھتے واقعات نے ہمیں اس بات پرمجبورکیا ہے کہ اب ہم اس پر لگام لگائیں۔ اس  کام کے لئے اہم نے مناسب تیاری کر لی ہے ‘‘ ان خیالات کا اظہار آر ایس ایس کاشی پرانت کے صدر دفتر میں ہونے والی ہندو جاگرن منچ کی ایک اہم میٹنگ کے بعد کیا گیا ۔ اس میٹنگ میں مبینہ لو جہاد کے خلاف ہندو جاگرن منچ نے ریاست گیر پیمانے پرایک بڑی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہندو جاگرن منچ کا کہنا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ  (Allahabad High Court) میں آنے والے لو میریج کے معاملوں پرہندو جاگرن منچ اپنی سخت نظر رکھے گا۔ الہ آباد میں آر ایس ایس کے  کاشی پرانت  ہیڈکواٹر پر ہونے والی  ہندو جاگرن منچ کی میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ میٹنگ کی صدارت ہندو جاگرن منچ کاشی پرانت کے صدر دنیش نارائین سنگھ نے کی ۔ دنیش نارائن سنگھ کا کہنا تھا کہ الہ آباد ہائی کورٹ میں لومیریج کے لئے بڑی تعداد میں جوڑے آتے ہیں  جن کو بہت آسانی سے عدالت کی طرف سے شادی کی اجازت مل جاتی ہے۔


دنیش نارائین سنگھ کا کہنا ہے کہ ہندو جاگرن منچ الہ آباد ہائی کورٹ میں آنے والے ایسے معاملوں پر اپنی نگاہ رکھے گا ۔ انہوں نے مذید  کہا کہ ہندو جاگرن منچ ایسے وکلا ء پر ابھی اپنی نظر رکھے گا جو لؤ میریج کے نام پراس طرح کی شادی کرانے میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ ہندو جاگرن منچ  کا کہنا ہے کہ ایسی لو میریج کے اعداد و شمار جمع کئے جائیں گے جس میں  ہندو لڑکی نے کسی مسلم لڑکے سے شادی کی ہو۔


ہندو جاگرن منچ کا کہنا ہے کہ  شادی کے لئے الہ آباد ہائی کورٹ میں آنے والے ایسے  جوڑوں پر نگاہ رکھی جائے گی جن کا تعلق مختلف مذاہب سے ہے ۔ میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ ہائی کورٹ میں پریکٹس کرنے والے ان وکلاء کی بھی نشان دہی کی جائے گی جو لؤ میریج کرانے میں اپنی قانونی خدمات فراہم کر رہے ہیں ۔واضح رہے کہ اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد بھی متعدد بار تبدیلی مذہب اور مبینہ لؤ جہاد کے خلاف اپنے  سخت موقف کا اظہار کر چکا ہے ۔ اکھاڑا پریشد نے اپنے گذشتہ اجلاس میں  لؤ جہاد اور  تبدیلی مذہب کے خلاف قانون  وضع کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا ۔
Published by: sana Naeem
First published: Sep 28, 2020 07:53 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading